العربية
Typed, pending editorial approval
٢١٠٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى2 فَصَفَّ 3 بِهِمْ، وَكَبَّرَ4 أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَرَوَى ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ تُوْفِّيَ، فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَصَفُوْا خَلْفَهُ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَهُمْ لَا يَظُنُّوْنَ إِلَّا أَنَّ جَنَازَةً بَيْنَ يَدَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَوْانَةَ: فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، وَنَحْنُ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّ الْجَنَازَةَ قُدَّامَنَا.
وَرَوَى الطَّبَرَانِي فِي مُعْجَمِهِ الْأَوْسَطِ» عَنْ أَبِي أُمَامَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ بِتَبُوْكٍ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيَّ مَاتَ بِالْمَدِينَةِ أَتُحِبُّ أَنْ تُطْوَى لَكَ الْأَرْضُ، فَتُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، فَضَرَبَ بِجَنَاحِهِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فِي كُلِّ صَفٌ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَكٍ، ثُمَّ رَجَعَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ لا لِجِبْرِيلَ له: «بِمَ أَدْرَكَ هَذَا؟ قَالَ: بِحُبِّهِ سُوْرَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهِبًا، وَقَائِمًا وَقَاعِدًا، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1245 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 951a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (8)
Note 2
(2) His statement: "The prayer ground..." This is evidence for the Hanafi and Maliki schools in prohibiting praying over the deceased in the mosque, as the Prophet (ﷺ) took them to the prayer ground, lined them up, and prayed over him there. If it were permissible to pray over the deceased in the mosque, he would not have taken them to the prayer ground. This is mentioned in Umdat al-Qari.
Note 3
(3) His statement: "He lined them up..." Ash-Shafi'i held that it is permissible to pray over an absent person (gha'ib). According to Abu Hanifah, it is not permissible and is invalid. As for the Prophet's prayer over Negus, it was because his bier was raised for him so that he could see it in his presence. Thus, the prayer of those behind him was over a deceased person whom the Imam could see and was present for, even if the followers could not see him. This does not prevent following the Imam. Al-Hafiz Ibn Hajar al-Asqalani, quoting Asbab an-Nuzul by Al-Wahidi without a chain, reported from Ibn Abbas that the Prophet (ﷺ) was shown Negus's bier, so he saw it and prayed over him. In Maghazi al-Waqidi: When the people met at Mu'tah, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the pulpit, and the distance between him and Syria was shortened for him so that he could see their battlefield. He said, "Zayd ibn Harithah took the flag and fought until he was martyred." The Prophet (ﷺ) prayed over him and supplicated for him, saying, "Seek forgiveness for him; he has entered Paradise, running." Then Ja'far ibn Abi Talib took the flag and fought until he was martyred. The Messenger of Allah (ﷺ) prayed over him and supplicated for him, saying, "Seek forgiveness for him; he has entered Paradise and is flying there with two wings wherever he wishes." This indicates that many of his companions, including the most beloved to him, such as the reciters of the Qur'an, died, and it is not reported that he prayed over them despite his eagerness to do so. He even said, "None of you should die without informing me, for my prayer over him is a mercy for him." This is the summary of what is mentioned in Al-Mirqat, Ad-Durr al-Mukhtar, Radd al-Muhtar, Sharh al-Munyah, and Fath al-Qadir.
Note 4
(4) His statement: "He performed four takbirs..." This indicates that the funeral prayer consists of four takbirs. This is mentioned in Umdat al-Qari.
Note 2
(٢) قوله: المصلي: وفيه حجة للحنفية والمالكية في منع الصلاة على الميت في المسجد؛ لأنه خرج بهم إلى المصلى، فصف بهم، وصلى عليه، ولو ساغ أن يصلي عليه في المسجد لما خرج بهم إلى المصلى. قاله في «عمدة القاري.
Note 3
(۳) قوله: فصف بهم إلخ ذهب الشافعي إلى جواز الصلاة على الغائب. وعند أبي حنيفة لا تجوز، ولا تصح. وأما صلاته على النجاشي؛ لأنه رفع سريره له حتى رآه بحضرته، فتكون صلاة من خلفه على ميت يراه الإمام ويحضره دون المأمومين، وهذا غير مانع من الاقتداء. وذكر الحافظ ابن حجر العسقلاني ناقلا عن أسباب النزول للواحدي بغير إسناد عن ابن عباس قال: كشف للنبي ﷺ عن سرير النجاشي حتى رآه، وصلى عليه. وفي مغازي الواقدي: لما التقى الناس بموتة جلس رسول الله له على المنبر، وكشف له ما بينه وبين الشام، فهو ينظر إلى معتركهم. فقال : أخذ الراية زيد بن حارثة ، فمضى حتى استشهد، وصلى عليه ودعا له، وقال: استغفروا له دخل الجنة وهو يسعى، ثم أخذ الراية جعفر بن أبي طالب، فمضى حتى استشهد، فصلى عليه رسول الله ﷺ ودعا له، وقال: استغفروا له دخل الجنة، فهو يطير فيها بجناحين حيث شاء. ويدل على ذلك أنه توفي خلق كثير من أصحابه من أعزهم عليه القراء، ولم ينقل عنه أنه صلى عليهم مع حرصه على ذلك، حتى قال: لا يموتن أحد منكم إلا آذنتموني به؛ فإن صلاتي عليه رحمة له. هذا حاصل ما في المرقاة» و«الدر المختار» ورد المحتار» وشرح «المنية» و «فتح القدير».
Note 4
(٤) قوله: وكبر أربع تكبيرات يدل على أن تكبيرات الجنازة أربع. كذا في «عمدة القاري».
Note 1
ادا فرمائے اگر نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنا جائز ہوتا تو مسجد ہی میں حضور نجاشی کی نماز جنازہ ادا فرماتے، اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔) جب حضور سب صحابہ کو لے کر عیدگاہ میں نجاشی کی نماز جنازہ ادا فرما رہے تھے تو حضور پہلے صفیں درست فرمائے، (بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرما رہے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ حضور کو کشف ہو گیا تھا اور نجاشی کا جنازہ حضور کے سامنے آ گیا تھا اور حضور جنازہ کو دیکھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اب رہا یہ شبہ کہ صحابہ جو مقتدی تھے ان کو نجاشی کا جنازہ نظر نہیں آ رہا تھا تو پھر صحابہ کی نماز جنازہ کیسے ادا ہو گئی، اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ امام کے سامنے جنازہ کا ہونا ضروری ہے، مقتدیوں کو بھی جنازہ نظر آنا ضروری نہیں، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مقتدیوں کو بھی جنازہ نظر آنا ضروری نہیں ہے۔ امام کا جنازہ کو دیکھنا کافی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو امام تھے، جنازہ کا نظر آنا کافی تھا، اس لئے نجاشی کی نماز جنازہ غائبانہ نہیں ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجاشی کا جنازہ نظر آ رہا تھا جو کہا گیا ہے اس پر دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ روایت ہے جس کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ واحدی کی کتاب اسباب النزول سے نقل کیا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے نجاشی کا جنازہ بطور کشف ظاہر ہو گیا تھا اور حضور جنازہ کو آنکھوں سے دیکھ کر نماز جنازہ ادا فرمائے ہیں اور حضور نا غائبانہ نماز جنازہ نہیں ادا فرمائے ہیں۔ نجاشی کے جنازہ کا حضور کو جو کشف ہوا تھا، یہ کوئی نئی بات نہیں تھی اور مواقع پر بھی حضور کو ایسا کشف ہوا ہے، جیسا کہ علامہ واقدی نے اپنی مغازی میں لکھا ہے کہ جب ملک شام میں جنگ موتہ ہو رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنگ کے پورے منظر کا کشف ہو گیا تھا، آپ منبر پر تشریف فرما ہو کر ارشاد فرما رہے تھے کہ میں موتہ کا میدان جنگ اس وقت دیکھ رہا ہوں، دیکھو زید بن حارثہ اس وقت سپہ سالار ہو گئے ہیں اور پرچم اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں اور کفار سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، زید بن حارثہ کا جنازہ اس وقت میرے سامنے ہے یہ فرما کر حضورؐ حضرت زید کی نماز جنازہ پڑھے اور دعاء مغفرت فرمائے اور یہ بھی فرمائے کہ تم بھی ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ دیکھو وہ جنت میں داخل ہو چکے ہیں اور خوش خوش جنت میں پھر رہے ہیں۔ پھر حضور فرمائے دیکھو اب پرچم کو جعفر بن ابی طالب سنبھالے ہیں اور بہت گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے، وہ بھی کفار سے لڑتے ہوئے کفار کے ہاتھوں شہید ہو گئے ہیں، ان کا جنازہ بھی میرے سامنے ہے۔ یہ فرما کر حضور ؐ حضرت جعفر کی نماز جنازہ ادا فرمائے اور ان کے لئے دعاء مغفرت فرمائے اور یہ بھی فرمائے کہ تم بھی ان کے لئے دعاء مغفرت کرو، وہ بھی جنت میں داخل ہو چکے ہیں اور میدان جہاد میں ان کے جو دونوں بازو کاٹ دئے گئے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے ان کو دو بازو عطا فرمائے ہیں اور ان کے ذریعہ جنت میں وہ جہاں چاہیں اڑ رہے ہیں، حضور کا نجاشی کے جنازہ کو دیکھ کر نماز جنازہ اداء فرمانے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ اور بھی صحابہ مثلاً قراء وغیرہ جو دور دراز مقام پر شہید ہوئے یا وفات پائے ان کے جنازوں کا حضور کو کشف نہیں ہوا تھا، اس لئے آپ ان کی نماز جنازہ ادا نہیں فرمائے اور اگر آپ ان کی نماز جنازہ ادا فرماتے تو غائبانہ نماز جنازہ ہوتی، اس لئے آپ ان صحابہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا نہیں فرمائے، اس وجہ سے کہ آپ غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، حالانکہ حضور کو صحابہ کی نمازِ جنازہ پڑھنے کا بے حد خیال تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی انتقال کر جائے تو مجھے اس کی اطلاع کرنا اس لئے کہ میرا ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا ان کے لئے رحمت کا باعث ہے، اس کے باوجود (حضور کا ان صحابہ پر جو دور دراز مقام پر وفات پائے ہوں، غائبانہ نمازِ جنازہ نہ پڑھنا اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ غائبانہ نمازِ جنازہ جائز نہیں ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔) راوی کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفیں درست فرما لئے تو چار تکبیروں کے ساتھ (نجاشی کی) نمازِ جنازہ ادا فرمائے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ نمازِ جنازہ کی چار ہی تکبیریں ہیں اور یہی مذہب حنفی ہے) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Note 2
علیہ الصلوٰۃ والسلام زمین پر اپنے پر مارے (اور زمین سمٹ گئی اور معاویہ بن معاویہ مزنی) کا جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاویہ مزنی کی نماز جنازہ پڑھائے اور آپ کے پیچھے (صحابہ کرام کے علاوہ) فرشتوں کی دو صفیں بھی نماز جنازہ میں شریک تھیں، اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت فرمائے کہ معاویہ مزنی کو اتنا بڑا مرتبہ کس وجہ سے ملا، تو جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمائے کہ معاویہ مزنی کو یہ مرتبہ اس وجہ سے ملا ہے کہ وہ سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ سے (اس قدر) محبت رکھتے تھے کہ اس سورت کو آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں پڑھا کرتے تھے۔ (ابن حبان، ابوعوانہ اور طبرانی کی ان تینوں روایتوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی دور دراز مقام پر وفات پانے والے صحابی کی نماز جنازہ ادا، فرمائے ہیں تو جنازہ حضور کے سامنے ہو جاتا تھا اور حضور جنازہ کو دیکھ کر نماز جنازہ ادا، فرماتے تھے اور ایسے صحابہ جو دور دراز مقام پر وفات پائے اور ان کا جنازہ حضور کے سامنے نہ آتا، تو آپ ان کی نماز جنازہ غائبانہ نہیں ادا، فرمائے۔)