العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٢٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: أُتِيَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ ، 1 وَقَالَ2 فِي حُسْنِهِ شَيْئًا. قَالَ أَنَسٌ : فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللهِ ﷺ. وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِيّ: قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ، وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللهِ ﷺ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement “poke at it”: In An-Nihayah, it is said: Meaning, to reflect and talk to himself. Its origin is from poking with a stick, which is striking the ground with it. Poking the ground with a stick means making a mark with its tip, like a thinker lost in thought. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) The statement “said something about its beauty”: It might initially seem that he belittled or criticized its beauty out of defiance or obstinacy, and Anas refuted him. However, it appears from At-Tirmidhi’s narration that he praised and described it with great beauty, but this was done mockingly and scornfully, out of joy and delight at his killing. (As stated in Al-Lama’at)
Note 1
(۱) قوله: ينكت في النهاية»: أي يفكر ويحدث بنفسه وأصله من النكت بالعصا، وهو ضرب الأرض بها، ونكت الأرض بالقضيب هو أن يؤثر فيها بطرفه كفحل المفكر الموهوم. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: قال في حسنه شيئا قد يسبق إلى الزهن أنه طعن ونقص حسنه مكابرة وعنادا فرد عليه أنس قوله، ولكن يظهر من رواية الترمذي أنه حسنه ووصفه بالحسن البالغ، وكان ذلك بطريق السخرية والاستهزاء تبهجا وسرورا حصل له بقتله. كذا في «اللمعات».
Note 1
(29) قولہ: ینکت۔ کتاب نہایہ میں ہے یعنی غور و فکر کر رہا تھا اور اپنے آپ سے گفتگو کر رہا تھا، اس کی اصل النكت بالعصا یعنی چھڑی سے کریدنا، اور یہ زمین پر عصاء سے مارنا ہے ونكت الارض بالقضيب اور وہ یہ کہ ایک فکر میں ڈوبے ہوئے شخص کی طرح چھڑی کے ایک کنارے سے زمین پر نشان ڈالے۔ (مرقات) (30) قولہ: في حسنه شيئا۔ اس سے بھی ذہن اس بات کی طرف جاتا ہے کہ وہ اپنی بڑائی اور عناد کی وجہ سے آپ کے حسن میں نقص ظاہر کر رہا تھا تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قول سے اس کا جواب دیا لیکن ترمذی (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) شریف کی روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے آپ کے انتہائی حسین ہونے کو بیان کیا اور یہ اس کا مذاق اور استہزاء کا انداز تھا اور آپ کو شہید کرنے کی خوشی میں کہہ رہا تھا۔(لمعات)