العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢١٨ - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ ﷺ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَأَتَى سَوْدَةَ وَهِيَ تَصْنَعُ طِيباً وَعِنْدَهَا نِسَاءً فَأَخْلَيْنَهُ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَى امْرَأَةً تُعْجِبُهُ فَلْيَقُمْ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا». رَوَاهُ الدَّارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3118 (unverified) 30% confidence
- Candidate: Sunan al-Darimi 2257 (unverified) 25% confidence
Mishkat (candidate) 3118
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک اجنبی عورت خوش لگی۔ یہ بات بر بنائے مقتضا طبیعت تھا جو انسان کی بشریت ہے اور حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کی یہ پہلی نظر تھی جو اچانک پڑ گئی اور یہ معاف ہے اور اس عورت پر آپ کی نظر پڑ جانا ایک شرعی حکم کا سبب بنا جیسے نماز میں آپ سے سہو کا ہو جانا، یہ اس لئے تھا کہ امت کے لئے ایک راہ نکالی جائے، چنانچہ سہو کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے میں بھولتا ہوں یا بھلایا جاتا ہوں تاکہ اپنی امت کے لئے ایک راہ پیدا کروں اور عام لوگوں کا بھولنا شیطان کے غلبہ سے ہوتا ہے کہ شیطان ان کو خدا سے غافل کر دیتا ہے اس کے برخلاف حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ پر شیطان کا کچھ اثر نہ تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کا آپ پر بھول کا طاری فرمانا اس میں حکمت یہ تھی کہ امت کو سہو کے مسائل معلوم ہو جائیں آپ کو بھول نہ ہوتی تو امت کو سہو کے مسائل معلوم نہ ہوتے اور امت کے لئے یہ راہ نہ کھلتی۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، حاشیہ مشکوٰۃ12)