العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٢٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعِ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ، فَإِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ، وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا، وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1468b (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ حضرت حواء علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا ہوئیں تو عورت کی اصل پسلی ٹیڑھی ہے اور پسلی کا بالکل سیدھا ہونا ممکن نہیں اسی لئے عورت کا بالکل آراستہ ہونا اور اس کی عادتوں کا بدلنا محال ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ حکمت سے برتاؤ کرو، بالکل غافل نہ ہوجاؤ کہ ناہموار رہے اور نہ ہر بات میں مواخذہ کرو کہ زندگی تلخ ہوجائے۔ غرض یہ کہ عورتوں کی کج روی اور بدمزاجی پر صبر کرنا ضروری ہے اور ان سے محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہئے یوں تو تمام لوگوں سے عمدہ سلوک اور اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہئے تا کہ خاص و عام خوش رہیں اور مرتے وقت ہماری تعریف کریں اور دعا دویں اور حسن سلوک کے زیادہ مستحق تو بیوی اور بچے ہیں اور اس کے بعد دوسرے عزیز و اقرباء اور دوست و احباب ہیں۔ اور بعض علماء نے اس حدیث کی توضیح میں یوں لکھا ہے کہ عام طور پر عورتیں ضدی اور بے سمجھ ہوتی ہیں اور بعض وقت خاوند چاہتا ہے کہ اس کی ضد کو دور کرے لیکن وہ اور سخت ضدی ہوجاتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تشبیہ کے فرمایا کہ یہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئیں ہیں، یعنی ٹیڑھی مزاج کی ہوتی ہیں اگر تم اپنے مزاج کے مطابق کرنا چاہو گے تو نہیں کر پاؤ گے اور بالآخر طلاق کی نوبت آجائے گی اور طلاق دینا اس کو توڑ دینا ہے۔ اس لئے ہر صورت میں عورتوں سے نرمی سے پیش آنا چاہئے نرمی سے پیش آتے رہو گے تو اس ٹیڑھی چیز سے فائدہ اٹھاتے رہو گے۔