Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 431 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1148 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اسی قسم کی دوسری احادیث کے سمجھنے کے لئے سرّی
جہری قرأت کی تعریف سنئے:۔
صاحب ردالمحتار نے امام کے نماز میں جہری قرأت کے متعلق لکھا ہے: وادنى الجهر
اسماع غيره ممن ليس بقربه كاهل الصف الاول واعلاه لاحد له (ترجمہ: امام کے لئے
جہری نماز میں جہری قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ پہلی صف والے اس کی قرأت کو سن سکیں، اگر امام
اپنے اور اپنے قریب کے ہی ایک یا دو شخصوں کو قرأت سنائے تو یہ جہر نہیں ہے سمجھا جائے گا اور جہری کی اعلیٰ
حد مقرر نہیں ہے۔ امام جہاں تک چاہے اپنی آواز کو سنا سکتا ہے۔ اور سرّی قرأت کے متعلق صاحب
ردالمحتار نے یہ لکھا ہے:۔
”ادنى المخافتة اسماع نفسه او من بقربه من رجل او رجلين مثلاً (ترجمہ:
سری نماز میں امام یا منفرد کے لئے قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنائیں اگر قریب کے
ایک یا دو آدمی بھی اس کی سری قرأت کو سن لیں تو اس کا شمار بھی سری قرأت ہی میں ہوگا۔
صاحب ردالمحتار نے خانیہ اور خلاصہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جامع صغیر میں بھی جہری اور سری
قرأت کی تعریف اسی طرح مذکور ہے۔
قرأت کی اس تعریف کو پیش نظر رکھ کر صدر کی اس حدیث پر غور کیجئے:۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب
کے بعد اور فجر کے پہلے کی دو سنتوں میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ کثرت سے
پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ سنتوں میں تو جہری قرأت نہیں ہے، پھر ابن مسعود رضی
اللہ عنہ نے اس سری قرأت کو کس طرح سن لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سرّی قرأت میں نمازی کی قرأت
کو قریب کے ایک دو آدمی سن لیں تو اس پر جہری قرأت کا حکم صادق نہیں آئے گا بلکہ یہ سری قرأت ہی
کہلائے گی اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سری نمازوں کی قرأت کو سنا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3291 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سورہ رحمن کی تلاوت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ
جب بھی ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ پر پہنچے تو جواب میں لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا
نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ فوراً پڑھتا جائے۔
ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات نے جب سورہ رحمن سنا
تو آیت ”فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ“ سننے کے بعد جواب میں انہوں نے لَا بِشَيْءٍ مِنْ
نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ پڑھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند فرمایا اور اس کے
بعد والی حدیث میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آیت ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“
تلاوت فرمائی تو جواب میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھے، اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو
حدیث آگے آ رہی ہے اس میں بھی مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض آیتوں کی تلاوت کے بعد ان
کا جواب دینے ارشاد فرمائے ہیں۔
ہمارے علماء احناف نے اس قسم کی تمام حدیثوں کا حکم خارج نماز تلاوت قرآن کرنے والے
اور تنہا نفل نماز پڑھنے والے سے متعلق کیا ہے کہ یہ دونوں جب ایسی آیتوں پر پہنچیں تو وہ ان آیتوں کے
پڑھنے کے بعد احادیث میں جو جوابات مذکور ہیں ان کو پڑھا کریں اس کے برخلاف فرض نمازوں میں
امام ہو یا مقتدی دونوں کے لئے امام کے ان آیتوں کی قرأت کے وقت مذکورہ جوابات دینا جائز نہیں
ہے، اور تنہا فرض نماز پڑھنے والے کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ بھی مذکورہ جوابات نہ دے اور ایسے ہی تراویح
اور دوسرے نوافل جو جماعت سے پڑھے جاتے ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے کہ ان میں بھی مذکورہ
جوابات کا دینا جائز نہیں۔
اسی طرح مقتدی اور امام اس قسم کی چیزوں میں بالکل برابر ہیں دونوں کا حکم ایک ہی ہے کہ امام
یا مقتدی دونوں کے لئے ترغیب کی آیتوں کے پڑھتے وقت جنت کا سوال کرنا اور ترہیب (ڈرانے
والی) آیتوں کے پڑھتے وقت دوزخ سے پناہ مانگنا اور تسبیح کی آیتوں (جن میں اللہ کی پاکی بیان کرنے
کا حکم ہے) کے جواب میں سبحان اللہ کہنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سننے پر درود پڑھنا یہ سب
چیزیں نماز میں جائز نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کے
بارے میں جو آیات اور حدیثیں آئی ہیں سب مطلق ہیں اس لئے اگر مقتدی ان آیات کو سننے کے بعد
مذکورہ جوابات دے تو امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کا جو حکم ہے اس کے خلاف ہوگا اور اسی طرح امام
کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ نماز میں قرأت کے سوا غیر قرآن پڑھے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
سے جماعت والی فرض اور نفل نمازوں میں ایسے جوابات کا دینا ثابت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے
علماء احناف نے اس کو اختیار نہیں کیا۔
ان دلائل کے قطع نظر نماز میں امام کا قرآن کے سوا غیر قرآن پڑھنا مقتدیوں پر دشواری کا
باعث ہوگا حالانکہ امام کو مقتدیوں کے لحاظ سے ہلکی نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
(یہ پورا مضمون فتح القدیر، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ اور سعایہ سے ماخوذ ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اسی قسم کی دوسری احادیث کے سمجھنے کے لئے سرّی جہری قرأت کی تعریف سنئے:۔ صاحب ردالمحتار نے امام کے نماز میں جہری قرأت کے متعلق لکھا ہے: وادنى الجهر اسماع غيره ممن ليس بقربه كاهل الصف الاول واعلاه لاحد له (ترجمہ: امام کے لئے جہری نماز میں جہری قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ پہلی صف والے اس کی قرأت کو سن سکیں، اگر امام اپنے اور اپنے قریب کے ہی ایک یا دو شخصوں کو قرأت سنائے تو یہ جہر نہیں ہے سمجھا جائے گا اور جہری کی اعلیٰ حد مقرر نہیں ہے۔ امام جہاں تک چاہے اپنی آواز کو سنا سکتا ہے۔ اور سرّی قرأت کے متعلق صاحب ردالمحتار نے یہ لکھا ہے:۔ ”ادنى المخافتة اسماع نفسه او من بقربه من رجل او رجلين مثلاً (ترجمہ: سری نماز میں امام یا منفرد کے لئے قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنائیں اگر قریب کے ایک یا دو آدمی بھی اس کی سری قرأت کو سن لیں تو اس کا شمار بھی سری قرأت ہی میں ہوگا۔ صاحب ردالمحتار نے خانیہ اور خلاصہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جامع صغیر میں بھی جہری اور سری قرأت کی تعریف اسی طرح مذکور ہے۔ قرأت کی اس تعریف کو پیش نظر رکھ کر صدر کی اس حدیث پر غور کیجئے:۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد اور فجر کے پہلے کی دو سنتوں میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ کثرت سے پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ سنتوں میں تو جہری قرأت نہیں ہے، پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سری قرأت کو کس طرح سن لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سرّی قرأت میں نمازی کی قرأت کو قریب کے ایک دو آدمی سن لیں تو اس پر جہری قرأت کا حکم صادق نہیں آئے گا بلکہ یہ سری قرأت ہی کہلائے گی اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سری نمازوں کی قرأت کو سنا ہے۔