Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1240 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2162a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ایک ان میں سے سلام کا جواب دیدے تو سب کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہو جاتی ہے اس لئے یہ
سلام کا جواب دینا فرض کفایہ ہے ایسا ہی آنے والے مسلمان پر بیٹھے ہوئے مسلمانوں کا حق ہے کہ یہ
آنے والا ان پر سلام کرے (آنے والے کا یہ سلام کرنا سنت ہے، مرقات میں مذکور ہے کہ یہ ایسی
سنت ہے جو جواب دینے کے فرض سے افضل ہے اور ثواب میں زیادہ ہے اس لئے کہ سلام کرنے
سے تواضع اور انکساری معلوم ہوتی ہے اور تکبر کی نفی ہوتی ہے) (2) (مسلمان کا مسلمان پر دوسرا حق
یہ ہے کہ) جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کی جائے اور (3) مسلمان کا مسلمان پر تیسرا
حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ چلنا، کندھا دینا اور نماز کے بعد
بھی ساتھ جانا اور دفن تک ٹھہرنا (یہ سب ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حق ہیں اور یہ سب فرض
کفایہ ہیں، چند لوگوں کے ادا کرنے سے سب کی طرف سے فرض کی ادائی ہو جاتی ہے کوئی گنہگار
نہیں ہوتا اگر کوئی مسلمان بھی ان کو ادا نہ کرے تو سب مسلمان گنہگار ہوں گے) (4) مسلمان کا
مسلمان پر چوتھا حق یہ ہے کہ اگر وہ دعوت دے (اور وہ دعوت کیسے ہی معمولی کھانے کی کیوں نہ ہو)
تو اس کی دعوت کو قبول کرے (اگر وہ دعوت ولیمہ کی دعوت ہے تو اس کا قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے،
ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں کا قبول کرنا سنت مستحب ہے، اگر کسی عذر سے کوئی دعوت قبول نہیں کیا خواہ
ولیمہ کی ہو یا کوئی اور دعوت ہو تو خیر اور بات ہے اور اگر بغیر کسی عذر کے دعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور
دعوت، اس میں شریک نہ ہوا تو وہ اس وعید کا مستحق ہوگا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس
حدیث شریف میں ارشاد فرمائے ہیں ”وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ“ جو
دعوت قبول نہیں کیا اور (بلا عذر) دعوت میں نہیں گیا تو اس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی
کی، اس لئے کہ وہ دعوت میں جاتا تو مسلمان کا دل خوش کرتا، دعوت میں نہ جا کر دعوت دینے والے
کا دل دکھایا اور اس کی ہتک کیا) (5) مسلمان کا مسلمان پر پانچواں حق یہ ہے کہ جب چھینکنے والا
چھینکے (اور آواز سے ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے اور ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہنا سنت ہے اور دوسرے مسلمان پر
(اس کے جواب میں) ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ کہنا (واجب ہے اگر حاضرین
میں سے ایک بھی جواب میں ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ کہا تو سب کی طرف سے
ادائی ہوجائے گی۔) (اگر چھینکنے والا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ نہ کہے یا ایسا آہستہ کہے سنائی نہ دے تو
حاضرین میں سے کوئی چھینکنے والے کا جواب ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ سے نہ
دیوے۔) (اگر چھینکنے والا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے تو سنت کی ادائی تو ہو جاتی ہے مگر ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کے
ساتھ ”رَبِّ الْعَالَمِيْنَ عَلٰى كُلِّ حَالٍ“ پڑھنا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ عَلٰى كُلِّ
حَالٍ“ کہے تو وہ ہمیشہ کے لئے داڑھ اور کان کے درد سے محفوظ رہے گا جیسا کہ مرقات میں حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1356 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5657 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
So the boy embraced Islam
(1) The statement: "So the boy embraced Islam" supports the view of Imam Abu Hanifah, who holds that the Islam of a child is valid. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله : فأسلم إلخ : ظاهر الحديث يُؤيد مذهب الإمام أبي حنيفة حيث يقول بصحة إسلام الصبي. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے کئی مسائل معلوم ہوئے، ایک مسئلہ تو یہ ہے جیسا کہ عمدۃ القاری
میں لکھا ہے کہ کافر سے خدمت لینا جائز ہے، ایسا ہی نابالغ بچے سے بھی خدمت لینا جائز ہے، اس حدیث
شریف سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا جیسا کہ مرقات اور بستان فقیہ ابواللیث میں مذکور ہے کہ ذمی کافر
بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کے لئے جانا جائز ہے اور خزانۃ الفتاوی میں مذکور ہے کہ یہودی، مجوسی اور
فاسق کی بیمار پرسی کے لئے جانا جائز ہے، اور اس کے جواز پر فتوی ہے اور تیسرا مسئلہ یہ ہے جو مرقات
میں مذکور ہے کہ بیمار کے پاس بیمار پرسی کے لئے جانے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ بیمار کے
سرہانے بیٹھ کر بیمار پرسی کرے، اس حدیث سے چوتھا مسئلہ یہ معلوم ہوا جو عمدۃ القاری اور مرقات میں
مذکور ہے کہ بچہ کا اسلام لانا صحیح ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دوزخ سے نجات
ملنے کی خوشخبری دیئے، اگر بچہ کا اسلام لانا صحیح نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اسلام لانے کے
لئے نہ فرماتے، اور اس کے اسلام لانے کے بعد نجات کی خوشخبری نہ دیتے، بچہ کا اسلام لانا صحیح ہونے
کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسلام سے ہوتی ہے کہ آپ بھی بچپن ہی میں اسلام قبول فرمائے
تھے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے جس کی تائید مذکورہ واقعات سے ہوتی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3097 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں وضوء کر کے عیادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لئے کہ عیادت
عبادت ہے اور عبادت وضوء کے ساتھ ہو تو کامل اور افضل ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب
عیادت کو جائے گا تو وہاں مریض کے لئے دعا کرے گا اور دعا باوضوء ہو تو جلد قبول ہوتی ہے اس لئے
باوضوء عیادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسی لئے باوضوء عیادت کرنا سنت ہے۔ مرقات
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2194a (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5745 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اب رہی یہ بات کہ حدیث شریف میں تھوک کو مٹی سے ملا کر یہ جو علاج کیا گیا ہے وہ ایسے
اسرار میں سے ہے جن کا سمجھنا ہماری عقلوں سے باہر ہے جیسے حضور عمل کئے ہیں، ایسے ہی عمل کرو،
اور اللہ تعالیٰ سے شفاء کی امید رکھو جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5016 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2192a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ کو بھی معوذات میں شریک کر کے معوذات جمع کا لفظ
استعمال کیا گیا ہے اگرچہ کہ سورہ کافرون اور سورہ اخلاص میں تعوذ کا ذکر نہیں ہے، مگر سورہ فلق اور
سورہ ناس میں تعوذ کا ذکر ہونے سے ان دونوں سورتوں کو تغلیباً یعنی غالب کر کے سورہ کافرون اور
سورہ اخلاص کو ضمنی طور پر معوذات میں شریک کیا گیا ہے، جیسا کہ عسقلانی سے مرقات میں مذکور
ہے۔) حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس بیماری سے بیمار ہوئے
جس میں آپ دنیا سے تشریف لے گئے (تو حضور کو معلوم ہو گیا کہ آپ اس بیماری میں دنیا سے
تشریف لے جائیں گے، اس لئے آپ خود معوذات حسب عادت نہ پڑھتے اور نہ اپنے پر پھونک
لئے مجھے حضور کی صحت کی یہ فکر تھی اس لئے) میں انہیں معوذات کو خود پڑھتی تھی اور حضور کے
ہاتھوں پر پھونک کر حضور کے ہاتھوں کو ہی حضور کے جسم پر ملا کرتی تھی (تاکہ حضور کے ہاتھوں کی
برکت سے اور ان معوذات کے پڑھنے سے حضور کو جلد صحت ہو جائے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Note 2
(مسلم کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ معوذات کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کرکے مریض کے
جسم پر ملے بغیر صرف مریض کے جسم پر پھونک دینا بھی کافی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3102 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He visited me
(1) The statement: "He visited me" is understood to be from the non-mandatory Sunnah. The summary is that visiting is not obligatory in these cases, as it is discouraged. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
کے حوالے سے مذکور ہے مگر آشوب چشم میں جو عیادت کی گئی تھی وہ سنت مؤکدہ نہیں ہے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
(آشوب چشم کی وجہ سے حضور جو عیادت فرمائے ہیں وہ مثل اور عیادتوں کے سنت مؤکدہ نہیں
تھی اس لئے)۔
Note 2
عیادت کرنا ممنوع ہے بلکہ ان تین بیماریوں میں کوئی عیادت کرے تو جائز ہے، ہاں سنت مؤکدہ نہیں
ہے، اسی وجہ سے آشوب چشم کے مرض کی حضور عیادت فرمائے ہیں وہ تین بیماریاں جن میں عیادت
کرنا سنت مؤکدہ نہیں ہے بلکہ جائز ہے اور ممنوع نہیں ہے وہ یہ ہیں: آنکھ میں درد ہو یا آشوب چشم
ہو یا داڑھ کا درد ہو۔ اسی لئے مرقات میں ازہار سے نقل کیا ہے کہ وہ تمام بیماریاں جن میں کوئی خوف
کی بات نہ ہو، جیسے سر کا درد یا دمل وغیرہ ان کی بھی عیادت ممنوع نہیں ہے۔ سنت مؤکدہ بھی نہیں ہے
بلکہ جائز ہے چاہیں تو کر سکتے ہیں، ان امراض میں بھی عیادت کرنے سے عیادت کا ثواب ملے گا۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5645 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہیں (کبھی مال کا نقصان ہوتا ہے کبھی اولاد کی وجہ سے پریشانی آتی ہے اور کبھی خود اس پر آفتیں آتی
ہیں، اس کی وجہ سے اس کو گناہوں سے پاک کرتے ہیں اور اس کے درجے بلند کرتے ہیں، اے
مصیبت زدہ جب تجھ پر مصیبتیں آئیں تو گھبرانا نہیں، بہت استقلال کے ساتھ برداشت کئے
جانا، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ راضی اور خوش رہنا، پھر دیکھ کیسے تجھ پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے تجھے گناہوں
سے پاک کرتے ہیں اور آخرت میں بڑے درجے دیتے ہیں۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Free the captive" means to release the enslaved prisoner. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله : فكوا عاني: أي أعتقوا الأسير الرقيق. قاله في «المرقاة».