Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

Hadith 3043

بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ وَالطَّوَافِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ وَالطَّوَافِ

Zujajat al-Masabih 3043Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٤٣ - وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ (رضي الله عنه)يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُوْلُ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرُ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1597 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1270a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حجر اسود کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان......الخ۔ واضح ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ارشاد کا مقصود یہ ہے کہ حجر اسود کا بوسہ محض حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حجر اسود کو بوسہ دینا اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں ہے جیسا کہ مرقات میں ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مذکور ہے کہ آپ نے حجر اسود کے روبرو کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جو بذاتہی (خود سے) نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہے اگر میرا رب مجھے بوسہ کا حکم نہ دیتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ اھ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز بذات خود نفع یا نقصان کی مالک نہیں۔ اب رہا یہ کہ مشرکین بھی حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور اب مسلمان بھی حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں، بظاہر دونوں کا عمل ایک ہے لیکن حقیقت میں دونوں کی نیت جدا جدا ہوتی ہے مشرکین اس کو بالذات نفع یا نقصان کا مالک سمجھتے تھے، اس کے برخلاف مسلمان صرف اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعمیل حکم میں یہ کام کرتے ہیں اور نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہی کو سمجھتے ہیں، اس لئے مسلمان کا حجر اسود کو بوسہ دینا تعمیل حکم اور اتباع نبوی میں ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے ظاہر ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مذکورہ ارشاد اس وجہ سے تھا کہ لوگ زمانہ جاہلیت سے قریب تھے، وہ اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ مرقات اور اشعۃ اللمعات۔12