Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 950

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

Zujajat al-Masabih 950Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٩٥٠ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلَ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ». قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى». قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُوْنَ عَامًا، ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ، فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلَّ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3366 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 520a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: لمعات میں کہا ہے کہ اس حدیث میں اشکال ہے وہ یہ ہے کہ کعبۃ اللہ کے بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور بیت المقدس کے بانی سلیمان علیہ السلام ہیں اور ان دونوں کی تعمیر میں ایک ہزار برس سے زیادہ مدت کا فرق ہے، اس اشکال کا عمدہ جواب ابن جوزی رحمۃ اللہ نے نقل کیا ہے کہ اس حدیث میں اشارہ ان دونوں مسجدوں کے ابتدائی تعمیر کی طرف ہے کیوں کہ جس طرح کعبہ کے بانی اول ابراہیم علیہ السلام نہیں ہیں اسی طرح بیت المقدس کے بانی اول سلیمان علیہ السلام نہیں ہیں۔ اس بارے میں منقول ہے کہ کعبۃ اللہ کو سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا اور جب ان کی اولاد روئے زمین پر پھیلی تو ان کی اولاد ہی سے کسی نے اولاً بیت المقدس کی بناء رکھی اور ان دونوں مسجدوں کی اس ابتدائی تعمیر میں چالیس برس کا فرق ہے۔ پھر اس کے بعد دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ اللہ بنایا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس تعمیر کیا۔12