Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْبُيُوعِ

Hadith 3248

بَابُ الْخِيَارِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْبُيُوعِ

بَابُ الْخِيَارِ

Zujajat al-Masabih 3248Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٤٨ - وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَاصِ اللَّيْنِي قَالَ: اشْتَرَى طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَالًا، فَقِيلَ لِعُثْمَانَ: إِنَّكَ قَدْ غُبِنْتَ، وَكَانَ الْمَالُ بِالْكُوفَةِ، وَهُوَ مَالُ آلِ طَلْحَةَ الآن بِهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ: لِي الْخِيَارُ؛ لِأَنِّي بِعْتُ مَا لَمْ أَرَهُ. فَقَالَ طَلْحَةُ: لِيَ الْخِيَارُ؛ لِأَنِّي اشْتَرَيْتُ مَا لَمْ أَرَهُ. فَحَكَمَا بَيْنَهُمَا جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، فَقَضَى1 أَنَّ الْخِيَارَ2 لِطَلْحَةَ، وَلَا خِيَارَ لِعُثْمَانَ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.
Commentary and footnotes (5)

Note 1

he ruled

(1) The statement "he ruled": This occurred in the presence of Companions without objection, constituting silent consensus (Fath al-Qadir).

Note 2

the option was Talhah’s

(2) The statement "the option was Talhah’s": Al-Hidayah states that a buyer of an unseen item has the option, but the seller does not.

Note 1

قوله

(۱) قوله : فقضى إلخ وكان حكم جبير بن مطعم بين عثمان وطلحة له بمحضر من الصحابة ولم ينكره أحد، فكان إجماعا سكوتيا، «فتح القدير» ملخصا.

Note 2

قوله

(۲) قوله : إن الخيار لطلحة ولا خيار لعثمان: لذلك قال في الهداية»: ومن اشترى شيئًا لم يره، فالبيع جائز وله الخيار إذا رآه، إن شاء أخذه وإن شاء رده، ومن باع ما لم يره فلا خيار له.

Note 1

ف: ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر خریدار کسی چیز کو بغیر دیکھے خرید لے تو ایسی بیع جائز ہے اور خریدار کو اس بات کا حق ہے کہ دیکھنے کے بعد طے شدہ پوری قیمت دے کر اس چیز کو لے لے یا بیع کو فسخ کر دے اور بیچنے والے کو بغیر دیکھے بیچنے کی صورت میں خیار کا حق نہیں ہے۔ اور فتح القدیر میں یہ صراحت موجود ہے کہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہما کے درمیان خیار کا حق حضرت طلحہ کو دیا اور آپ کا یہ فیصلہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے روبرو ہوا اور آپ نے خیار رؤیت کا حق خریدار کو دیا نہ کہ بائع کو اور اس پر کسی صحابی نے انکار نہیں فرمایا۔ اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ خیار رؤیت کا حق خریدار کو ہے نہ کہ بائع کو اور اس پر اجماع صحابہ ہے۔