العربية
Typed, pending editorial approval
۲۱۱۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ ، فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: «أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟ قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ، فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ، فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى1 عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوْئَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهُ لِمُسْلِمٍ.
وَرَوَى ابْنُ حِبَّانَ نَحْوَهُ. وَقَالَ فِي التَّعْلِيقِ الْمُمَجَّدِ»: إِنَّ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَازَةِ بَعْدَ مَا صُلِّي عَلَيْهِ مِنْ خُصُوصِيَاتِ النَّبِيِّ ﷺ ؛ لِأَنَّ صَلَاتَهُ عَلَى أُمَّتِهِ بَرْكَةً وَطُهُورُ كَمَا يُفِيدُهُ مَا وَرَدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 956a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 458 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "He prayed over her..." This indicates that the ruler may repeat the prayer, even if he was not present, as understood from Radd al-Muhtar. In Fath al-Qadir, it is mentioned: "As for what is narrated that he prayed over a grave after the family had prayed over it, this is because he had the right to precedence in prayer." Muhammad said in his Muwatta: "It is not appropriate to pray over a funeral that has already been prayed over, and the Prophet (ﷺ) is not like others in this regard. Do you not see that he prayed over Negus in Madinah, even though he died in Abyssinia? The prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) is a blessing and purification, unlike other prayers. This is the opinion of Abu Hanifah." In At-Ta'liq al-Mumajjad, it is summarized: "This is among the unique practices of the Prophet (ﷺ), as his prayer over his Ummah is a blessing and purification, as indicated by what is mentioned in Sahih Muslim and Ibn Hibban: 'He prayed over the grave.' Then he said, 'These graves are filled with darkness for their inhabitants, but Allah illuminates them through my prayer over them.' In the hadith of Zayd: 'My prayer over him is a mercy.' This is not achieved by others, just as he prayed over Negus, even though he had already been prayed over in his country and despite the absence of the funeral."
Note 1
(۱) قوله: فصلى عليها فهذا يفيد أن للسلطان الإعادة، ولو لم يكن حاضرا، على ما يفهم من رد المحتار». وقال في فتح القدير: وأما ما روي أ أنه صلى على قبر بعد ما صلى عليه أهله؛ فلأنه كان له . حق التقدم في الصلاة انتهى. وقال محمد في موطئه»: ولا ينبغي أن يصلى على جنازة قد صلي عليها، وليس النبي الله في هذا كغيره. ألا يرى أنه صلى على النجاشي بالمدينة، وقد مات بالحبشة، فصلاة رسول الله الله بركة وطهور، فليست كغيرها من الصلوات، وهو قول أبي حنيفة انتهى. وقال في التعليق الممجد حاصله: أنه من خصوصيات النبي ؛ لأن صلاته على أمة بركة وظهور، كما يفيده ما ورد في صحيح مسلم» و «ابن حبان: فصلى على القبر». ثم قال: إن هذه القبور مملؤة ظلمة على أهلها، وان الله ينورها لهم بصلاتي عليهم. وفي حديث زيد فإن صلاتي عليه رحمة. وهذا لا يتحقق في غيره، كما أنه صلى على النجاشي، مع أنه قد صلى عليه في بلده، ومع غيبوبة الجنازة.
Note 1
ف: واضح ہو کہ دفن کے پہلے میت پر نماز جنازہ پڑھی گئی ہو تو پھر اس پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اس لئے کہ نماز جنازہ کا ادا کرنا جو فرض ہے، وہ ایک دفعہ کے ادا کرنے سے یہ فرض ادا ہوچکا، اگر پھر دوبارہ نماز جنازہ ادا کی جائے تو وہ نفل ہوگی اور نماز جنازہ میں نفل ثابت نہیں ہے اور یہی مذہب حنفی ہے، ہاں اگر سلطان یعنی بادشاہ وقت یا ولی کو اگر نماز جنازہ نہ ملی ہو، یا بغیر اجازت ولی کے غیر مستحق امام نے نماز پڑھا دی ہو تو ولی یا سلطان دوبارہ نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کیا گیا ہے تو میت کے سڑنے سے پہلے جس کی مدت تین دن ہے، قبر پر نماز جنازہ پڑھنا چاہئے، اگر میت کو نماز جنازہ پڑھنے کے بعد دفن کردیا گیا ہے تو اس پر کسی کو نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا جائز نہیں، البتہ ولی کی اجازت کے بغیر کسی غیر مستحق امام نے نماز جنازہ پڑھا دی اور میت کو دفن بھی کردیا گیا تو ایسی صورت میں صرف ولی کو دوبارہ قبر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ نعش پھٹنے کا اندیشہ نہ ہو، اگر ولی کی اجازت کے ساتھ مستحق امام نے کسی میت کی نماز جنازہ پڑھا دی اور میت کو دفن بھی کردیا گیا تو ایسی صورت میں کسی شخص کو خواہ وہ ولی ہو یا سلطان یعنی بادشاہ وقت ہو، قبر پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ ہر حالت میں قبر پر دوبارہ نمازِ جنازہ ادا فرمائیں، اس لئے کہ حضور کی نماز امت پر رحمت اور برکت کا سبب ہے اور قبروں کو نورانی بنانے کا باعث ہے اور یہ حضور کی خصوصیات سے ہے اور صدر کی حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ قبر پر جو نماز پڑھنے کا واقعہ مذکور ہوا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ہے۔ (یہ مضمون درمختار، فتاویٰ عالمگیری، ملتقیٰ، شرح وقایہ اور عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)12