English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The rights of a Muslim upon another Muslim are five: to return the greeting, to visit the sick, to accompany the funeral processions, to accept invitations, and to respond to the one who sneezes."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1240 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2162a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ایک ان میں سے سلام کا جواب دیدے تو سب کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہو جاتی ہے اس لئے یہ سلام کا جواب دینا فرض کفایہ ہے ایسا ہی آنے والے مسلمان پر بیٹھے ہوئے مسلمانوں کا حق ہے کہ یہ آنے والا ان پر سلام کرے (آنے والے کا یہ سلام کرنا سنت ہے، مرقات میں مذکور ہے کہ یہ ایسی سنت ہے جو جواب دینے کے فرض سے افضل ہے اور ثواب میں زیادہ ہے اس لئے کہ سلام کرنے سے تواضع اور انکساری معلوم ہوتی ہے اور تکبر کی نفی ہوتی ہے) (2) (مسلمان کا مسلمان پر دوسرا حق یہ ہے کہ) جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کی جائے اور (3) مسلمان کا مسلمان پر تیسرا حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ چلنا، کندھا دینا اور نماز کے بعد بھی ساتھ جانا اور دفن تک ٹھہرنا (یہ سب ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حق ہیں اور یہ سب فرض کفایہ ہیں، چند لوگوں کے ادا کرنے سے سب کی طرف سے فرض کی ادائی ہو جاتی ہے کوئی گنہگار نہیں ہوتا اگر کوئی مسلمان بھی ان کو ادا نہ کرے تو سب مسلمان گنہگار ہوں گے) (4) مسلمان کا مسلمان پر چوتھا حق یہ ہے کہ اگر وہ دعوت دے (اور وہ دعوت کیسے ہی معمولی کھانے کی کیوں نہ ہو) تو اس کی دعوت کو قبول کرے (اگر وہ دعوت ولیمہ کی دعوت ہے تو اس کا قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے، ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں کا قبول کرنا سنت مستحب ہے، اگر کسی عذر سے کوئی دعوت قبول نہیں کیا خواہ ولیمہ کی ہو یا کوئی اور دعوت ہو تو خیر اور بات ہے اور اگر بغیر کسی عذر کے دعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت، اس میں شریک نہ ہوا تو وہ اس وعید کا مستحق ہوگا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث شریف میں ارشاد فرمائے ہیں ”وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ“ جو دعوت قبول نہیں کیا اور (بلا عذر) دعوت میں نہیں گیا تو اس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اس لئے کہ وہ دعوت میں جاتا تو مسلمان کا دل خوش کرتا، دعوت میں نہ جا کر دعوت دینے والے کا دل دکھایا اور اس کی ہتک کیا) (5) مسلمان کا مسلمان پر پانچواں حق یہ ہے کہ جب چھینکنے والا چھینکے (اور آواز سے ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے اور ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہنا سنت ہے اور دوسرے مسلمان پر (اس کے جواب میں) ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ کہنا (واجب ہے اگر حاضرین میں سے ایک بھی جواب میں ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ کہا تو سب کی طرف سے ادائی ہوجائے گی۔) (اگر چھینکنے والا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ نہ کہے یا ایسا آہستہ کہے سنائی نہ دے تو حاضرین میں سے کوئی چھینکنے والے کا جواب ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ سے نہ دیوے۔) (اگر چھینکنے والا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے تو سنت کی ادائی تو ہو جاتی ہے مگر ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کے ساتھ ”رَبِّ الْعَالَمِيْنَ عَلٰى كُلِّ حَالٍ“ پڑھنا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ عَلٰى كُلِّ حَالٍ“ کہے تو وہ ہمیشہ کے لئے داڑھ اور کان کے درد سے محفوظ رہے گا جیسا کہ مرقات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔