Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 958

Chapter on Mosques and Places of Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Mosques and Places of Prayer

Zujajat al-Masabih 958Volume 1

English

It is narrated from 'Aisha (may Allah be pleased with her) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said during his final illness: "May Allah curse the Jews and Christians, for they took the graves of their prophets as places of worship."
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1330 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 529 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے: ”لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ“ (اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔) واضح ہو کہ یہود اور نصاریٰ نے اپنے انبیاء کی قبروں کو دو طرح سے سجدہ گاہ بنا رکھا تھا ایک یہ کہ جس طرح بت پرست بتوں کی پوجا کرتے ہیں، یہود و نصاریٰ بھی انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرتے اور اس سجدہ سے انبیاء کی عبادت کا قصد کرتے۔ ظاہر ہے کہ یہ شرک جلی ہے دوسرے یہ کہ انبیاء کی قبروں کو قبلہ بناتے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتے کہ نماز اور عبادت میں انبیاء کی قبروں کی جانب اس خیال سے متوجہ ہوتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور رضاء کا ذریعہ ہیں، حالانکہ یہ دوسرا طریقہ بھی شرک خفی ہے، کیوں کہ اس طریقہ سے بھی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کیا جا رہا ہے الغرض یہود و نصاریٰ کی عبادت کے یہ دونوں طریقے غیر مشروع ہیں، اسی وجہ سے اس حدیث میں یہود و نصاریٰ پر لعنت کی گئی ہے۔ اس حدیث میں یہود و نصاریٰ کے فعل کی حکایت سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان بھی انبیاء اور اولیاء کی قبور کو سجدہ گاہ نہ بنائیں لیکن اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ اس حدیث سے انبیاء اور اولیاء کے قرب و جوار میں مسجدیں بنانے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ نفس قبر کو مسجد یعنی سجدہ گاہ بنانے اور قبر کے پاس مسجد بنانے میں بڑا فرق ہے، قبروں کے پاس مسجد بنانے کا جواز اور استحسان تو قرآن شریف کی آیت ”لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا“ سے ثابت ہے۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں سورۃ کہف کی آیت ذیل کی تفسیر اس طرح مرقوم ہے: ”(إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ) فيقول المسلمون: انهم مسلمون نبنى عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا، وقال الكفار: انهم اولاد الكفار ولم يثبت اسلامهم (فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا) صومعة او كَنِيسَةً لكن قطع الله ذلك النزاع ايضاً بِتَغْلِيْبِ المؤمنين (رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ) فغلب بالحجة والقدرة من علم اطلاعه على حَقِيْقَةِ أمرهم حَتّى (قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ) بالحجة وَالْقُدْرَةِ (لَنَتَّخِذَنَّ) على رَغْمِ المشركين (عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا) نصلى فيه ، ونتبرك بهم“. (اس آیت کا معہ تفسیر ترجمہ یہ ہے) ((اصحاب کہف کے بارے میں مسلمان اور کفار جھگڑنے لگے تو مسلمان کہتے تھے کہ اصحاب (کہف) مسلمان ہیں، ہم ان پر مسجد بنائیں گے کفار نے کہا کہ اصحاب کہف اولاد کفار ہیں ان کا مسلمان ہونا ثابت نہیں ہے، اس لئے وہ آپس میں کہنے لگے کہ صومعہ یا کنیسہ بناؤ خدا نے مسلمانوں کو کفار پر غالب بنا کر اس نزاع کو قطع کر دیا کیوں کہ اصحاب کہف کا رب ان کو زیادہ جانتا ہے پس وہ ان پر حجت و قدرت کے ساتھ ان کو غالب کر دیا جو اصحاب کہف کی حقیقت حال پر خدا کے مطلع ہونے کا یقین رکھتے تھے تو حجت و قدرت کے ساتھ جو اپنے کام میں غالب تھے یعنی مسلمانوں نے کہا کہ مشرکین کے خلاف میں ہم اصحاب کہف کے قرب و جوار میں مسجد بنا کر اس میں نماز پڑھیں گے اور اصحاب کہف سے برکت اور تبرک حاصل کریں گے۔ نہ صرف تفسیر محامئ بلکہ تفسیر مدارک، روح البیان، تفسیر کبیر اور علامہ شہاب خفاجی کے حاشیہ تفسیر بیضاوی الغرض ان سارے مفسرین کرام نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انبیاء یا اولیاء کے قرب و جوار میں مسجد بنا کر بلا قصد تعظیم و بلا توجہ بجانب قبر اس اہل قبر سے محض حصول امداد کی نیت سے نماز ادا کی جائے تا کہ ثواب عبادت و برکت قرب و جوار صلحاء و حصول امداد کا مل ہو تو کوئی حرج نہیں۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات اور فصل الخطاب۔)12