English
Al-Irbadh ibn Sariyah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever among you lives after me will see much disagreement. You must adhere to my Sunnah and the Sunnah of the rightly guided caliphs. Hold firmly to it and bite onto it with your molars. Beware of newly invented matters, for every innovation is misguidance.'" [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Bayhaqi]
Tirmidhi and Ibn Majah narrated similar hadiths. Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4607 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 165 (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.804
Mishkat (candidate) 165
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ سنت ہے ایسا ہی خلفائے راشدین نے جو فرمایا یا عمل کیا ہو وہ بھی سنت ہے۔ مثال کے طور پر اس کی نظیر تراویح ہے۔ گو تراویح کی بناء عہد نبوت میں ہو چکی تھی، چند راتیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بنفس نفیس تراویح پڑھائی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تراویح پڑھنا شروع کر دئے تھے مگر تراویح کا عام رواج نہیں ہوا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تراویح کا عام رواج ہو گیا اور سب صحابہ تراویح پڑھا کرتے تھے اس لئے تراویح بھی اور سنتوں کی طرح سنت مؤکدہ ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ تم کو چاہئے کہ نئی باتوں سے بچتے رہو، کیونکہ ہر نئی بات (جو میرے اور میرے صحابہ کے دور میں نہیں ہوئی وہ) بدعت ہے اور ہر (ایسی) بدعت (جو سیئہ ہو وہ) گمراہی ہے۔ اس حدیث شریف میں ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ جو ارشاد ہوا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے اس لئے کہ اس سے یہ سمجھا جائے کہ ہر بدعت گمراہی ہے تو پھر مسلم نے جریرہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت کی ہے اس کا کیا مطلب ہوگا؟ مسلم کی روایت یہ ہے: ”قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَنَّ فِى الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ . وَمَنْ سَنَّ فِى الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کہ اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کرے تو اس شخص کو اس اچھے طریقہ کے ایجاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس شخص کو ان لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے ایجاد کئے ہوئے نیک طریقہ پر عمل کر رہے ہوں اور بغیر اس کے کہ اس شخص کے ایجاد کئے ہوئے طریقہ پر عمل کرنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ اور جو شخص کہ اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کرے تو اس شخص کو اس برے طریقہ کے ایجاد کرنے کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس شخص کے سر رہے گا جنہوں نے اس کے بعد اس کے ایجاد کئے ہوئے طریقہ پر عمل کیا ہو، اور اس شخص کے ایجاد کئے ہوئے برے طریقہ پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدعت دو طرح پر ہے: ایک بدعت حسنہ، جس پر ثواب کی خوشخبری سنائی گئی ہے اور دوسرے بدعت سیئہ، جس پر عذاب کا خوف دلایا گیا ہے۔ اب یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ صدر کی حدیث میں جو ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ (ہر بدعت گمراہی ہے) ارشاد ہے کیا اس سے مراد ہر بدعت، خواہ حسنہ ہو یا سیئہ ہو، گمراہی ہوگی حالانکہ مسلم کی مذکورہ حدیث سے تو صرف بدعت سیئہ ہی کے گمراہی ہونے کا ثبوت ملتا ہے نہ کہ بدعت حسنہ کے گمراہی ہونے کا۔ اسی وجہ سے علماء نے صراحت کی ہے کہ مسلم کی اس حدیث اور اس طرح کی اور احادیث کی بناء پر ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ (اپنے عموم پر باقی نہ رہی بلکہ اس سے خاص بدعت سیئہ ہی مراد ہوگی اور بدعت سیئہ ہی گمراہی ہوگی۔ یہاں اس حدیث کے عام کو خاص کرنا ایسا ہی ہے جیسے ”تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍ“ کی آیت میں ”كُلِّ شَيْءٍ“ کے عام سے خاص مراد لیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ہود-علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام - کی قوم پر نافرمانی کی وجہ سے ہوا کا عذاب نازل کیا گیا۔ اس عذاب کا ذکر سورۂ احقاف پ26 ع3 آیت نمبر:25 میں اس طرح مذکور ہے ”تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا“ یعنی وہ ہوا اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کررہی تھی حالانکہ ہوا صرف انسانوں اور ان کے مویشیوں ہی کو ہلاک کررہی تھی، جیسا کہ مفسرین نے اس کی صراحت کی ہے تو یہاں جیسے ”كُلِّ شَيْءٍ“ کے عام سے ہر چیز کی ہلاکت مراد نہیں ہے بلکہ خاص انسانوں اور مویشیوں کی ہی ہلاکت مراد ہے، اسی طرح ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ میں ”كُلُّ بِدْعَةٍ“ جو بظاہر عام ہے، اپنے عموم پر باقی نہیں رہی۔ جیسا مسلم کی مذکورہ حدیث سے ثابت ہوچکا ہے، بلکہ اس سے مراد ”كُلُّ بِدْعَةٍ سَيِّئَةٍ ضَلَالَةٌ“ ہے صرف وہی بدعت گمراہی ہے جو سیئہ ہو۔12 عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد و بیہقی نے کی ہے اور ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔