Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

Hadith 5647

بَابٌ فِي الْمُعْجِزَاتِ

In this book

Current reading

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

بَابٌ فِي الْمُعْجِزَاتِ

Zujajat al-Masabih 5647Volume 5

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٦٤٧ - وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «1 فِي أَصْحَابِي». وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ 2 مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنَ النَّارِ، يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى تَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2779b (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2779a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

companion

(1) His statement: among my companions: Shaykh al-Turbishti said: Companionship with the Prophet (ﷺ) that counts is tied to faith, and the term “companion” applies only to those true in faith with evident signs, not those concealed in hypocrisy. Attributing companionship to them is metaphorical, due to their resemblance to companions and hiding under the term, mixing among them. Hence, he said, “among my companions,” not “of my companions.” This is like saying Iblis was among the angels, meaning in their group, not one of them, as Allah says, He was of the jinn (Al-Kahf: 50). He confided this to his closest companions to avoid accepting their faith or being deceived by their plots. Their status was not hidden from the preserved companions due to their notoriety, though they confronted them openly, following the Messenger of Allah (ﷺ). Hudhayfah was the most knowledgeable of their names, as he was with the Prophet (ﷺ) on the night of Al-Aqabah during the return from Tabuk when they plotted to kill him. Only the Prophet (ﷺ), Ammar leading his mount, and Hudhayfah driving it were at Al-Aqabah. The Prophet’s (ﷺ) caller announced to take the valley’s base as it was wider, while the Prophet (ﷺ) took the pass. The hypocrites, hearing this, sought to plot against him and followed, masked, twelve in number. The Prophet (ﷺ) heard their movement, ordered Hudhayfah to turn them back, who struck their mounts’ faces with a stick, and Allah frightened them upon seeing Hudhayfah. They retreated quickly, mixing with the people. Hudhayfah reached the Prophet (ﷺ), who asked, “Did you recognize any of them?” He said, “No, they were masked, but I recognized their mounts.” He said, “Allah informed me of their names and their fathers’ names. I will inform you of them, Allah willing, in the morning.” Thus, people referred to Hudhayfah about the hypocrites. It is narrated from Hudhayfah that they were fourteen, two repented, and twelve remained hypocrites as the Truthful One informed. I found their names in books of Hadith scholars narrated from Hudhayfah, but some differed, so I did not risk my religion in what is not necessary. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

appearing

(2) His statement: eight of them: Meaning of the twelve hypocrites, their harm will be repelled by a destructive sore. Qadi said: The sore, originally a diminutive of calamity, is a harmful ulcer in a person’s body. It is also called a sore with fatha or damma. His statement: a lamp of fire: Explaining the sore. It seems this is Hudhayfah’s statement. His statement: appearing: Meaning the lamp emerges on their shoulders until it shines, with damma on jim, meaning it appears in their chests, i.e., their stomachs. Qadi’s statement implies “appearing” is feminine, as he said: It is explained in the Hadith as a fire emerging on their shoulders until it shines, from “najama” with damma, meaning appears. He said: Perhaps it means a hot swelling on their shoulders, its heat’s effect appearing in their chests, likened to a lamp of fire, the flame of a lantern. It is narrated from Hudhayfah that he identified them, and they perished as the Messenger (ﷺ) informed. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : قال في أصحابي: قال الشيخ التوربشتي صحبة النبي المعتد بها هي المقترنة بالإيمان، ولا يصح أن يطلق الصحابي إلا على من صدق في إيمانه، وظهرت منه أمارته دون من أغمض عليهم بالنفاق، فإضافتها إليهم لا تجوز إلا على المجاز لتشبههم بالصحابة وتسترهم بالكلمة وإدخالهم أنفسهم في غمارهم، ولهذا قال: «في أصحابي» ولم يقل: «من أصحابي». وذلك مثل قولنا: إبليس كان في الملائكة، أي في زمرتهم، ولا يصح أن يقال: كان من الملائكة، فإن الله سبحانه وتعالى يقول: ﴿كَانَ مِنَ الْجِنَّ﴾ ، وقد أسر بهذا القول إلى خاصته وذوي المنزلة من أصحابه أمر هذه الفئة المسومة المتلبسة؛ لئلا يقبلوا منهم الإيمان، ولا يقبلوا من قبلهم المكر والخداع، ولم يكن يخفى على المحفوظين شأنهم لاشتهارهم بذلك في الصحابة، إلا أنهم كانوا يواجهونهم بصريح المقال أسوة برسول الله ﷺ. وكان حذيفة أعلمهم بأسمائهم؛ وذلك لأنه كان ليلة العقبة مع النبي ﷺ مرجعه من غزوة تبوك حين هموا بقتله ولم يكن على العقبة إلا رسول الله ﷺ وعمار يقود به وحذيفة يسوق به، وكان منادي رسول الله ﷺ قد نادى أن خذوا بطن الوادي، فهو أوسع لكم، فإن رسول الله ﷺ قد أخذ الثنية، فلما سمعه المنافقون طمعوا في المكر به، فأتبعوه متلثمين وهم اثنا عشر رجلا، فسمع رسول الله له خشفة القوم من ورائه، فأمر حذيفة أن يردهم، فاستقبل حذيفة وجوه رواحلهم بمحجن كان معه، فضربها ضربا فرعبهم الله حين أبصروا حذيفة، فانقلبوا مسرعين على أعقابهم حتى خالطوا الناس، فأدرك حذيفة رسول الله ، فقال الحذيفة : هل عرفت أحدا منهم؟» قال: لا، فإنهم كانوا متلثمين، ولكن أعرف رواحلهم، فقال: «إن الله تعالى أخبرني بأسمائهم وأسماء آبائهم، سأخبرك بهم إن شاء الله عند الصباح». فمن ثم كان الناس يراجعون حذيفة في أمر المنافقين، وقد ذكر عن حذيفة أنهم كانوا أربعة عشر، فتاب اثنان وبقي اثنا عشر على النفاق على ما أخبر به الصادق المصدوق. وقد اطلعت على أسمائهم في كتب حفاظ الحديث مروية عن حذيفة غير أني وجدت في بعضها اختلافا، فلم أر أن أخاطر بديني فيما لا ضرورة لي. كذا في المرقاة».

Note 2

قوله

(۲)قوله: ثمانية منهم: أي من الاثني عشر منافقا تكفيهم أي تدفع شرهم الدبيلة» قال القاضي: الدبيلة في الأصل تصغير الدبل، وهي الداهية، فأطلقت على قرحة ردية تحدث في باطن الإنسان، ويقال لها: الدبلة بالفتح والضم سراج من نار تفسير للدبيلة، والظاهر أنه من كلام حذيفة. يظهر» أي يخرج السراج في أكتافهم حتى تنجم بضم الجيم، أي تظهر وتطلع النار في صدورهم أي في بطونهم. وفي كلام القاضي إيماء إلى أن قوله: «تظهر بصيغة التأنيث حيث قال: وفسرها في الحديث بنار تخرج في أكتافهم حتى تنجم، أي تظهر من نجم ينجم بالضم إذا ظهر وطلع، ثم قال: ولعله أراد بها ورما حارا يحدث في أكتافهم بحيث يظهر أثر تلك الحرارة وشدة لهبها في صدرورهم ممثلة بسراج من نار، وهو شعلة المصباح، وقد روي عن حذيفة أنه عرفه إياهم، وأنهم هلكوا كما أخبره الرسول صلوات الله وسلامه عليه. كذا في «المرقاة».

Note 1

(22) وقوله : قال في اصحابي۔ (میرے اصحاب میں) علامہ شیخ تورپشتی نے فرمایا قابل اعتنا بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کے لئے ایمان کی حالت ہونا ضروری ہے اور صحابی وہی ہے جو اپنے ایمان میں سچے ہوں اور اس کی علامت بھی ان پر ظاہر ہو اور سوائے ان کے جن پر ان کے نفاق سے چشم پوشی کی گئی ہو وہ صحابی نہیں ہو سکتا ان کے صحابہ سے مشابہت ظاہر کرنے اور گلے پڑ کر اپنے کو چھپانے اور ان کے صحابہ میں رہنے کی وجہ سے ان پر صحابی کا اطلاق مجازی طور پر ہے اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی اصحابی یعنی میرے صحابہ میں ہیں فرمایا اور من اصحابی یعنی میرے صحابہ میں سے ہیں نہیں فرمایا اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کہتے ہیں ابليس كان في الملئكة : ابلیس فرشتوں میں تھا یعنی ان کی جماعت میں رہتا تھا، اور اس کو فرشتوں میں سے کہنا یعنی ایک فرشتہ کہنا درست نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”كَانَ مِنَ الْجِنِّ“۔(18۔ سورۃ الکہف، آیت نمبر:50) وہ جنات میں سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے پوشیدہ طور پر اپنے خاص اور اہل مرتبت صحابہ سے اس تلبیسی نشان زدہ نفاقی جماعت کا معاملہ بتا دیا تا کہ ان کے ظاہری ایمان کو قبول نہ کریں اور ان کے اس دھوکہ اور کفر و فریب کو قبول نہ کریں، اور جن صحابہ کو یہ بات محفوظ تھی ان پر ان کا معاملہ پوشیدہ نہیں تھا کیونکہ صحابہ میں ان کی یہ کیفیت مشہور تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق صحابہ ان کے ساتھ صاف گفتگو سے پیش آتے تھے، اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ میں ان کے ناموں کو خوب جانتے تھے اس لئے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے موقعہ پر لیلۃ العقبہ میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جس وقت منافقین رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا عزم کر چکے تھے اور عقبہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اور حضرت عمار جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سامنے تھے اور حضرت حذیفہ جو سواری کے پیچھے تھے کے سوا اور کوئی نہیں تھے، حضرت عمار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سامنے تھے اور حضرت حذیفہ سواری کے پیچھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ وادی کے نشیبی حصہ کو اختیار کرو کیونکہ وہ تمہارے لئے وسیع اور کشادہ ہے۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کے اوپر کو اختیار فرمایا پس جب منافقین اس اعلان کو سنے تو آپ کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارادہ کر لئے اور چہروں پر نقاب ڈال کر پیچھا کئے اور یہ بارہ کی تعداد میں تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے کچھ لوگوں کی آہٹ سنی تو حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ ان کا جواب دو تو حضرت حذیفہ نے اپنی ایک چھڑی سے ان کی سواریوں کے چہروں پر زور سے ایسا مارا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رعب ڈال دیا اور وہ جب حضرت حذیفہ کو دیکھے تو سب تیزی سے ایڑیوں کے بل پلٹ گئے اور لوگوں میں جا کر مل گئے اور حضرت حذیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو آپ نے حضرت حذیفہ سے فرمایا کیا تم نے ان میں سے کسی کو پہچانا تو حضرت حذیفہ نے کہا نہیں کیونکہ وہ نقاب ڈالے ہوئے تھے لیکن ان کی سواریوں کو جانتا ہوں تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے اور ان کے باپ دادا کے ناموں کو بتا دیا ان شاء اللہ صبح کے وقت میں تم کو بتاؤں گا۔ اسی وجہ سے لوگ منافقین کے معاملہ میں حضرت حذیفہ کے پاس رجوع کرتے تھے۔ اور حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ وہ چودہ (14) تھے ان میں سے دو توبہ کر لئے تھے، اور بارہ (12) نفاق پر اڑے رہے، جیسا کہ صادق مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے۔ اور میں کتب حدیث میں ان کے ناموں کو جو حضرت حذیفہ سے مروی ہیں پایا ہوں، البتہ بعض ناموں میں اختلاف پایا اور دین میں جس چیز کی ضرورت نہیں اس میں ایسے آپ کو ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ (مرقات)۔ (23) قوله: ثمانية منهم۔ یعنی بارہ (12) منافقین میں سے آٹھ (8) تكفيهم یعنی ان کے شر کو دفع کر دے گا، الدبيلة علامہ قاضی نے فرمایا دبیلہ اصل میں دبل کی تصغیر ہے اور چالاک کو کہتے ہیں، اور یہاں خراب پھوڑا مراد ہے جو انسان کے پیٹ میں پیدا ہوتا ہے اور اس کو دبلہ دال کے زبر اور پیش کے ساتھ بھی بولتے ہیں۔ سراج من نار آگ کا شعلہ یہ دبیلہ کی تفسیر ہے اور بظاہر یہ حضرت حذیفہ کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ يظهر یعنی شعلہ نکلے گا۔ في اكتافهم ان کے کندھوں میں حتى تنجم ج کو پیش ہے یعنی یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوگا اور نکلے گا، في صدورهم یعنی ان کے پیٹوں میں۔ علامہ قاضی کے کلام میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تظهر مؤنث کا صیغہ ہے کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ حدیث میں اس کی تفسیر ایسی آگ سے کی گئی ہے جو ان کے مونڈھوں میں نکلے گی یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوگی تنجم یعنی وہ ظاہر ہوگی یہ نجم ينجم ج کو پیش کے ساتھ ہے، یعنی ظاہر ہوا اور نمودار ہوا پھر فرمایا ہو سکتا ہے اس سے مراد سوجن اور ورم ہو جو ان کے کندھوں میں پیدا ہوگا اور اس کی حرارت اور (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) شعلے کی لپٹ ان کے سینوں میں چراغ کے شعلے کی شکل میں نمودار ہوگی اور حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ان کی شناخت کروائی۔ اور یہ سب ایسا ہی ہلاک ہوئے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں آپ کو بتا دیا تھا۔ صلوات الله وسلامه عليه۔ (مرقات)۔