Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1705

بَابُ قِيَامٍ شَهْرِ رَمَضَانَ / " فَصْلٌ "(۲)

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ قِيَامٍ شَهْرِ رَمَضَانَ / " فَصْلٌ "(۲)

Zujajat al-Masabih 1705Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٠٥ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ1 قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه) لَيْلَةٌ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعُ مُتَفَرَّقُوْنَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ، فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهَطُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِي وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ، ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيُّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ2 هَذِهِ، وَالَّتِي تَنَامُوْنَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُوْمُوْنَ، يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُوْمُوْنَ أَوْلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2010 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Abdur-Rahman ibn Abd Al-Qari

(1) The statement "Abdur-Rahman ibn Abd Al-Qari" is mentioned by At-Tibi. The name "Al-Qari" refers to the tribe of Qarah, a branch of the tribe of Adhal. The author stated that Abdur-Rahman was a prominent Tabi'i (follower) from Madinah. It is said that he was born during the time of the Prophet (ﷺ), but he did not hear or see him. Al-Waqidi listed him among the companions born during the Prophet's lifetime. This is mentioned in Al-Maraqat.

Note 2

What an excellent innovation this is

(2) The statement "What an excellent innovation this is" was commented on by Ibn Taymiyyah: "As for Taraweeh, it is not an innovation in Shariah but a Sunnah based on the words and actions of the Prophet (ﷺ). He said: 'Allah has made fasting in Ramadan obligatory upon you, and I have made its night prayers a Sunnah.' Praying it in congregation is not an innovation but a Sunnah in Shariah. The Prophet (ﷺ) even prayed it in congregation for two or three nights and said: 'When a man prays with the Imam until he leaves, it is recorded for him as if he prayed the entire night.' This encourages praying Taraweeh behind the Imam. This is stronger than it being merely a Sunnah. People used to pray it in congregation in the mosque during his time, and he approved of it, and his approval is a Sunnah. As for Umar's statement, 'What an excellent innovation this is,' the term 'innovation' here is linguistic, as an action supported by the Quran or Sunnah is not an innovation in Shariah, even if it is called an innovation linguistically. The Prophet's (ﷺ) statement, 'Every innovation is misguidance,' does not refer to every new action but to actions introduced that are not part of his Shariah. During his time, people prayed Taraweeh in congregation and individually. On the third or fourth night, when they gathered, he said: 'What prevented me from coming out to you was the fear that it would be made obligatory upon you, so pray in your homes.' This indicates that the reason for not continuing was the fear of it becoming obligatory. Thus, during Umar's time, when he gathered them behind one Imam and lit the mosque, this new arrangement was called an innovation linguistically, not in Shariah, as the Sunnah already supported it, and the fear of obligation had ceased with the Prophet's (ﷺ) death. This is similar to the compilation of the Quran and other matters."

Note 1

قوله

(۱) قوله: وعن عبد الرحمن بن عبدٍ : بالتنوين قاله الطيبي. وقوله: «القاري بالياء المشددة نسبة إلى قبيلة قارة، وهم عضل، والديش قال المؤلف والمشهور أن عبد الرحمن تابعي من أجلة تابعي المدينة. يقال: ولد على عهد رسول الله ، وليس له منه سماع ولا رؤية، وعده الواقدي من الصحابة فيمن ولد على عهد رسول الله ﷺ. كذا في المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: نعمت البدعة هذه: قال ابن تيمية: أما التراويح فليست ببدعة في الشريعة، بل سنة بقول رسول الله ﷺ وفعله؛ فإنه قال: الله فرض عليكم صيام رمضان وسننت لكم قيامه ولا صلاتها جماعة بدعة بل سنة في الشريعة، بل قد صلاها رسول الله ﷺ في الجماعة ليلتين بل ثلاثا، وقال: إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة لما قام بهم حتى حسبوا أن يفوتهم الفلاح رواه أهل السنن. وفي هذا ترغيب لقيام رمضان خلف الإمام. وذلك أوكد من أن تكون سنة، وكان الناس يصلونها جماعات في المسجد على عهده ، ويقرهم، وإقراره سُنّة منه . وأما قول عمر الله: «نعمت البدعة هذه» فالتسمية لغوية؛ لأن العمل الذي دل عليه الكتاب أو السنة ليس ببدعة في الشريعة، وإن سمي بدعة في اللغة. وقد علم أن قول النبي ﷺ : كل بدعة ضلالة، لم يرد به كل عمل مبتدأ، وإنما أراد ما ابتدأ من الأعمال التي لم يشرعها هو . وإذا كان كذلك فقد كانوا يصلون قيام رمضان على عهده جماعةً وفرادى، وقد قال لهم في الليلة الثالثة أو الرابعة لما اجتمعوا : إنه لم يمنعني من الخروج إليكم إلا كراهة أن يفرض عليكم فصلوا في بيوتكم فعلل عدم الخروج خشية الافتراض. فعلم بذلك أن المقتضي قائم، وأنه لولا خوف الافتراض الخرج إليهم، فلما كان في عهد عمر جمعهم على قارئ واحد، وأسرج في المسجد، فصارت هذه الهيئة - وهي اجتماعهم في المسجد على إمام واحد مع الاسراج - عملا لم يعملوا به من قبل، فسمى بدعة؛ لأنه في اللغة سمي بذلك. ولم يكن بدعة شرعية؛ لأن السنة اقتضت أنه عمل صالح لولا خوف الافتراض، وقد زال بموته ، فانتفى المعارض. فصار هذا كجمع المصحف وغيره.

Note 1

(یہاں حضرت عمر نے نفس تراویح کو بدعت نہیں فرمایا، اور نہ تراویح کی جماعت کو، کیونکہ تراویح اور تراویح باجماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قولاً اور فعلاً ثابت ہے تو حضرت عمر نے مسلمانوں کو مسجد نبوی میں ایک ہی امام کے پیچھے مہینہ بھر تراویح پڑھنے کا جو حکم دیا اور اس کو ہمیشہ کے لئے جاری فرمایا، اسی کو آپ نے ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ بِدْعَةٌ حَسَنَةٌ“ فرمایا، واضح ہو کہ حضرت عمر کے تراویح باجماعت کو ایک ہی امام کے پیچھے جاری کر دینے سے حقیقت میں مسلم کی اس حدیث کی تعمیل ہوئی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس نے میرے بعد کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس اچھے طریقہ کے ایجاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جو اس طریقہ پر عمل کرتے رہیں گے۔ ان سب کا بھی ثواب ملتا رہے گا۔ اسی لئے صاحب مرقات نے فرمایا ہے: چونکہ حضرت عمر نے ایک امام کے پیچھے تراویح باجماعت کو قائم کیا اور اس کو عام رواج دے دیا تو حضرت عمر کو اس کے ایجاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ اور قیامت تک جو لوگ تراویح پڑھتے رہیں گے۔ ان سب کا ثواب بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملتا رہے گا اور اس سے تراویح پڑھنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ (تراویح جس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک امام کے پیچھے سب مسلمانوں کو جمع فرمایا تھا اس کے پڑھنے کے دو وقت ہیں: ایک سونے کے بعد اٹھ کر آخر رات میں تراویح ادا کرنا، دوسرے سونے سے پہلے اوّل رات تراویح ادا کر کے سو رہنا۔ ان دو وقتوں میں سے سونے کے بعد اٹھ کر تراویح پڑھنا افضل ہے) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ تم اوّل شب تراویح پڑھ کر سو رہتے ہو، حالانکہ اوّل شب سو کر آخر شب تراویح پڑھنا اوّل شب میں تراویح پڑھنے سے افضل ہے (مگر آخر شب میں اٹھ کر تراویح پڑھنے کا بھروسہ نہ ہونے سے اوّل شب تراویح پڑھنے پر عمل درآمد ہے)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔) ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک امام کے پیچھے تراویح باجماعت کو ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هٰذِهِ“ فرمایا۔ اس بارے میں علامہ ابن تیمیہ نے فرمایا ہے کہ تراویح شریعت میں بدعت نہیں ہے بلکہ تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول اور عمل کی وجہ سے سنت ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر رمضان کے روزے فرض قرار دئے ہیں اور میں تم لوگوں پر تراویح کو سنت قرار دیتا ہوں۔ اور اسی طرح تراویح باجماعت بھی بدعت نہیں ہے بلکہ تراویح باجماعت بھی شریعت میں سنت ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو یا تین راتیں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھائے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز پڑھے تو ایسے شخص کے لئے تمام رات نماز پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات اتنی دیر تک تراویح پڑھائے کہ صحابہ کرام کو سحری کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہوگیا تھا۔ اس حدیث کی روایت اصحاب سنن نے کی ہے، اور اس حدیث میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کی بھی ترغیب دلائی گئی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تراویح باجماعت سنت مؤکدہ ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام مسجد نبوی میں مختلف جماعتوں کے ساتھ تراویح باجماعت پڑھا کرتے تھے، اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صحابہ کے اس عمل کو برقرار رکھتے اور ممانعت نہیں فرماتے تھے اور حضور کا صحابہ کے عمل کو برقرار رکھنا باجماعت تراویح کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح باجماعت کو ”نعمت البدعة“، یعنی بدعت حسنہ فرمایا تو یہ لغت اور محاورہ کے اعتبار سے ہے نہ کہ حقیقی طور پر، اس لئے کہ ہر ایسا عمل جس کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں ہو، اس کو شریعت میں بدعت نہیں کہا جاتا۔ اگرچہ کہ اس کو عام محاورہ یا لغت کے اعتبار سے بدعت کہہ دیا جائے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ (ہر بدعت گمراہی ہے) سے مراد ہر وہ عمل بدعت نہیں جو نیا ہو، بلکہ اس ارشاد سے صرف ایسا نیا کام بدعت ہے جو احکام شرعیہ کے خلاف ہو (جیسے معتزلہ اور قدریہ وغیرہ کے عقائد) تو جب ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ سے حضور کا منشا معلوم ہوگیا اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اور آخری دہے میں تیسری شب یا چوتھی شب صحابہ کرام تراویح پڑھنے کے لئے جمع ہوگئے تو حضور علیہ الصلوة والسلام باہر تشریف نہیں لائے۔ اور تشریف نہ لانے کی وجہ یہ فرمائی کہ میں آج محض اس وجہ سے باہر نہیں نکلا کہ کہیں تراویح بھی تم پر فرض نہ ہوجائے، اس لئے تم تراویح کو اپنے اپنے گھروں میں پڑھ لیا کرو۔ یہاں حضور کے اس ارشاد سے صاف طور پر معلوم ہوگیا کہ حضور کا تیسری یا چوتھی شب تراویح کے لئے باہر تشریف نہ لانا تراویح کے فرض ہوجانے کے خوف سے تھا تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فرضیت کا خطرہ باقی تھا اور اگر فرضیت کا خوف نہ ہوتا تو حضور ﷺ باہر تشریف لاتے اور تراویح پڑھاتے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو آپ نے ایک ہی امام کے پیچھے سب کو تراویح باجماعت کے لئے جمع کردیا اور مسجد میں روشنی کروائی تو تراویح کی یہ مخصوص صورت یعنی مسجد میں ایک امام کے پیچھے سب کا جمع ہونا اور روشنی کروانا ایسا عمل ہوا جس کو صحابہ کرام نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا اسی لئے حضرت عمر نے اس عمل کا نام بدعت رکھا، اس لئے کہ یہ لغت اور محاورہ کے لحاظ سے تو بدعت ہے لیکن شریعت میں بدعت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ از روئے سنت یہ عمل صالح ہے کیونکہ اب فرضیت کا اندیشہ دور ہوگیا اور فرضیت کا یہ اندیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات مبارک سے باقی نہ رہا۔ اس طرح ثابت ہوا کہ تراویح باجماعت کے سنت ہونے کے معارض اور مانع کوئی چیز نہ رہی تو تراویح باجماعت قرآن مجید کے جمع کرنے کی طرح بدعت حسنہ قرار پائی۔