Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 989

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ

Zujajat al-Masabih 989Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۹۸۹ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه): أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ1 . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 444 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 714a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Let him pray two Rak'ahs before sitting

(1) Explanation of the statement: "Let him pray two Rak'ahs before sitting": In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is said: "It is recommended to greet the Lord of the mosque, which is two Rak'ahs. Performing an obligatory prayer or another prayer suffices for it without specific intention, and it suffices once per day. It is not invalidated by sitting, according to our view. They said in Al-Hakim: 'If a judge enters the mosque, he may pray the greeting upon entering or leaving, as the purpose is achieved,' as mentioned in Al-Ghayah. As for the hadith in the Sahihayn: 'When one of you enters the mosque, he should not sit until he prays two Rak'ahs,' it explains the first recommendation. This is supported by the hadith of Ibn Hibban in his Sahih: 'O Abu Dharr, the mosque has a greeting, and its greeting is two Rak'ahs. Stand and pray them.' The full explanation is in Al-Hilyah."

Note 1

قوله

(۱) قوله: فليركع ركعتين قبل أن يجلس وقال في الدر المختار ورد المحتار: يسن تحية رب المسجد، وهي ركعتان، وأداء الفرض أو غيره ينوب عنها بلا نية، وتكفيه لكل يوم مرَّةً، ولا تسقط بالجلوس عندنا؛ فإنهم قالوا في الحاكم: إذا دخل المسجد للحكم إن شاء صلى التحية عند دخوله أو عند خروجه؛ لحصول المقصود، كما في الغاية». وأما حديث الصحيحين: إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين، فهو بيان للأولى؛ لحديث ابن حبان في صحيحه: يا أبا ذر إن للمسجد تحية، وإن تحيته ركعتان، فقم فاركعهما. وتمامه في الحلية».

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیہ المسجد پڑھ لیا کرے، واضح ہو کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیہ المسجد کی نیت سے جو دو رکعتیں ادا کی جاتی ہیں وہ دراصل تحیہ رب المسجد ہیں جن کو اختصار کی غرض سے تحیہ المسجد کہا جاتا ہے کیونکہ ان دو رکعتوں سے مقصود تحیۃ المسجد نہیں بلکہ مقصود رب مسجد کا تحیہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہیں۔ درمختار اور ردالمحتار میں کہا ہے کہ تحیۃ المسجد کا ادا کرنا سنت ہے اور تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں ہیں، مسجد میں داخل ہونے کے بعد کسی فرض نماز یا فرض نماز کے سوا کسی اور نماز کا ادا کرنا تحیۃ المسجد کے ادا کرنے کا قائم مقام ہو جاتا ہے، اگرچہ کہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی جائے، اور تحیۃ المسجد کا دن میں ایک دفعہ ادا کرنا پورے اس دن کیلئے کافی ہے، خواہ کتنے ہی مرتبہ مسجد میں آتا جاتا رہا ہو۔ حنفیوں کے پاس تحیۃ المسجد مسجد میں داخل ہوکر بیٹھ جانے سے ساقط نہیں ہوتی اس لئے اگر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کرلی جائے تو ادا کی جا سکتی ہے۔ فقہاء نے کہا ہے کہ حاکم وقت اگر فیصلہ کرنے کی خاطر مسجد میں داخل ہو تو خواہ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد ادا کرلے یا چاہے تو مسجد سے نکلنے وقت تحیۃ المسجد پڑھ لے، اس سے بھی مقصود حاصل ہو جاتا ہے کیوں کہ مقصود تو تحیۃ المسجد کا ادا کرنا ہے۔ یہ عنایہ سے ماخوذ ہے، لیکن بخاری اور مسلم کی مذکور الصدر حدیث کے پیش نظر مذہب حنفی پر شبہ وارد ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرنے کا حکم ہے اور حنفی مذہب میں بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کی جا سکتی ہے جو بظاہر بخاری اور مسلم کی حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی اس مذکور الصدر حدیث میں جو ذکر ہے کہ مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرلیا جائے اس سے مراد یہ ہے کہ تحیۃ المسجد بیٹھنے سے پہلے ادا کرنا اولیٰ ہے ضروری نہیں ہے بلکہ مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کرسکتے ہیں اس پر ابن حبان کی حدیث جو اس حدیث کے بعد آرہی ہے دلیل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما تھے، ابوذر رضی اللہ عنہ خدمت مبارک میں بیٹھ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر (رضی اللہ عنہ) مسجد میں آنے والے کیلئے تحیۃ المسجد (مستحب ہے) اور تحیۃ المسجد یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نماز ادا کی جائے، پس اٹھو ابوذر اور دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لو۔ ابن حبان کی اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اگر دخول مسجد کے بعد بیٹھ جانے سے تحیۃ المسجد ساقط ہو جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر رضی اللہ عنہ کے بیٹھ جانے کے بعد ان کو تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم نہ دیتے، اس سے ثابت ہو گیا کہ تحیۃ المسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ ردالمحتار میں کہا ہے کہ تفصیل حلیہ میں ملاحظہ ہو۔12