Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الزكاة

Hadith 2406

بَابُ فَضْلُ الصَّدَقَةِ

In this book

Current reading

كتاب الزكاة

بَابُ فَضْلُ الصَّدَقَةِ

Zujajat al-Masabih 2406Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٠٦ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ رَجُلٌ مُعْتَزِلُ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيْهَا، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ رَجُلٌ يُسْأَلُ1 بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1652 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Asked in the name of Allah

(1) The statement: "Asked in the name of Allah" in Al-Mukhtarat, it is said: Ibn al-Mubarak said, "If someone asks for the sake of Allah or for the right of Allah, I prefer not to give them anything, as they have elevated what Allah has made insignificant." This is understood to apply when the need is not known. I say: One should consider the prohibition along with what our teacher Al-Jarahi mentioned from Al-Tabarani with a chain of narrators who are reliable, from Abu Musa (may Allah be pleased with him) that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Cursed is the one who asks in the name of Allah, and cursed is the one who is asked in the name of Allah and then refuses, unless the request is inappropriate." This is the summary of what is in Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله : يسأل بالله : وفي المختارات»: قال ابن المبارك: سأل لوجه الله أو لحق الله يعجبني أن لا يعطيه شيئًا؛ لأنه عظم ما حقر الله محمول على ما إذا لم يعلم ضرورته، أقول: وليتأمل المنع مع ما ذكره شيخ مشايخنا الجراحي مما عند الطبراني بسند رجاله رجال الصحيح عن أبي موسى الله أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: ملعون من سأل بوجه الله، وملعون من سئل بوجه الله، ثم منع سائله ما لم يسأل هجرا، يعني قبيحا. ولأبي داود والنسائي وصححه ابن حبان، وقال الحاكم: على شرط الشيخين عن ابن عمر الله رفعه: «من يسأل الله بوجه فأعطوه». وللطبراني: ملعون من سأل بوجه الله، وملعون من يسأل بوجه الله فيمنع سائله، إلا أن يحمل على السؤال من غير الدنيا أو على ما إذا علم عدم حاجته، وأن سؤاله للتكثر، تأمل. هذا حاصل ما في «الدر المختار» ورد المحتار».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جس سے سائل اللہ کے نام کا واسطہ دیکر مانگے اور وہ نہ دے۔ اس بارے میں ابن مبارک کا قول مختارات میں اس طرح مذکور ہے کہ جو شخص اللہ کا واسطہ دے کر یا اللہ کا حق بتا کر مانگے، مجھے یہ بات پسند ہے کہ ایسے سائل کو کچھ نہ دیا جائے، اس لئے اس نے (دنیوی مال) جس کو اللہ نے حقیر قرار دیا ہے (اس کے حاصل کرنے کے لئے) اس نے اللہ کے نام کو جو عظمت اور شان والا ہے (ایسی حقیر چیز کے لئے) استعمال کیا۔ یہ قول اس وقت پر محمول ہے جب کہ معلوم ہو کہ سائل حقیقت میں ضرورت مند نہیں ہے۔ اس خصوص میں طبرانی نے قوی سند کے ساتھ ایک حدیث ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اس شخص پر لعنت ہے جو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہو اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس سے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے اور (وہ قدرت رکھنے اور سائل کی ضرورت سے واقف ہونے کے باوجود) سائل کو نہ دے اگر سائل سوال کرتے وقت برا بھلا کہہ دے تو ایسی صورت میں نہ دینے والا لعنت کا مستحق نہیں ہوگا۔ اور ابوداؤد اور نسائی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک روایت کی ہے جس کو ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق قرار دیا ہے اور ابن عمرؓ نے اس حدیث کو مرفوع یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کا واسطہ دے کر مانگے تم اس کو دیدو۔ صاحب درمختار اور ردالمحتار نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیثوں کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ مانگنے والا اور نہ دینے والا یہ دونوں اس صورت میں لعنت کے مستحق قرار دئے جائیں گے جب کہ مانگنے والا بے ضرورت اور اپنے مال کو بڑھانے کے لئے سوال کرے اور نہ دینے والا اس وقت ملعون ہوگا جب کہ وہ دینے کی قدرت رکھنے اور سائل کی ضرورت سے واقف ہونے کے باوجود نہ دے۔12