Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الزكاة

Hadith 2236

كتاب الزكاة

In this book

Current reading

كتاب الزكاة

كتاب الزكاة

Zujajat al-Masabih 2236Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢٣٦ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُوْنَ 2 الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ، فَانْطَلَقَ فَقَالَ: (التوبة: (٣٤) يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضُ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ، وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ - وَذَكَرَ كَلِمَةَ - لِتَكُوْنَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ»، فَقَالَ: فَكَبَّرَ عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْذِرُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1664 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Pay the Zakat of your wealth willingly

(2) The statement: And those who hoard. The severe warning is attached to hoarding gold and silver and not spending them in the way of Allah without distinction between jewelry and other forms. Any wealth from which Zakat is not paid is considered hoarded according to the hadith we narrated. Thus, one who fails to pay Zakat is a hoarder and falls under the warning. The warning only applies to neglecting an obligation. The Prophet's (ﷺ) saying: "Pay the Zakat of your wealth willingly" does not distinguish between one type of wealth and another. Jewelry is surplus wealth beyond basic needs, as preparing for adornment indicates surplus beyond basic needs. Thus, it is a blessing that requires gratitude by giving a portion to the poor. This is mentioned in Al-Bada'i.

Note 2

قوله والذين يكنزون ألحق الوعيد الشديد بكنز الذهب والفضة وترك إنفاقها في سبيل الله من غير فصل بين الحلى وغيره، وكل مال لم تؤد زكاته فهو كنز بالحديث الذي روينا، فكان تارك أداء الزكاة منه كانزا، فيدخل تحت الوعيد، ولا يلحق الوعيد إلا بترك الواجب، وقول النبي

(۲) قوله والذين يكنزون ألحق الوعيد الشديد بكنز الذهب والفضة وترك إنفاقها في سبيل الله من غير فصل بين الحلى وغيره، وكل مال لم تؤد زكاته فهو كنز بالحديث الذي روينا، فكان تارك أداء الزكاة منه كانزا، فيدخل تحت الوعيد، ولا يلحق الوعيد إلا بترك الواجب، وقول النبي : وأدوا زكاة أموالكم طيبة بها أنفسكم من غير فصل بين مال ومال، ولأن الحلي مال فاضل عن الحاجة الأصلية؛ إذ الإعداد للتجمل والتزين دليل الفضل عن الحاجة الأصلية، فكان نعمة الحصول التنعم به، فيلزمه شكرها بإخراج جزء منها للفقراء. قاله في «البدائع».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ”۔ (سورۃ توبہ، پ:10، ع:5، آیت نمبر:34) یعنی جو لوگ سونا اور چاندی بطور خزانہ جمع کر رکھے ہیں اور ان کو راہ خدا میں صرف نہیں کرتے، وہ دردناک عذاب کے مستحق ہیں اور ہر وہ مال جس پر زکات ادا نہ کی جائے، خواہ وہ زیور ہو یا غیر زیور وہ کنز ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے، اس لئے زیور بھی مال ہی کہلائے گا اور اس پر بھی زکات واجب ہوگی اور یہی مذہب حنفی ہے۔ دیگر یہ کہ زکات ادا نہ کر کے مال جمع کرنے والے سے یہ بھی وعید متعلق ہوگی جو صدر کی حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور وعید تو صرف ترک واجب یا ترک فرض پر ہی ہوتی ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ مطلقاً مال پر زکات فرض ہے خواہ وہ زیور ہو یا غیر زیور۔ زیورات پر زکات فرض ہونے کی ایک اور دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد ہے ”وَأَدُّوْا زَكٰوةَ أَمْوَالِكُمْ طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ“ تم اپنے اموال پر (خواہ وہ سونا چاندی ہوں زیورات) خوشی خوشی زکات ادا کرو۔ حدیث شریف میں مطلقاً مال کا ذکر ہے اور یہ نہیں فرمایا گیا کہ فلاں مال پر زکات ہے اور فلاں مال پر زکات نہیں۔ مال خواہ سونا یا چاندی کی شکل میں ہو یا زیورات، یا دوسرے اموال کی شکل میں ہو، سب مال ہی کہلائے گا اور اس پر زکات واجب ہوگی، بشرطیکہ وہ نصاب کو پہونچتا ہو۔ زیورات پر زکات فرض ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ زیورات حاجت اصلی سے زائد ہوتے ہیں، کیوں کہ ان سے زیب و زینت مقصود ہوتی ہے اور یہی دلیل ہے ان کے حاجت اصلی سے زائد ہونے کی! لہذا زیورات بھی نعمت قرار پائے جو خوشحالی اور فارغ البالی کی دلیل ہیں۔ لہذا اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کرنا چاہئے کہ ان زیورات میں سے حسب نصاب کچھ حصہ کو فقراء پر تقسیم کر دیا جائے، اس بناء پر زیورات پر بھی زکات واجب قرار دی گئی۔ (بدائع)