العربية
Typed, pending editorial approval
٢٩٢٥ - وَعَنْ أَبِي الْيَسِرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ يَدْعُوْ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي ، وَمِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيعًا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «وَالْغَمِّ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1552 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 5531 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.743
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں ناگہانی موت جیسے دب کر یا اوپر سے گر کر مر جانے یا زہریلے جانور کے ڈسنے وغیرہ سے پناہ مانگی گئی ہے حالانکہ ناگہانی اموات سے شہادت کا درجہ ملتا ہے۔ صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ ناگہانی اموات میں بے انتہا اور شدید تکلیف ہوتی ہے اس لئے اندیشہ لگا رہتا ہے کہ مرنے والا بے صبری کے عالم میں کفریہ کلمات کہہ دے اور نتیجۃً خاتمہ برا ہو جائے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناگہانی اموات سے پناہ مانگنے کی امت کو تعلیم دی ہے۔12