العربية
Typed, pending editorial approval
٥٥٤٩ - عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ (رضي الله عنه) قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا 1 مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3532 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2354a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “I am Muhammad”: This form indicates abundance, like “I opened the door, so it is mufattah” if done repeatedly. Muhammad is a name chosen optimistically, indicating that his praise will abound. I say: What was intended inwardly has manifested outwardly, and the first and the last will praise him at the Praised Station under the Banner of Praise. His statement: “I am Ahmad”: This is a superlative form of praise, meaning more praiseworthy than any praiser, as Allah will inspire him with praises on the Day of Resurrection not inspired to anyone before or after. Thus, he combines being the praiser and the praised, the lover and the beloved, the seeker and the sought. His statement: “I am Al-Mahi”: When he was sent, the world was darkened by disbelief, and Allah brought radiant light that erased disbelief. Another Hadith explains it as the one through whom the sins of his followers are erased, as Allah said: Say to those who disbelieve, if they desist, what has passed will be forgiven [Al-Anfal: 38]. His statement: “I am Al-Hashir”: In Sharh As-Sunnah: Meaning the first of people to be gathered, as he said, “I am the first for whom the earth will split open.” Al-Nawawi said: Meaning immediately after me and in the era of my prophethood, with no prophet after me. At-Tibi said: This is a metaphorical attribution, as he is the cause of people’s gathering, for they are not gathered until he is gathered. His statement: “I am Al-Aqib”: The apparent meaning is that this is an explanation by a companion or someone after. In Sharh Muslim, Ibn Al-A’rabi said: Al-Aqib is the one who succeeds in goodness those before him, as in “he left offspring.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
».(۱) قوله : أنا محمد : هذا البناء للتكثير نحو : فتحت الباب فهو مفتح، إذا فعلت به ذلك مرة بعد أخرى، ومحمد اسم منقول على سبيل التفاؤل أنه سيكثر حمده أقول: وقد كان في الظاهر ما أضمر في الباطن، وسيحمده الأولون والآخرون في المقام المحمود تحت اللواء الحمد. وقوله: «أنا أحمد أفعل من الحمد قطع متعلقه للمبالغة، أي أحمد من كل حامد بناءً على أنه للفاعل؛ لأنه تعالى يلهمه المحامد يوم القيامة لم يلهمها أحدا من الأولين والآخرين، فهو جامع بين الحامدية والمحمودية، كما جمع له بين المحبية والمحبوبية، والمريدية والمرادية. وقوله: «وأنا الماحي» إلخ؛ لأنه بعث والدنيا مظلمة بغيابة الكفر، فأتى الله بالنور الساطع حتى محا الكفر، وجاء في حديث آخر مفسرا بالذي محيت به سيئات من تبعه، كما قال تعالى: ﴿ قُل لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوا يُغْفَرُ لَهُم مَّا قَدْ سَلَّفَ ) الأنفال: (۳۸). وقوله: «أنا الحاشر». وفي شرح السنة: أي يحشر أول الناس لقوله: أنا أول من تنشق عنه الأرض. وقال النووي: أي على إثري وزمان نبوتي، وليس بعدي نبي. قال الطيبي: هو من الإسناد المجازي؛ لأنه سبب في حشر الناس؛ لأن الناس لم يحشروا ما لم يحشر. وقوله: «أنا العاقب إلخ الظاهر أن هذا تفسير للصحابي أو من بعده. وفي شرح مسلم : قال ابن الأعرابي: العاقب الذي يخلف في الخير من كان قبله، ومنه يقال: عقب الرجل لولده. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(1) قوله: أنا محمد (صلى الله عليه وسلم). یہ وزن تکثیر اور مبالغہ کے لئے ہے، جیسے فتحت الباب فهو مفتح (میں دروازہ کھولا تو وہ خوب کھل گیا) جب تم بار بار کوئی عمل کرو تو یہ صیغہ بولا جاتا ہے۔ اور صیغہ محمد اسم مفعول ہے تفاؤل خیر کے طور پر ہے کہ آپ کی حمد کثرت سے کی جاتی رہے گی۔ میں کہتا ہوں کہ اس سے جو چیز مقصود اور پوشیدہ تھی وہ ظاہر میں بھی پوری ہوئی مقام محمود میں لواء حمد کے تلے اولین اور آخرین سب آپ کی تعریف کرتے رہیں گے۔ اور آپ کا ارشاد کہ میں احمد ہوں، یہ صیغہ حمد سے اسم تفضیل ہے اور اسم فاعل کے معنی میں ہے، مبالغہ کے لئے اس کا متعلق حذف کر دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ پر ایسے ایسے محامد الہام کرے گا جو اولین و آخرین میں سے کسی پر الہام نہیں کیا، اصل میں احمد من کل حامد ہے یعنی میں ہر حمد کرنے والے سے بڑھ کر حمد کرنے والا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح صفت محبیت و محبوبیت اور صفت مریدیت و مرادیت کے جامع ہیں اسی طرح صفت حامدیت اور محمودیت کے بھی جامع ہیں۔ آپ جس طرح محب و محبوب، مرید اور مراد ہیں اسی طرح حامد و محمود بھی ہیں)۔ قوله: أنا الماحى: اور آپ کا ارشاد کہ میں ماحی ہوں (میں کفر مٹانے والا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے دنیا پر کفر کے بادل چھائے ہوئے تھے، دنیا کفر کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی، آپ چمکتا ہوا نور لیکر تشریف لائے، یہاں تک کہ کفر کو مٹا دیا۔ اور ایک دوسری حدیث شریف میں تفصیل سے آیا ہے، آپ ماحی ہیں یعنی جو شخص بھی آپ کی اتباع کرے گا اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور مٹا دیئے جائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ“۔ (8- سورۃ الانفال، آیت نمبر:38) آپ کافروں سے فرما دیجیئے اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے اور مٹا دیئے جائیں گے۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) قوله: انا الحاشر (میں جمع کرنے والا ہوں) شرح السنہ میں ہے سب سے پہلے میں اٹھایا جاؤں گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: انا اول من تنشق عنه الأرض۔ سب سے پہلے میری قبر کھلے گی۔ امام نووی فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہے کہ لوگ میرے پیچھے اٹھیں گے یہ سب میری نبوت کے آخر میں اٹھائے جائیں گے، کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ امام طیبی کہتے ہیں حاشر میں حشر کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مجازی ہے کیونکہ جب تک آپ قبر شریف سے نہیں اٹھائے جائیں گے لوگ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ قوله: انا العاقب الخ: میں عاقب (آخر میں آنے والا نبی) ہوں متن میں عاقب کی جو شرح ہے وہ کسی صحابی کی یا ان کے بعد والے، یا کسی دوسرے صاحب کی شرح ہے اور شارح مسلم لکھتے ہیں: علامہ ابن عربی نے فرمایا: عاقب سے مراد وہ ہیں جو خیر میں اپنے سے پہلے والوں کا جانشین ہو۔ اسی سے کہا جاتا ہے عقب الرجل لولده۔ (ماخوذ از: مرقات)۔