العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦١ - وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن مَسْعُوْدٍ الله : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ: مَا فِي إِدَاوَتِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَبِيةٌ. قَالَ: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةً وَمَاءً طَهُوْرُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهِ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ عَدِيٌّ.
وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّحَاوِيُّ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: أَبُو زَيْدٍ مَجْهُولُ. وَالْجَوَابُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ الْعَرَبِيِّ ذَكَرَ فِي شَرْحِ جَامِعِ التَّرْمِذِيَّ»: أَنَّ أَبَا زَيْدٍ
مَوْلَى عَمْرِو بنِ حُرَيْثٍ، رَوَى عَنْهُ رَاشِدُ بْنُ كَيْسَانَ الْعَبَسِيُّ الْكُوْفِيُّ وَأَبُوْ رَوْقٍ، وَبِهَذَا يَخْرُجُ عَنْ حَدَّ الْجَهَالَةِ، وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا بِكُنْيَةٍ، فَيَجُوْزُ أَنْ يَكُوْنَ التَّرْمِذِيُّ أَرَادَ بِهِ أَنَّهُ مَجْهُولُ الاسْمِ، وَلَا يَضُرُّ ذَلِكَ؛ فَإِنَّ جَمَاعَةً مِنَ الرُّوَاةِ لَا تُعْرُفُ أَسْمَاؤُهَا، وَإِنَّمَا عُرِفُوْا بِالْكُنَى، كَذَا ذَكَرَهُ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَامِ وَالْعَيْنِيُّ.
وَقَالَ صَاحِبُ الْمِشْكَاةِ»: صَحَّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ اللهِ قَالَ: لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنَّ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ رَوَاهُ مُسْلِمُ وَالْجَوَابُ عَنْهُ مِنْ وُجُوهِ:
أَحَدُهَا : أَنَّهُ ذَكَرَ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَامِ أَنَّ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ لَيْلَةِ الْجِنِّ، فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَهُوَ مُعَارِضُ بِمَا فِي حَدِيْثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ مِنْ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ، وَرَوَى أَيْضًا أَبُو حَفْصِ بْنُ شَاهِيْنَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ لَيْلَةَ الْجِنَّ وَعَنْهُ : أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا مِنَ الرُّطٌ ، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ وَالْإِثْبَاتُ مُقَدَّمُ عَلَى النَّفْيِ.
وَثَانِيهَا: مَا ذَكَرَهُ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ وَغَيْرُهُ فِي التَّطْبِيقِ بَيْنَ رِوَايَاتِ الْإِثْبَاتِ وَبَيْنَ رِوَايَاتِ النَّفْيِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَمْ يَكُنْ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي مَوْضِعِ مُلَاقَاتِهِ مَعَ الْجِنِّ وَقِرَاءَتِهِ الْقُرْآنَ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّمَا جَلَسَ حَيْثُ خَطَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَى أَنْ أَتَاهُ، كَمَا فِي مُسْنَدِ أَحْمَدَ، فَحَيْثُ نَفَى ابْنُ مَسْعُودٍ أَوْ غَيْرُهُ مَعِيَّتَهُ أَرَادَ بِهَا الْمَعِيَّةَ الْخَاصَّةَ، فَلَا تَنَافِيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رِوَايَةِ الْمَعِيَّةِ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ.
وَثَالِثُهَا: أَنَّهُ ذَكَرَ الْعَيْنِيُّ أَنَّ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا رَوَوْا شِرْكَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ مَعَ النَّبِيَّ ﷺ لَيْلَةَ الْجِنَّ، وَذَلِكَ كَافٍ لِلِاسْتِدْلَالِ انْتَهَى.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 84 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 88 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 384 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
ترمذی کہتے ہیں کہ ابوزید راوی مجہول ہیں، ترمذی نے ابوزید راوی کو جو مجہول کہا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ابوبکر بن عربی نے ترمذی کی شرح میں لکھا ہے کہ ابوزید، عمرو ابن حرث کے مولیٰ ہیں ان سے راشد بن کیسان عیسیٰ کوفی اور ابو روق دونوں حضرات نے روایت کی ہے اور جن سے دو راوی روایت کریں ان کو مجہول نہیں قرار دیا جا سکتا علاوہ ازیں یہ کنیت ہی سے مشہور ہیں۔ ترمذی کا منشاء ابوزید کے مجہول ہونے سے یہ ہو سکتا ہے، کہ یہ نام کے اعتبار سے مجہول ہیں جس سے کوئی ضرر واقع نہیں ہوتا کیوں کہ ایسے راویوں کی ایک جماعت ہے جن کے اسماء نامعلوم ہیں، اور وہ کنیتوں سے مشہور ہوگئے، امام ابن ہمام اور علامہ عینی نے یہی کہا ہے۔
Note 2
اس اعتراض کا جواب کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھے کئی طریقوں سے دیا گیا ہے: ایک (1) جواب تو یہ ہے جس کو امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ وہ روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آئی ہے کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ میں لیلۃ الجن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھا، یہ حدیث ابن ابی شیبہ کی حدیث سے متعارض ہے جس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ساتھ موجود تھا۔
Note 3
مشابہت رکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاں ثبوت اور نفی دو قسم کی روایتیں جمع ہو جائیں وہاں ثبوت کی روایت کو مقدم رکھا جاتا ہے، اس لئے یہاں لیلۃ الجن میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کو مرجح قرار دیا جائے گا۔ (2) دوسرا جواب ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے دیا ہے کہ اثبات و نفی کی روایات کے درمیان مطابقت اس طرح پیدا کی جا سکتی ہے کہ لیلۃ الجن میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو تھے مگر اس خاص مقام پر نہیں تھے، جہاں جنات نے آپ سے ملاقات کی اور آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایسی جگہ بیٹھے رہے جہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے ایک خط کھینچ کر آپ کو اس کے اندر بٹھا دیا تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جنوں سے ملاقات کر کے واپس آنے تک اسی جگہ بیٹھے رہے، اور اس کی روایت مسند امام احمد میں موجود ہے، لہذا یہ واضح ہو گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے متعلق لیلۃ الجن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کی جو نفی وارد ہے اس نفی کا تعلق اس مقام سے ہے جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں سے ملاقات فرمائی، اسی طرح اس خاص مقام پر نہ رہنے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہمراہی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لہذا اس سے اس رات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے رہنے یا نہ رہنے کی روایتوں میں اختلاف باقی نہ رہا۔ (3) اور تیسرا جواب وہ ہے جس کو علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ چودہ 14 حضرات سے مروی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں موجود تھے اور یہ چیز استدلال کے لئے کافی ہے۔