Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب الامارۃ والقضاء

Hadith 3711

بَابُ رِزْقِ الْوُّلَاةِ وَهَدَايَاهُمْ

In this book

Current reading

کتاب الامارۃ والقضاء

بَابُ رِزْقِ الْوُّلَاةِ وَهَدَايَاهُمْ

Zujajat al-Masabih 3711Volume 3

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٧١١ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بَّنِ عَمْرٍو رضي الله عنَهُمَا قَالَ: لَعَنَ 1 رَسُوْلُ اللّهِ ﷺ الرَّاشِيْوَالْمُرْتَشِيُّ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. وَرَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ مِنْهُ وَعَنْ أَبِيُّ هُرَيْرَةً. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيْمَانِ) عَنْثَوْبَانَ، وَزَادَ: (وَالرَّائِشُ) يَعْنِيْ الَّذِيْ يَمْشِيْ بَيْنَهُمَا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3580 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2313 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1337 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1336 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3753 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 3753

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The Messenger of Allah cursed the briber and the bribed

(1) The statement: “The Messenger of Allah cursed the briber and the bribed”: In Al-Alamgiriyyah: A gift is given without conditions, while a bribe is wealth given with a condition to aid. As in Khazanat al-Muftin. It also states: Bribery has types. One is giving wealth to seek affection and love, which is permissible for giver and receiver. Another is giving wealth due to fear from someone, to avert harm, or to a ruler to avert oppression from oneself or one’s wealth. This type is impermissible to take, falling under the warning in this chapter. Is it permissible for the giver to give? Most scholars say it is, as he uses his wealth to protect himself or part of it to save the rest. Another type is giving wealth to someone to facilitate matters with the ruler, in two cases. First: If the need is unlawful, neither giving nor taking is permissible. Second: If the need is permissible, it has two aspects. First: If the gift is explicitly conditioned on aiding with the ruler, taking is impermissible. Is giving permissible? Scholars differed; some said no, others yes. The solution for permissibility is for the needy to hire the person for a day to act with his knowledge for the wealth intended, making the contract valid, and the worker earns the wage. The hirer may use him for this or another task. This solution works only if the task is valid for hiring, like delivering a message. If no duration is specified, it is invalid, as in Al-Khulasah. Is giving permissible without this solution? Opinions differ; some say no, others yes, the latter being sounder. If given after resolving the matter and averting oppression, both giving and taking are permissible, as in Muhit al-Sarakhsi and Bukhari al-Qadi Khan. Second: If not explicitly conditioned but given to aid with the ruler, most scholars say it is not disliked if there was no prior gift-giving for any reason. If there was prior gift-giving due to friendship or kinship, and he gives as before, and the receiver aids, this is good, as it is repaying kindness with kindness and matching generosity. Another type is giving to a ruler to secure judgeship or another post, which is impermissible for both giver and taker, as in Al-Muhit.

Note 1

قوله

(١) قوله: لعن رسول الله كثيرً الراشي والمرتشي: وقال في (العالمكيرية): الهدية ما يعطيه، ولا يكون معه شرط.والرشوة مال يعطيه بشرط أن يعينه. كذا في (خزانة المفتين). وفيه أيضًا: واعلم أن الرشوة أنواع، منها: أن يهديالرجل إلى رجل مالا لابتغاء التودُّد والتحبُّب. وهذا النوع حلال من جانب المهدي والمهدى إليه. ونوع منها: أنيهدي إلى الرجل مالا بسبب أن ذلك الرجل قد خوفه، فيهدي إليه مالا؛ ليدفع الخوف عن نفسه، أو يهدي إلىالسلطان مالا ليدفع ظلمه عن نفسه أو عن ماله. وهذا نوع لا يحل الأخذ لأحد، وإذا أخذ يدخل تحت الوعيدالمذكور في هذا الباب، وهل يحل للمعطي الإعطاء؟ عامة المشايخ على أنه يحل؛ لأنه يجعل ماله؛ وقاية لنفسه، أويجعل بعض ماله وقاية الباقي. ونوع منها: أن يهدي الرجل إلى رجل مالا؛ ليسوي أمره في ما بينه وبين السلطان يعينه في حاجته، وأنه علىوجهين، الوجه الأول: أن يكون حاجته حراما، وفي هذا الوجه لا يحل للمهدي الإعطاء ولا للمهدى إليه الأخذ.الوجه الثاني: أن يكون حاجته مباحا، وأنه على وجهين أيضا: الأول: إن يشترط أنه إنما يهدي إليه؛ ليعينه عندالسلطان، وفي هذا الوجه لا يحل لأحد الأخذ. وهل يحل للمعطي الإعطاء؟ تكلموا فيه، منهم من قال: لا يحل،ومنهم من قال: يحل. والحيلة في حل الأخذ وحل الإعطاء عند الكل أن يستأجره صاحب الحادثة يوما إلى الليل ليقومبعلمه بالمال الذي يريد الدفع إليه، فيصحُّ الإجارة، ويستحق الأجير الأجر. ثم المستأجر بالخيار، إن شاء استعمله في هذا العمل، وإن شاء استعمله في عمل آخر. قالوا: وهذه الحيلة إنماتصح إذا كان العمل الذي يستأجره عليه عملا يصحُّ الاستئجار عليه. كذا في (المحيط) كتبليغ الرسالة ونحوه. وإنلم يبين المدة لا يجوز. كذا في (الخلاصة). وهل يحل للمعطي الإعطاء بدون هذه الحيلة؟ تكملوا فيه قيل: لا يحل.وقيل: يحل، وهو الأصح، هذا إذا أعطاه قبل أن يسوي أمره، أما إذا أعطاه بعد أن سوى أمره، ونجاه عن ظلمه، يحلللمعطي الإعطاء، ويحل للآخذ الأخذ، وهو الأصح. كذا في (محيط السرخسي) وهو الصحيح، كذا في (فتاوى قاضيخان). الوجه الثاني: إذا لم يشترط ذلك صريحا، ولكن إنما يهدي إليه ليعينه عند السلطان. وفي هذا الوجه اختلفالمشايخوعامتهم على أنه لا يكره هذا إذا لم يكن بينهما مهاداة قبل ذلك بسبب من الأسباب، وأما إذا كان بينهمامهاداة قبل ذلك بسبب صداقة أو قرابة فأهدى إليه كما كان يهدي قبل ذلك، ثم إن المهدي إليه قام لإصلاح أمره،فهذا أمر حسن؛ لأنه مجازاة الإحسان بالإحسان، ومقابلة بالكرم نوع آخر أن يهدي الرجل إلى سلطان فيقلد القضاء لهأو عملا آخر. وهذا النوع لا يحل للآخذ الأخذ ولا للمعطي الإعطاء. كذا في (المحيط).

Note 1

5؎ قولہ: لعن رسول الله صلى الله عليه واله وسلم الراشي والمرتشي (رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے) فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے کہ ہدیہ وہ شئی ہے جو کسی کو دے دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ کوئی شرط نہیں ہوتی۔ اور رشوت وہ شئی ہے جو کسی کو دے دی جاتی ہے اس شرط پر کہ وہ اس کی مدد کرے گا۔ (خزانۃ المفتین میں ایسا ہی ہے) اور اس میں یہ بھی ہے کہ: تم جان لو! رشوت کے کئی اقسام ہیں۔ ان میں سے 1۔ کوئی آدمی کسی آدمی کو کچھ مال دے تاکہ محبت اور دوستی پیدا ہو۔ اور یہ قسم ہدیہ دینے والے اور ہدیہ لینے والے (دونوں کے لئے) حلال ہے۔ 2۔ ایک دوسری قسم یہ ہے کہ کوئی شخص اس کو خوفزدہ کیا ہے تو یہ اپنے سے اس کے خوف کو دور کرنے کے لئے اس کو کچھ مال پیش کرتا ہے یا اپنی جان و مال سے ظلم کو دفع کرنے کے لئے کسی صاحب اقتدار کو کچھ مال پیش کرتا ہے تو اس قسم کا مال لینا کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے۔ اور اگر لے گا تو اس باب میں مذکورہ وعید میں آ جائے گا۔ لیکن اس طرح دینا، دینے والے کے لئے جائز ہے؟ علماء کرام کے پاس یہ جائز ہے کیونکہ وہ اس مال سے اپنی جان کو بچا رہا ہے اور مال کا کچھ حصہ دے کر باقی مال کی حفاظت کر رہا ہے۔ 3۔ اس کی ایک اور قسم ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کو کچھ مال اس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کے اور صاحب اقتدار کے درمیان معاملہ ٹھیک کروائے اور اس کی مدد کرے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ (الف) اس کی یہ ضرورت ناجائز اور حرام ہو۔ ایسی صورت میں دینے والے کا دینا اور لینے والے کا لینا دونوں ناجائز ہیں۔ (ب) اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی یہ ضرورت مباح اور جائز ہو تو پھر اس کی 2 صورتیں ہیں: 1۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کو اس مباح حاجت میں اس شرط پر مال دیتا ہے کہ وہ صاحب اقتدار کے پاس اس کی مدد کرے تو ایسی صورت میں کسی کے لئے لینا جائز نہیں ہے۔ اور اب رہا کیا ایسی صورت میں دینے والے کا دینا جائز ہے تو اس کے متعلق علماء نے گفتگو کی ہے۔ بعض علماء نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے اور بعض نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ اور لینے اور دینے کے جائز ہونے کے لئے تمام علماء کرام کے پاس حیلہ یہ ہے کہ صاحب الہدایہ ایک دن رات تک اس کو اپنا اجیر بنائے تاکہ اس کے علم کی قیمت اس مال سے ادا کرے جس کو وہ اسے دینا چاہتا ہے تو یہ اجارہ درست ہو جائے گا اور اجیر بھی اجرت کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ پھر مستاجر (ٹھیکیدار) کو اختیار ہے کہ اس سے وہ یہ کام لے یا اس کو کسی دوسرے کام میں لگائے۔ علماء نے کہا...... ...... ہے کہ یہ حیلہ اس وقت درست ہے جب کہ ⟦?⟧ کسی ایسے کام پر اس کو اجرت پر لے جس میں اجرت پر لینا درست ہے (محیط میں اسی طرح ہے) مثلاً پیغام کا پہنچانا وغیرہ اور اگر مدت کو بیان نہ کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ (خلاصہ میں اسی طرح ہے) اب رہا یہ کہ اس حیلے کے بغیر بھی دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس میں علماء نے گفتگو کی ہے۔ چنانچہ بعض کے قول میں ناجائز ہے اور بعض کے قول میں جائز ہے اور یہی بات زیادہ درست ہے۔ یہ گفتگو اس وقت ہے جب کہ وہ اپنے معاملہ کی یکسوئی سے پہلے مال دے۔ اب رہا کہ وہ اس کو اپنے معاملہ کی یکسوئی کرنے اور اس کو صاحب اقتدار کے ظلم سے نجات دلانے کے بعد دے تو اس کا دینا اور اس کا لینا دونوں جائز ہیں۔ اور یہی صحیح ترین قول ہے۔ ’’محیط سرخسی‘‘ میں ایسا ہی ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں بھی اس کی تائید موجود ہے۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ ایسی کوئی شرط وضاحت کے ساتھ تو نہ لگائے لیکن اس کے پاس یہ تحفہ پیش ہی اس لئے کرے کہ وہ صاحب اقتدار کے پاس (معاملہ میں) اس کی مدد کرے۔ اور اس صورت میں علماء کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے اور اکثر علماء کے پاس یہ مکروہ نہیں ہے کہ کراہت اور عدم کراہت کا یہ اختلاف اس وقت ہے جب کہ اس سے پہلے کسی بھی وجہ سے دونوں کے درمیان تحفے دینے کا کوئی عمل نہیں تھا۔ اور اگر اس سے پہلے سے دوستی یا رشتہ داری کی بناء پر ہدیہ دینے کا عمل تھا اور سابق کی طرح یہ اس کو ہدیہ دیا ہے پھر جس کو ہدیہ دیا گیا وہ اس کے معاملہ کو ٹھیک کرتا ہے تو یہ امر مستحسن ہے کیونکہ احسان کا بدلہ احسان اور کرم ہے۔ ایک اور قسم یہ ہے کہ صاحب اقتدار کو ہدیہ پیش کرنے والا اس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کو منصب قضاء پر یا کسی بھی دوسرے کام پر مقرر کر دے ایسی صورت میں لینے والے کو لینا اور دینے والے کے لئے دینا دونوں ناجائز ہیں۔ (محیط) 1قولہ: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ ......الخ (اور تم اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ کر لیا کرو) خلاصہ یہ ہے کہ زنا میں بالاتفاق چار مردوں کی گواہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی بناء پر ’’فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ‘‘ (سورۃ النساء، آیت نمبر:15) پس تم ان (عورتوں) پر تم میں سے چار گواہ بنالو۔ اور نیز ارشاد ہے: ’’ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ‘‘ (سورہ نور، آیت نمبر:4) (پھر وہ چار گواہ نہ لائیں)۔ اور زنا کے سوا حدود اور قصاص میں بالاتفاق دو مردوں کی گواہی کافی ہے کیونکہ امام زہریؒ کا قول ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے بعد دونوں خلیفہ سے یہی سنت چلی ہے کہ حدود اور قصاص میں عورتوں کو شہادت کا کوئی حق نہیں ہے۔ پس اصل کا اعتبار کیا جائے گا اور وہ صرف دو مردوں کی گواہی ہے۔ اور حدود و قصاص کے سوا جن معاملات پر مرد آدمی مطلع ہوا کرتا ہے ان میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ہمارے (حنفیہ) کے پاس مقبول ہے، خواہ وہ معاملہ مالی میں ہو کہ غیر مالی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کے پاس دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی اس وقت مقبول ہوگی جب کہ وہ معاملہ مالی ہو یا متعلقات مال سے ہو۔ مثلاً خرید و فروخت، شرط خیار، ادھار معاملہ، اجارہ اور اعارۃ وغیرہ اور اس جیسی چیزیں۔ اور اگر وہ معاملہ مالی نہ ہو تو صرف دو مردوں کی گواہی مقبول ہوگی۔ جیسے نکاح اور اس جیسے امور اور اگر وہ معاملہ ایسا ہو کہ جس کی مرد آدمی کو خبر نہیں ہوا کرتی ہے جیسے ولادت وغیرہ تو ہمارے پاس (حنفیہ) اس میں صرف ایک عورت کی گواہی بھی مقبول ہوگی۔ اور امام شافعی علیہ الرحمہ کے پاس چار عورتوں کی۔ اور اس کے دلائل بڑی کتابوں میں مذکور ہیں۔ پھر گواہی کے چند شرائط ہیں: 1- اسلام اور 2- عدالت جو کہ یہ آیت شریفہ میں مذکور ہیں۔ اب رہی پہلی شرط تو وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’مِنْ رِجَالِكُمْ‘‘ (تمہارے مردوں میں سے) کی بناء پر ہے۔ کیونکہ اس کے معنی ہیں ’’تمہاری ملت والوں میں سے‘‘ اور وہ......