Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

Hadith 3073

بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ

Zujajat al-Masabih 3073Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۰۷۳ - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الحَجَّاجَ ابْنَ يُوْسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ: كَيْفَ تَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةً؟ فَقَالَ سَالِمٌ : إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ1 بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُوْنَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: وَهَلْ تَتَّبِعُوْنَ فِي ذَلِكَ إِلَّا سُنَّتَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1662 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Pray Zuhr early

(1) "Pray Zuhr early" - In Al-Nihayah: "Al-Tahjir means takbir in all things." Here it means praying Zuhr and Asr combined at the beginning of Zuhr time. This suggests they were residents (not travelers), indicating this combination is a ritual concession, not due to travel. (Al-Maraqi)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فهجر بالصلاة يوم عرفة: في النهاية»: التهجير التكبير في كل شئ فالمعنى صلى الظهر والعصر : جمعا أول وقت الظهر، والظاهر أن الحجاج وابن عمر وولده كانوا مقيمين، فيفيد أن هذا الجمع جمع نسك لا جمع سفر. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ عرفات میں عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھنا اس دن کی خصوصیت ہے اور یہ جمع بین الظہر والعصر مسافرت کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر اور ان کے صاحبزادے حضرت سالم مقیم تھے اور مقیم ہونے کے باوجود انہوں نے عرفات میں عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو حجاج کے ساتھ ملا کر ادا فرمایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جمع بین الصلاتین جمع نُسُک ہے یعنی منجملہ مناسک حج کے ہے، جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12 ف(2): واضح ہو کہ عرفہ کے دن عرفات میں ظہر اور عصر کو ملا کر ادا کرنے کے کئی شرائط ہیں:۔ (1) ایک یہ کہ خلیفۂ وقت یا خلیفہ کا نائب امامت کرے ورنہ سارے حاجی اپنی اپنی جگہ ظہر اور عصر کو اس کے وقت پر ادا کریں اس لئے کہ پورے میدان عرفات میں سوائے وادی عرفہ کے ٹھہرنا درست ہے۔ اور اگر کوئی شخص تنہا ظہر پڑھے تو وہ عصر بھی تنہا ہی ادا کرے۔ (2) دوسری شرط یہ ہے کہ دونوں نمازوں کی ادائی کے وقت حج کا احرام ہو۔ (3) تیسری شرط یہ ہے کہ عرفہ کا دن ہو، اور عرفات کا میدان ہو۔ (4) چوتھی شرط یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہو۔ جس کا امام خلیفہ یا اس کا نائب ہو۔ (5) پانچویں شرط یہ ہے کہ زوال کے بعد پہلے ظہر پڑھی جائے اور پھر نماز عصر۔ درمختار فتاویٰ عالمگیری اور ردالمحتار میں مذکور ہے کہ آج کل مذکورہ شرائط مسجد نمرہ میں ہوتی ہیں۔12