العربية
Typed, pending editorial approval
١٩٢٣ - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مِنَ الْعَجْلَةِ، وَثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَصَلَّى كَمَا تُصَلُّوْنَ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ. وَرَوَى الْبُخَارِيُّ نَحْوَهُ.
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حِبَّانَ: وَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاتِكُمْ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْحَاكِمِ نَحْوَ ابْنِ حِبَّانَ، وَقَالَ الْحَاكِمُ : إِنَّهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَأَقَرَّ عَلَيْهِ الذَّهَبِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1040 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
گئے قربان نبی امّی پر کہ کسوف شمس سے خوف زدہ ہو کر ہم کو سینکڑوں برس پہلے وہ بات بتلائے جو آج سائنس دان بڑی تحقیق کے بعد کہتے ہیں کہ کسوف شمس کے وقت کشش سیارگان متاثر ہونے سے نظام شمسی کے درہم برہم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے کسوف شمس کے وقت دنیا تباہی کے کنارے آ جاتی ہے نظام شمسی میں اگر ایسے ہی خلل پڑ جائے تو سارے کُرّے آپس میں ٹکرائیں گے اور دنیا ختم ہو جائے گی، پھر جب کسوف شمس کا انجلاء ہونے لگتا ہے تو کشش سیارگان بحال ہو جاتی ہے اور نظام شمسی اپنے حال پر قائم ہو جاتا ہے اور دنیا تباہی سے بچ جاتی ہے اسی وجہ سے کسوف شمس کے وقت حضور بے حد خوف زدہ تھے) راوی کہتے ہیں کہ اسی خوف کی حالت میں نماز کسوف (ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ) ایسے ہی ادا فرمائے جیسے تم اور نمازوں کو (ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں سے) ادا کرتے ہو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے، امام بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Note 2
(اس لئے بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح یہ حدیث بھی صحیح ہے)