العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٨٩ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه أَنَّهُ كَانَ إِذَا بَعَثَ عُمَّالًا اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ: أَلَّاتَرْكَبُوْا بِرْدَوْنًا، وَلَا تَأْكُلُوْا نَقِيًّا، وَلَا تَلْبَسُوْا رَقِيْقًا، وَلَا تُغْلِقُوْا أَبْوَابَكُمْ دُوْنَ حَوَائِجِالنَّاسِ، فَإِنْ فَعَلْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ حَلَّتْ بِكُمْ الْعُقُوْبَةُ، ثُمَّ يُشَيِّعُهُمْ. 1 رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.فِي (شُعَبِ الْإِيْمَانِ).
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Regarding the saying: Then he would see them off: It is stated in al-Marqah: Seeing them off is recommended.
Note 1
(١)قوله: ثم يشيعهم: وقال في (المرقاة): والمشايعة مستحبة.
Note 1
3 قولہ: ثم يشيعهم (پھر وہ ان کو رخصت فرماتے) مرقات میں ہے مشایعت (رخصت کرنا) مستحب ہے۔ 1قولہ: لا يقضين حكم بين اثنين وهو غضبان (دو آدمیوں کے درمیان اس وقت ہرگز فیصلہ نہ کرے جب کہ وہ غصہ کی حالت میں ہو) یعنی حاکم کو غصہ کی حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ غصہ غور و فکر سے روکتا ہے اسی طرح سخت گرمی اور سردی اور بھوک و پیاس اور بیماری کی حالت میں فیصلہ نہ کرے اگر وہ ان حالتوں میں فیصلہ کر بھی دے تو اس کا یہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا مگر اس کا یہ عمل مکروہ ہے۔ (مرقات، عالمگیری) 2قولہ: اذا حكم الحاكم فاجتهد واخطأ فله اجر واحد (جب اس نے فیصلہ کیا اور اس میں (طلب حق کے لئے) کوشش بھی کی مگر خطاء ہوئی تو اس کو ایک اجر ملے گا) امام نوویؒ نے فرمایا علماء کرام کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ کیا ہر مجتہد مصیب (ٹھیک فیصلہ کرنے والا) ہوتا ہے یا صحیح فیصلہ کرنے والا ان میں کوئی ایک ہوتا ہے اور یہ وہی ہے جس کا فیصلہ اس حکم کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور دوسرا غلطی پر ہوتا ہے اس میں امام شافعیؒ ان کے اصحاب رحمہ اللہ کے پاس دراصل مجتہد مخطی ہوتا ہے کیونکہ اس کو مخطی (خطا کرنے والا) کہا گیا ہے اگر وہ مصیب (صحیح فیصلہ پر پہنچنے والا) ہوتا تو اس کو مخطی نہیں کہا جاتا اور یہ ایسی صورت پر محمول ہوتا ہے کہ مجتہد سے نص میں خطا ہو جائے یا ایسی چیز میں اجتہاد کرے جس میں اجتہاد نہیں ہوتا اور جو حضرات پہلی صورت یعنی مجتہد مصیب ہوتا ہے کی طرف گئے ہیں تو ان کا کہنا یہ ہے کہ مخطی کے لئے اجر مقرر کیا گیا ہے اور اگر وہ حق پر نہ ہوتا تو اس کے لئے اجر تجویز نہیں ہوتا۔ اور یہ اس وقت ہے جب کہ وہ اجتہاد کا اہل ہو۔ اور لیکن جو آدمی فیصلہ کرنے کا اہل نہ ہو تو اس کو فیصلہ دینا جائز نہیں ہے۔ اور اس کا فیصلہ نافذ بھی نہیں ہوگا خواہ اس کا فیصلہ حق کے موافق ہو یا نہ ہو کیونکہ اس کا یہ صحیح فیصلہ اتفاقی طور پر ہے اور وہ اپنے تمام فیصلوں میں گنہگار ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ ایسے مسائل جس کا بیان کتاب و سنت میں اور اجماع میں نہیں ہے اور اس کے لئے قیاس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے تو وہ شخص قبلہ کے لئے تحری کرنے والے کی طرح ہے۔ پس بلاشبہ وہ مصیب ہے اگرچہ وہ غلطی کرے۔ (مرقات) 3قولہ: ”بَعَثَنِي رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن قاضياً“ الخ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قاضی بنا کر یمن کو روانہ فرمایا) صاحب ہدایہ نے کہا: کسی کو قاضی مقرر کرنا اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ اس میں جس کو مقرر کیا جا رہا ہے شہادت کے شرائط پائے نہ جائیں اور تاوقتیکہ وہ اجتہاد کی اہلیت والا نہ ہو۔ اور صاحب بنایہ نے کہا کہ ہمارے (احناف) کے پاس یہ اولویت کے شروط میں سے ہے (یعنی بہتر ہے یہ شروط پائے جائیں) ورنہ یہ شرط جواز کے لئے نہیں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواز کے لئے شرط ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ اسی کو اختیار کئے ہیں اور شافعیہ کی کتاب وجیز میں ہے کہ فیصلہ کرنے کے لئے چند صفات کا پایا جانا ضروری ہے۔ 1۔ مرد ہونا 2۔ آزاد ہونا 3۔ مجتہد ہونا 4۔ صاحب بصیرت ہونا 5۔ پرہیزگار انصاف کرنے والا ہونا۔ اسی لئے عورت، نابینا، بچہ، فاسق، جاہل اور مقلد کا فیصلہ کرنا جائز نہیں (انتھی) اور امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب الاصل میں ذکر کیا ہے: مقلد کا قاضی (جج) بننا جائز نہیں ہے۔ اور امام خصاف رحمہ اللہ نے اس کے جواز کی بات بتائی ہے آپ نے فرمایا کہ قاضی اگر وہ صاحب رائے ہے تو اپنی ذاتی اجتہاد سے فیصلے کرے گا اور اگر وہ صاحب رائے نہ ہو تو کسی دوسرے فقیہ سے پوچھے گا اور اس کے قول کو اختیار کرے گا۔ اور جواز قضاء کے لئے اجتہاد کے شرط نہ ہونے کی دلیل امام ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ کی تخریج کردہ یہ حدیث ہے: سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر روانہ فرمایا تو میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے روانہ فرما رہے ہیں۔ میں کم عمر ہوں اور مجھے فیصلے کرنے کا علم بھی نہیں۔ (الحدیث) اور اس کو حاکم نے بھی مستدرک میں روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی اسناد صحیح ہے اور شیخین نے اس حدیث کی تخریج نہیں کی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت اہل اجتہاد میں سے نہیں تھے۔ 4قولہ: ”و رجلٌ قضى للناس على جهلٍ فهو فى النار“ (وہ آدمی جو جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا تو وہ بھی دوزخ میں جائے گا) اور صاحب ہدایہ نے کہا جاہل کا کیا ہوا فیصلہ بھی ہمارے پاس صحیح ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کا اس میں اختلاف ہے۔ اور وہ یعنی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں قضاء کے منصب کا تقاضہ یہ ہے کہ اس پر آدمی کو قدرت ہو اور بغیر علم کے قدرت نہیں آتی۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کوئی دوسرا فتویٰ دے اور یہ اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اسی سے قضاء کا مقصد پورا ہوجائیگا۔ اور قضاء کا مقصد یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دیا جائے۔ ”فتاویٰ عالمگیریہ“ میں ہے اگر جاہل کو مقرر کیا گیا اور اس نے دوسرے کے فتویٰ کے مطابق فیصلہ کیا تو جائز ہے۔ ”کتاب ملتقط“ میں ایسا ہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود جاہل کو فیصلہ کے لئے مقرر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور کتاب ”بنایہ“ میں ہے: ”اگر تم یہ کہو کہ ابوداؤد اور ابن ماجہ نے سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت نقل کی ہے: (اور ایسا آدمی جو حق سے واقف نہیں ہے اور اسی ناواقفیت سے اس نے فیصلہ دیا تو وہ دوزخ میں ہے) تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ حدیث شریف ایسے جاہل سے متعلق ہے جو اپنی جہالت پر عمل کرتا ہے، اور دوسرے کی طرف مسئلہ میں رجوع نہیں کرتا۔ (انتہیٰ) اور فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے: اور قضاء (کے منصب کو قبول کرنے) کی پانچ صورتیں ہیں۔ 1- واجب: وہ یہ ہے کہ آدمی اس کے لئے متعین ہو جب کہ کوئی دوسرا اس کی صلاحیت نہیں رکھتا ہو۔ 2- مستحب: اس کی صورت یہ ہے کہ اس کی صلاحیت رکھنے والا دوسرا پایا جاتا ہو لیکن یہ شخص اس کے لئے زیادہ باصلاحیت اور زیادہ مناسب ہو۔ 3- مخیر فیہ: یعنی منصب قضاء کو قبول کرنے میں اس کو اختیار ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو آدمی اس کی صلاحیت اور اہتمام میں برابر درجہ کے ہوں تو ایسی صورت میں اس کو اختیار ہے اگر چاہے تو قبول کرے اور چاہے تو قبول نہ کرے۔ 4- مکروہ: اس کی صورت یہ ہے کہ یہ منصب قضاء کے لائق ہے مگر دوسرا اس سے زیادہ باصلاحیت ہے۔ 5- حرام: ایسی صورت میں ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں جانتا ہو کہ وہ اس منصب سے عاجز ہے اور انصاف نہیں کرسکے گا کیونکہ وہ اپنے باطن کو جانتا ہے کہ خواہش نفس کے پیچھے جائے گا جس کو دوسرے لوگ نہیں جانتے تو ایسی صورت میں اس پر حرام ہے۔ (خزانۃ المفتین) 5 قولہ : کیف تقضی اذا عرض لک قضاء الخ (جب تمہیں کوئی فیصلہ کرنے کی نوبت پیش آئے تو تم کس طرح فیصلہ کرو گے) فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے قاضی کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے فیصلہ کرے اور اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں جو ناسخ و منسوخ ہے اس سے واقف رہے پھر ناسخ میں حکم کو جانے اور نتشانہ جس کی تاویل میں اختلاف ہے اس سے بھی واقف ہو جیسے لفظ اقراء ہے پس اگر وہ کتاب اللہ میں نہ پائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ سے فیصلہ کرے گا اس لئے اس کو چاہئے کہ احادیث میں سے ناسخ و منسوخ کو جانے اور اگر احادیث شریفہ میں تعارض معلوم ہو رہا ہے تو وہ اس حدیث کو اختیار کرے جو سنت سے زیادہ مشابہ ہے اور جس کی طرف اس کے اجتہاد کا میلان ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ حدیث متواتر حدیث مشہور اور اخبار آحاد سے واقف رہے اور راویوں کے مراتب سے واقف ہو۔ کیونکہ رواۃ میں ایسے بھی ہیں جو فقہ اور عدالت میں مشہور ہیں جیسے خلفائے راشدین ہیں اور عبادلہ اربعہ اور ان کے سوا دیگر دوسرے رواۃ ہیں۔ اور ان میں بعض رواۃ ایسے ہیں جو مشہور ہیں طول صحبت اور حسن ضبط یعنی استاد کے ساتھ زیادہ مدت تک رہنے اور اچھے حافظہ میں مشہور ہیں اور اس راوی کی روایت لینا جو فقہ میں مشہور ہے زیادہ بہتر ہے اس کی روایت لینے سے جو فقہ میں مشہور نہیں ہے۔ اسی طرح ان کی روایت لینا جو اپنے شیخ کے ساتھ زیادہ مدت رہے ہیں زیادہ بہتر ہے۔ ان کی روایت لینے سے جو طویل صحبت میں مشہور نہیں ہیں۔ اور اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت وارد نہیں ہے تو اس میں ایسی چیز سے فیصلہ کریں گے جس پر صحابہ علیہم الرضوان کا اجماع ہوا ہے کیونکہ صحابہ کے اجماع پر عمل کرنا واجب ہے اور اگر صحابہ اس واقعہ کے سلسلہ میں مختلف ہوں تو اجتہاد کیا جائے گا اور بعض کے قول کو بعض پر اجتہاد سے ترجیح دیں گے جب کہ وہ (فیصلہ کرنے والا) اہل اجتہاد سے ہو۔ اور اس کو تمام صحابہ کے خلاف جا کر کوئی تیسری نئی بات نکالنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اس اختلاف کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے ان دو قول کے علاوہ کوئی اور قول باطل ہے۔ اور خصاف رحمہ اللہ تعالیٰ یہ بات فرمایا کرتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کا اختلاف اس بات پر دلیل ہے کہ اس مسئلہ میں اجتہاد کے لئے گنجائش موجود ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم بیان کئے ہیں اور اگر صحابہ کسی حکم پر اتفاق کریں اور تابعین میں سے کوئی اس کی مخالفت کریں اور مخالفت کرنے والے صاحب صحابہ کے زمانہ کو نہ پاتے ہوں تو ان کا اختلاف قابل اعتبار نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر قاضی صحابہ کے اجماع کے خلاف ان کے قول پر فیصلہ کرے تو ان کا فیصلہ باطل ہے۔ اور اگر اختلاف کرنے والے صاحب، صحابہ کے زمانہ کو پانے والے ہیں اور فتوے میں ان کے ساتھ شریک رہے ہیں اور وہ (صحابہؓ) ان کے لئے اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں۔ جیسے شریحؒ اور شعبیؒ ہیں۔ ایسے تابعی اگر مخالفت کرتے ہیں تو اجماع منعقد نہیں ہوگا۔ اگرچہ بعض تابعین سے اس طرح کی بات آئی ہے اور ان کے سوا دوسروں سے کوئی اور چیز منقول نہیں ہے پس امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اس میں دو روایتیں آئی ہیں۔ ...... ...... ایک روایت میں ہے کہ میں ان کی تقلید نہیں کرتا اور یہ ظاہر مذہب ہے اور نوادر کی روایت میں ہے آپ نے فرمایا کہ تابعین میں سے جو حضرات صحابہ کے زمانہ میں فتویٰ دیئے ہیں اور وہ (صحابہؓ) اجتہاد کی ان کو اجازت دیئے ہیں۔ جیسے شریحؒ، مسروق بن اجدعؒ اور حسن بصریؒ ہیں تو میں ان کی تقلید کرتا ہوں ”المحیط“ میں اسی طرح ہے۔ پس اگر کسی چیز میں صحابہؓ سے کوئی قول مروی نہیں ہے اور تابعین کا اس میں اجماع ہے تو اسی اجماع کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ اور اگر اس میں ان کے مابین اختلاف ہو تو ان میں سے کسی ایک کے قول کو ترجیح دے کر اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ اور اگر ایسا کوئی اجماع نہ ہو اور وہ (فیصلہ کرنے والا) اہل اجتہاد میں سے ہو تو وہ اس کو اس جیسے احکام پر قیاس کرے گا اور اپنی رائے اس میں اجتہاد کرے گا اور حق تک پہنچنے کے لئے کوشش کرے گا پھر اپنی رائے سے فیصلہ دے گا۔ اور اگر وہ اہل اجتہاد سے نہ ہو تو اس میں فتویٰ طلب کرے گا اور مفتی کے فتویٰ کو اختیار کرے گا اور بغیر علم کے کوئی فیصلہ نہیں دے گا اور سوال کرنے سے نہیں شرمائے گا پھر دو اور مسئلوں کو جاننا ضروری ہے۔ 1۔ جب ہمارے اصحاب امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کسی مسئلہ میں اتفاق کرلیں تو ایسی صورت میں قاضی اپنی رائے سے ان کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ 2۔ اگر یہ حضرات آپس میں اختلاف کریں تو عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کیا جائے گا۔ کیونکہ وہ تابعین میں سے ہیں اور فتویٰ (دینے) میں ان کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ محیط سرخی میں ایسا ہی ہے۔ اور اگر امام ابوحنیفہؒ سے اور آپ کے اصحاب سے کوئی روایت پائی نہ جائے اور متاخرین سے کوئی روایت آئی ہو تو اس کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا۔ اور اگر متاخرین اس میں اختلاف کریں تو کسی ایک کو اختیار کریں گے اور متاخرین سے اس میں کوئی روایت نہ ملے تو اپنی رائے سے اجتہاد کرے گا جب کہ وہ وجود فقہ کو جانتا ہو اور اس معاملہ میں فقہ جاننے والوں سے مشورہ کیا جائے گا۔ درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ قاضی، مفتی کی طرح سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو علی الاطلاق اختیار کرے گا پھر امام ابویوسف، امام محمد پھر امام زفر اور حسن بن زیاد رحمہم اللہ کے قول کو اختیار کرے گا یہ بات زیادہ درست ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان چیزوں میں جو قضاء (فیصلہ جات) سے تعلق رکھتی ہیں فتویٰ امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے قول پر ہوگا کیونکہ ان کو اس میں زیادہ تجربہ ہے۔ 6 قوله: من ابتغى القضاء الخ (جو آدمی منصب قضاء کی خواہش کرے گا) اسی لئے درمختار اور ردالمحتار میں ہے منصب قضاء کو دل میں خواہش نہ رکھے اور زبان سے اس کا سوال بھی نہ کرے۔ کتاب ”خلاصہ“ میں ہے اقتدار کے طلب گار کو اقتدار نہیں دیا جائے گا لیکن جب کوئی آدمی اس منصب کے لئے متعین ہو جائے اس طرح کہ اس کے سوا کوئی دوسرا منصب قضاء کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ایسے شخص پر واجب ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت اور ظالموں کے ظلم کو دفع کرنے کے لئے اس منصب قضاء کو طلب کرے اور علماء شافعیہ اور مالکیہ کے پاس ایسے آدمی کے لئے جو غیر معروف ہے علم کی اشاعت کی خاطر منصب قضاء کو طلب کرنا مستحب ہے۔ 7؎ قولہ : من جعل قاضياً بين الناس فقد ذبح بغير سكين. یعنی (جس شخص کو لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا جائے تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا) عالمگیری میں ہے مفت فقیہ خصاف نے ”ادب القاضی“ میں عہدہ قضاء کو قبول کرنے کی کراہت اور رخصت کی بابت احادیث شریفہ کو ذکر کیا ہے انھوں نے کہا ہے کہ صالحین کی ایک جماعت نے اس منصب کو اختیار کیا ہے جب کہ صالحین کی ایک جماعت نے اس سے گریز کیا ہے۔ اور اس کو اختیار نہ کرنا ہی زیادہ بہتر و سلامتی کا باعث، درست کام اور دین میں زیادہ مناسب ہے۔ اس مسئلہ میں علماء کرام کا اختلاف ہے کہ کسی شخص میں قضاء کے جملہ شرائط جمع ہوجانے کے بعد آیا اس کے لئے قضاء کو قبول کرنا جائز ہے؟ بعض حضرات نے کہا ہے اس کے لئے قضاء کو قبول کرنا مکروہ ہے ”محیط“ میں اسی طرح ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ”قضاء“ میں مبتلا کیا جائے تو گویا وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔ اور عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ اپنے گھر چلے گئے اور جو کوئی آپ کے گھر، آپ کے پاس آتا تو اس کے چہرہ کو نوچ دیتے۔ اور اس کے کپڑے پھاڑ دیتے پس صحابیہ میں سے ایک بزرگ روشن دان میں سے آئے اور انھوں نے کہا اے ابوعبداللہ اگر آپ قضاء کو قبول کریں اور انصاف کریں تو زیادہ بہتر ہے تو انھوں نے کہا اے شخص کیا تیری یہی عقل ہے کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا، قاضی حضرات بادشاہوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور حضرات علماء انبیاء کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ اور یہ بات مشہور ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کو عہدہ قضاء پیش کیا گیا تو آپ نے انکار کیا یہاں تک کہ آپ کو نود (90) کوڑے لگائے گئے اور آپ کو اپنی جان کا اندیشہ ہو گیا تو اپنے اصحاب سے آپ نے مشورہ کیا تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس کو آپ کے لئے مناسب قرار دیا کہ اگر آپ اس کو اختیار فرمائیں تو لوگوں کو آپ نفع پہنچائیں گے۔ تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مجھ کو حکم دیا جاتا کہ میں سمندر کو تیر کر پار کرلوں تو مجھ سے یہ ہوسکتا تھا۔ پس آپ اپنا سر جھکائے اور اس کے بعد ان کی طرف نہیں دیکھا۔ اسی طرح خزانہ المفتیہ میں ہے۔ پھر اس کو حضرت امام محمدؒ پر پیش کیا گیا تو آپ بھی انکار کئے یہاں تک کہ آپ کو مار کر قید کیا گیا اور مجبور کیا گیا تو آپ نے اس کو قبول کیا۔ (عنایہ شرح ہدایہ) امام کرخی اور خصاف اور علماء عراق نے فرمایا اور اسی کو صاحب مذہب نے اختیار کیا ہے کہ جب تک اس کے لئے مجبور نہ کیا گیا ہو قبول کرنا مناسب نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے مشائخ (علماء کرام) نے فرمایا اس شخص کے لئے جو باصلاحیت ہے اور اپنے اوپر اعتماد ہو کہ وہ ناانصافی نہیں کرے گا تو اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کوئی دوسرا ہو تو خود اس سے دور رہنا بہتر ہے کیونکہ...... ...... صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ان کے بعد آنے والے (تابعین) نے بلا کراہت اس کو قبول کیا ہے۔ کردری کی کتاب ”وجیز“ میں اسی طرح ہے البتہ وہ شخص اپنے فیصلے کرنے میں ظلم و زیادتی کا اندیشہ کرتا ہے تو اس کے لئے اس منصب کو قبول کرنا مکروہ ہے اور جس کو اس کا اندیشہ نہ ہو اس کے لئے مکروہ نہیں ہے اسی طرح کتاب ”کافی“ میں ہے۔ اور کتاب ”ینابیع“ میں ہے کہ اس پر فائز ہونے کے لئے مطالبہ کرنا اور اس کا سوال کرنا کسی بھی شخص کے لئے مناسب نہیں۔ مطالبہ کی صورت یہ ہے کہ امام سے کہے: مجھے عہدہ قضاء پر فائز کیجئے اور سوال کی صورت یہ ہے کہ لوگوں سے یوں کہے کہ اگر امام مجھے شہر کے عہدہ قضاء پر فائز کرے تو میں اس کو قبول کروں گا اور اس کو اس بات کی حرص ہو کہ یہ بات امام تک پہنچے تو وہ اس کو عہدہ پر فائز کرے گا اور اس کے لئے یہ سب مکروہ ہے اور بعض حضرات نے فرمایا: جس شخص کو سوال کئے بغیر اس عہدہ پر فائز کیا جائے تو اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور جو شخص اس عہدہ کے لئے سوال کرے تو وہ اس کے لئے مکروہ ہے۔ اور علماء کرام کا عموماً مذہب یہ ہے کہ قضاء کے منصب کو اختیار کرنا رخصت ہے اور اس سے بچنا عزیمت ہے۔ کتاب سراجیہ میں ہے کہ یہی قول مختار ہے (تاتارخانیہ)۔