Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کہتے ہیں، درمختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ مغرب کے بعد کے دو رکعت سنت مؤکدہ ان چھ رکعتوں
میں داخل ہیں، پہلے دو رکعت سنت کو ایک سلام سے پڑھے اور بعد کے چار رکعت میں اختیار ہے خواہ
ایک سلام سے پڑھے یا دو سلام سے، صلاۃ اوابین کو پڑھنے کا یہ طریقہ ہے، ملتقیٰ میں لکھا ہے کہ
مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھ کر اس کے بعد چھ رکعتیں صلاۃ اوابین اداء
کرے، ردالمحتار میں مذکور ہے کہ ان چھ رکعتوں کو تین سلام سے اداء کرے تاکہ یہ پوری چھ رکعتیں
ایک نہج پر اداء ہوسکیں، صلاۃ اوابین کو اداء کرنے کا یہ دوسرا طریقہ ہے) ان چھ رکعتوں کو اس طرح
پڑھے کہ ان کے درمیان کوئی ایسی بات نہ کہے جس سے کسی کا دل دکھے یا اس سے اللہ تعالیٰ ناراض
ہوں تو اس کو ان چھ رکعتوں کے اس طرح پڑھنے سے بارہ سال کی عبادت کا ثواب دیا جائے گا۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1169 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 724a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He was not more consistent in any voluntary prayers than he was in the two rak'ahs of Fajr
(1) His statement: "He was not more consistent in any voluntary prayers than he was in the two rak'ahs of Fajr" – The most emphasized Sunnah prayers are the two rak'ahs of Fajr by consensus. Then come the four rak'ahs before Dhuhr, according to the most correct opinion, due to the Hadith: "Whoever abandons them will not attain my intercession." The rest of the Sunnah prayers are equal in status. Some scholars even considered them obligatory, so they cannot be prayed while sitting or riding, by consensus. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: أشد تعاهدا إلخ والسنن أكدها سنة الفجر اتفاقا ، ثم الأربع قبل الظهر في الأصح؛ لحديث: من تركها لم تنله شفاعتي، ثم الكل سواء. وقيل بوجوبها، فلا تجوز صلاتها قاعدا ولا راكبا اتفاقا. قاله في «الدر المختار».
Note 1
ف: درمختار میں لکھا ہے کہ تمام ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام سنتوں میں سب سے زیادہ
مؤکدہ فجر کی سنتیں ہیں، فجر کی دو سنتوں کے بعد باقی سب سنتوں میں ظہر کی چار سنتیں جو فرض سے پہلے
پڑھی جاتی ہیں نہایت مؤکدہ ہیں، اس لئے کہ حدیث شریف میں ارشاد ہے جو شخص ظہر کی ان چار
سنتوں کو ترک کرتا ہے وہ میری شفاعت سے محروم ہوگا۔ فجر اور ظہر کی سنتوں کے علاوہ بقیہ تمام سنتیں
مؤکدہ ہونے میں برابر ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ فجر کی سنتیں واجب ہیں اس لئے احتیاط یہ ہے کہ بلا
عذر فجر کی سنتوں کو بیٹھ کر یا سواری کی حالت میں پڑھنا جائز نہیں۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کہتے ہیں، درمختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ مغرب کے بعد کے دو رکعت سنت مؤکدہ ان چھ رکعتوں میں داخل ہیں، پہلے دو رکعت سنت کو ایک سلام سے پڑھے اور بعد کے چار رکعت میں اختیار ہے خواہ ایک سلام سے پڑھے یا دو سلام سے، صلاۃ اوابین کو پڑھنے کا یہ طریقہ ہے، ملتقیٰ میں لکھا ہے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھ کر اس کے بعد چھ رکعتیں صلاۃ اوابین اداء کرے، ردالمحتار میں مذکور ہے کہ ان چھ رکعتوں کو تین سلام سے اداء کرے تاکہ یہ پوری چھ رکعتیں ایک نہج پر اداء ہوسکیں، صلاۃ اوابین کو اداء کرنے کا یہ دوسرا طریقہ ہے) ان چھ رکعتوں کو اس طرح پڑھے کہ ان کے درمیان کوئی ایسی بات نہ کہے جس سے کسی کا دل دکھے یا اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوں تو اس کو ان چھ رکعتوں کے اس طرح پڑھنے سے بارہ سال کی عبادت کا ثواب دیا جائے گا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)