العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٧٠ - وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ حِينَ أَجْلَى1 الْأَحْزَابَ عَنْهُ: «الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا ، نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4109 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: repelled: Meaning they dispersed and retreated. His statement: the Confederates: Groups of disbelievers who united to fight the Master of the Righteous on the day of the Trench, including Quraysh with ten thousand from Banu Kinanah and Tihamah, led by Abu Sufyan; Ghatafan with a thousand and their followers from Najd, led by Uyaynah ibn Hisn and Amir ibn Tufayl with Hawazin; and Jews from Qurayzah and Nadir. They stayed nearly a month with no fighting except arrows and stones, until Allah sent victory with the Saba wind and unseen soldiers—angels—casting fear into their hearts. Talhah ibn Khuwaylid al-Asadi said, “Flee, flee,” and they fled without battle. This is the meaning of repelling. His statement: now: Meaning hereafter, expressed as “now” for emphasis. His statement: we will march to them: Meaning they will not march to us. It happened as he said, as he attacked them after the Hudaybiyyah truce and the conquest of Makkah, achieving victory. Praise and thanks be to Allah. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أجلى أي تفرق وانكشف. وقوله: «الأحزاب وهم طوائف من الكفار تحزبوا، واجتمعوا لحرب سيد الأبرار في يوم الخندق، منهم قريش قد أقبلت في عشرة آلاف من بني كنانة وأهل تهامة، وقائدهم أبو سفيان، وخرج غطفان في ألف، ومن تابعهم، ومن أهل نجد، وقائدهم عيينة بن حصن وعامر بن الطفيل في هوازن وضامتهم اليهود من قريظة والنضير، ومضى على الفريقين قريب من شهر لا حرب بينهم إلا الترامي بالنبل والحجارة، حتى أنزل الله تعالى النصر بأن أرسل عليهم ريح الصبا وجنودا لم يروها، وهم الملائكة، وقذف في قلوبهم الرعب، فقال طلحة بن خويلد الأسدي النجاء النجاء، فانهزموا من غير قتال. وهذا معنى الإجلاء». وقوله: «الآن» أي فيما بعد هذا الزمان، وعبر عنه بـ «الآن» للمبالغة في البيان. وقوله: «نحن نسير إليهم أي وهم لا يسيرون إلينا، وكان الأمر كما أخبر، فغزاههم بعد صلح الحديبية وفتح مكة، وحصلت له الغلبة، والله الحمد والمنة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(73) وقوله: اجلى. یعنی الگ الگ ہوگئے اور منتشر ہوگئے۔ وقوله: الاحزاب. کفار کی جماعتیں جو خندق کے روز رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہونے کیلئے جمع ہوئے تھے ان میں قریش بھی تھے اور بنی کنانہ اور اہل تہامہ جملہ دس ہزار تھے اور ان کے سردار ابوسفیان تھے۔ اور قبیلہ غطفان اور اہل نجد سے ان کے تابعدار ایک ہزار تھے اور ان کے قائد عیینہ بن حصن تھے اور قبیلہ ہوازن کے سردار عامر بن طفیل تھے اور بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودی ان کے ساتھ ہوگئے تھے اور دونوں جماعتوں پر تقریباً ایک مہینہ ایسا گزرا کہ سوائے تیراندازی اور سنگ باری کے کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے خلاف مشرقی ہوا سے اور ایسی فوج سے مدد بھیجی جس کو وہ نہیں دیکھ رہے تھے یعنی فرشتوں سے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا طلحہ بن خویلد اسدی نے اعلان کیا: جلدی نکل جاؤ جلدی نکل جاؤ لہٰذا وہ بغیر جنگ کے ہی شکست کھا گئے اور اجلاء کے یہی معنی ہیں۔ وقوله: الان. اس سے مراد ہے آنے والے زمانہ میں اور اس کو اب سے تعبیر فرمانا بیان میں مبالغہ کے لئے ہے۔ وقوله: نحن نسير اليهم. یعنی وہ لوگ ہماری طرف نہیں آئیں گے اور ہوا بھی ایسا ہی جیسا آپ نے فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد ان سے جنگ فرمایا اور مکہ کو فتح کر لیا اور آپ غالب آگئے۔ اللہ کے لئے ہی تعریف ہے اور اسی کا احسان ہے۔(مرقات)۔