Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1341

Chapter on What is Not Permissible During Prayer and What is Allowed

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on What is Not Permissible During Prayer and What is Allowed

Zujajat al-Masabih 1341Volume 1

English

Mu'awiyah ibn Al-Hakam (may Allah be pleased with him) narrated: While I was praying with the Messenger of Allah (peace be upon him), a man from the group sneezed, so I said, "Yarhamuk Allah (May Allah have mercy on you)." The people glared at me, so I said, "May my mother lose me! Why are you looking at me?" They began to strike their hands on their thighs. When I saw them signaling me to be quiet, I remained silent. When the Messenger of Allah (peace be upon him) finished the prayer, may my father and mother be sacrificed for him, I have never seen a teacher before or after him who taught better than him. By Allah, he did not scold me, hit me, or insult me. He said, "This prayer is not the place for ordinary speech. It is only for Tasbeeh (glorification), Takbeer (magnification), and recitation of the Qur'an." Or as the Messenger of Allah (peace be upon him) said. I said, "O Messenger of Allah, I am new to Islam, and Allah has brought us Islam. Some of us still consult soothsayers." He said, "Do not consult them." I said, "Some of us take omens." He said, "That is something they feel in their hearts, so let it not prevent them." I said, "Some of us draw lines (for divination)." He said, "A prophet among the prophets used to draw lines, so whoever matches his line, that is it." [Narrated by Muslim] Ash-Shafi'i said: This indicates that the speech of someone ignorant of the ruling does not invalidate the prayer, as the Prophet did not order him to repeat the prayer. Ali Al-Qari said: The generality of the hadith is evidence for us that any speech invalidates the prayer, as mentioned in "Al-Hidayah." In "Jami' Al-Athar": The generality of something, being indefinite and occurring under negation, includes all speech in any form. At-Tahawi said: If someone asks why the Messenger of Allah (peace be upon him) did not order Mu'awiyah ibn Al-Hakam to repeat the prayer when he spoke during it, it can be said that the Prophet may have ordered him to repeat it, but it was not transmitted in the hadith.

Qur’an-related source paragraphs

And the Statement of Allah Almighty: "And stand before Allah in devotion" (Al-Baqarah: 238) and His Statement: "Those who are humble in their prayers" (Al-Mu'minun: 2).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 537a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 978 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 978

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ (یہ نماز ہے اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت (کسی طرح) ٹھیک نہیں، اس بارے میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں کلام ناس کی نماز میں ممانعت مطلقاً مذکور ہے کہ جس میں عمداً یا سہواً واقف سے ہو یا ناواقف سے ہو کسی قسم کی قید نہیں ہے اور اس طرح مطلقاً ممانعت میں ہمارے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ نماز میں کلام ناس عمداً ہو یا سہواً اصلاح نماز کے لئے ہو یا کسی اور غرض کے لئے واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے یہ سب نماز کو باطل کر دیتے ہیں، جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناواقف شخص سے نماز کے بعد ارشاد فرمایا کہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس میں کسی قسم کا کلام ناس کسی طرح ٹھیک نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مطلق ہونے کی وجہ سے ایسا ہی نماز کے منافی اور مفسد ہے، جیسا کہ نماز میں کھانا پینا نماز کے منافی اور مفسد ہے۔ صاحب عنایہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی ہیئت ہی ایسی ہے کہ اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت کا نہ ہونا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ نماز میں طہارت کا ہونا ضروری ہے تو جس طرح بغیر طہارت کے نماز جائز نہیں ہوتی اسی طرح کلام ناس سے بھی نماز جائز نہیں ہوتی، اور یہ ایک واضح بات ہے۔ (عنایہ کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) جامع الآثار میں لکھا ہے کہ یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ نکرہ جب نفی کے تحت واقع ہوتا ہے تو اس سے عموم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اس قاعدہ کو پیش نظر رکھ کر حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ شَیْءٌ نکرہ ہے اور نفی یعنی ”لَا يَصْلُحُ“، کے تحت واقع ہے جس سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ہر قسم کا کلام ناس عمداً ہو کہ سہواً ہو، واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے نماز کے منافی اور مفسد ہوگا۔ (جامع الآثار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اب رہی یہ بات کہ پھر کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا تو اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کے حکم کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو واقعۃً نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم تو دیا ہو لیکن انہوں نے اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (امام طحاوی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کی تائید ترمذی کے قول اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت خود ترمذی نے اس طرح کی ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس طرح بات چیت کر لیا کرتے تھے کہ ایک ساتھی اپنے پاس والے ساتھی سے بول لیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ”وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ“ (نماز میں اللہ کے سامنے خاموش ہو کر کھڑے رہو) پھر ہم لوگوں کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اور بولنے سے منع کیا گیا۔ امام ترمذی اس حدیث کی روایت کر کے فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور سب علماء کہتے ہیں کہ جو شخص نماز میں جان بوجھ کر یا بھول کر بات کر لے تو وہ نماز کو لوٹائے، امام سفیان ثوری اور امام ابن مبارک کا یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) خلاصہ بحث یہ ہے کہ امام طحاوی رحمة اللہ علیہ نے معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعادہ کا حکم فرمانا ممکن بتلایا ہے لیکن ترمذی کے اس مذکورہ قول سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم یقیناً ہوا ہوگا۔