العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٥٠ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه)قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِوَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ1. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1717 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Use it—Imam As-Sarakhsi said in Al-Mabsut: Found items are of two types. First: Those the owner is unlikely to seek, like pomegranate peels or date pits. Second: Those the owner is likely to seek. The first type may be taken and used, but if the owner finds it in the finder’s possession after collecting it, they may take it, as the owner’s discarding it permits use, not ownership, as ownership from an unknown person is invalid. The owner’s ownership does not cease by permission, but the permitted may use it while the owner’s ownership remains. If the owner finds it, they find their property, as the Prophet (ﷺ) said, “Whoever finds their property is most entitled to it.” The second type, which the owner seeks, must be preserved and announced to return to its owner. Summarized. I say: If a stick, whip, or rope is among trivial items the owner does not seek, it need not be announced, and the finder may use it. If it is of the second type, it may not be used, and announcement is required based on its value. As stated in Bazl Al-Majhood.
Note 1
(۱) قوله: ينتفع به قال الإمام السرخسي في مبسوطه ثم ما يجده نوعان، أحدهما ما يعلم أن مالكه لا يطلبه كقشور الرمان والنوى والثاني: ما يعلم أن مالكه يطلبه، فالنوع الأول له أن يأخذه وينتفع به إلا أن صاحبه إذا وجده في يده بعد ما جمعه كان له أن يأخذ منه؛ لأن إلقاء ذلك من صاحبه كان إباحة الانتفاع به للواجد ولم يكن تمليكا من غيره، فإن التمليك من المجهول لا يصح، وملك المبيح لا يزول بالإباحة، ولكن للمباح له أن ينتفع به مع بقاء ملك المبيح فإذا وجده في يده فقد وجد عين ملكه ، قال : من وجد عين ماله فهو أحق به»، وأما النوع الثاني فهو ما يعلم أن صاحبه يطلبه، فمن يرفعه فعليه أن يحفظه ويعرفه ليوصله إلى صاحبه ملخصا . قلت: فالعصا والسوط والحبل إن كان بحيث تدخل في الأشياء التافهة التي لا تطلبه المالك، فحكمها أنه لا يجب تعريفها، ويجوز الانتفاع بها للملتقط. وإن كان من النوع الثاني فلا يجوز الانتفاع بها، ويجب تعريفها على حسب قيمتها. كذا في بذل المجهود».
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی چیز اگر لقطہ میں مل جائے تو اس کا اعلان ضروری نہیں ہے معمولی چیز کی حد میں علماء کا اختلاف ہے اور تحقیق یہ ہے کہ دس درہم یا دینار یا اس سے کم مالیتی چیز معمولی چیز میں شمار ہوگی۔ (لمعات)۔ ف(2): امام سرخسی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ لقطہ میں جو چیزیں ملتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں (1) ایسی چیزیں جو معمولی ہوں اور ان کا مالک ان کو طلب نہ کرے جیسے انار کے چھلکے (یا اور پھلوں کے چھلکے) اور پھلوں کی گٹھلیاں تو ایسی چیزیں اٹھالی جاسکتی ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اگر مالک ان کو اٹھالینے کے بعد یہ کہے کہ میں ان کو کسی ضرورت کے لئے ڈال رکھا ہے تو اس کو حق ہے کہ واپس لے لے۔ اس وجہ سے ایسی چیزوں کو مباحات کہتے ہیں کہ ان کو اٹھالیا جاسکتا ہے لیکن اٹھانے سے اٹھانے والا ان کا مالک نہیں بن سکتا کیونکہ ایسی چیزوں کا شمار مجہولات میں ہے اور مجہول چیز کی ملکیت درست نہیں ان کا مالک اصل شخص ہی ہوگا اس لئے دوسروں کے لینے کے بعد بھی وہ اپنی چیز کو واپس لے سکتا ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کسی کو اپنا مال مل جائے تو وہ اس کا زیادہ مستحق ہے۔ البتہ دوسروں کے لئے ایسی چیزوں سے استفادہ کرنا درست ہے جبکہ مالک کو دوسروں کے استفادہ سے انکار نہ ہو۔ چنانچہ لاٹھی، کوڑا اور رسی وغیرہ اسی قسم کی چیزیں معمولی چیزوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ ان کے ملنے پر اعلان ضروری نہیں اور ان سے استفادہ بھی درست ہے اور ان کے مالک کو ان کے واپس لینے کا اختیار ہے۔ اور لقطہ کی دوسری قسم ایسی چیزیں ہیں جن کو مالک طلب کرتا ہے ان کے بارے میں ان کی قیمت کے اعتبار سے ان کا اعلان ضروری ہے جیسا کہ سابق میں ان کے مسائل اور احکام بیان کئے گئے ہیں۔ بذل المجہود۔