Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ النِّكَاحِ

Hadith 3316

بَابُ الْقَسَمِ

In this book

Current reading

كِتَابُ النِّكَاحِ

بَابُ الْقَسَمِ

Zujajat al-Masabih 3316Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٣١٦ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) أَنَّ رَسُولَ اللهِ اللهِ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، يَقُولُ: أَيْنَ أَنَا غَدًا ۚ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5217 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں یہ جو ارشاد فرمایا کہ میں کل کہاں رہوں گا۔ اس ارشاد سے امہات المؤمنین نے سمجھا کہ حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کا مقصد یہ ہے کہ آپ بی بی عائشہ کے گھر رہیں گے، اسی لئے سب نے خوشی سے اجازت دی کہ آپ حضرت عائشہ کے گھر میں رہیں، ہم نے اپنی باری معاف کی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت خوش ہوئے اور وہیں رہے اور یہ مدت قیام باختلاف روایت ایک ہفتہ تھی اور پھر آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے وہیں وصال فرمایا اور وہیں دفن ہوئے۔ اس حدیث سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)۔