العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٣٠ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةَ الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ قَالُوا : يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ: «لَا يُتِمُّ رُكُوْعَهَا وَلَا سُجُوْدَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 885 (unverified) 92% confidence
Mishkat (candidate) 885
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں نماز کے چور کو مال کے چور سے اس لئے بدتر قرار دیا گیا ہے کہ مال کا چرانے والا بسا اوقات چوری سے دنیاوی فائدہ حاصل کر لیتا ہے پھر صاحب مال سے یا درگذر کروا لیتا ہے یا اگر سزا میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ عذاب اخروی سے نجات پا لیتا ہے، اس کے برخلاف نماز کا چور نماز کی وجہ سے جس ثواب کا مستحق ہو سکتا تھا اس سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ ثواب کے بجائے عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے اس طرح آخرت میں سوائے نقصان اور عذاب کے کچھ بھی اس کے ہاتھ نہیں آتا۔ (یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)