العربية
Typed, pending editorial approval
١٦٣٤ - وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «أَقِمْ الصَّلَاةَ يَا بِلَالُ، أَرِحْنَا بِهَا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4985 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1253 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 1253
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے بلکہ میرا مطلب یہ تھا کہ نماز شروع ہوجاتی، دنیا کے مشاغل سے بچ جاتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز و نیاز کرنے میں راحت حاصل ہوتی۔ یہ میرا مطلب تھا لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ غلط سمجھا ہے، میں جس لحاظ سے کہا تھا اسی لحاظ سے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اکثر فرمایا ہے۔ بلال! نماز کی تکبیر کہو! نماز شروع ہوجائے تو ہم کو نماز میں اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے میں راحت ملتی ہے (اسی وجہ سے حضور نے فرمایا ہے کہ نماز میں مجھے جو لطف ملتا ہے اس سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، خزانہ کے ان صاحب نے جو کہا تھا اس سے ان کی مراد یہی ہے کہ لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ مناسب نہیں۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)