Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette · Chapter 6

Chapter on Sneezing and Yawning

12 narrations · In source reading order

Hadith 4554

Volume 4

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Allah loves sneezing and dislikes yawning. When one of you sneezes and praises Allah, it is 1 the right of every Muslim who hears him 2 to say to him, ‘May Allah have mercy on you.’ As for yawning, it is from Satan. When one of you yawns, let him suppress it 3 as much as he can, for when one of you yawns, Satan laughs at him.” [Narrated by Bukhari] In a narration by Muslim: “When one of you says, ‘Ha,’ Satan laughs at him.” In another narration by Muslim from Abu Sa‘id al-Khudri (may Allah be pleased with him), the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you yawns, let him cover his mouth with his hand, for Satan enters.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6226 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2994 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

it is the right of every Muslim, etc.

(1) His statement: “it is the right of every Muslim, etc.”: This indicates that supplicating for the sneezer is an individual obligation, as held by some Zahiris, and Ibn al-Qayyim supported this in his notes on the Sunnah. Ibn Daqiq al-‘Id said the apparent meaning of the command is obligation, and Ibn Muzayn among the Malikis took it literally. Most Zahiris agreed, while a group of Malikis held it is recommended, with one person’s response sufficing for the group, as did the Shafi‘is, interpreting the Hadith as recommended. Most scholars held it is a communal obligation, fulfilled by some, relieving others, as preferred by Ibn Rushd and Ibn al-‘Arabi. The Hanafis and most Hanbalis agreed, and the stronger evidence supports it being a communal obligation. The authentic Hadiths indicating obligation do not contradict it being communal, as a command, though addressed to all, is fulfilled by some for communal obligations, as is the stronger view, or by analogy to responding to the greeting. As cited from Al-Mirqat and the statement of Al-Hafidh.

Note 2

who hears him, etc.

(2) His statement: “who hears him, etc.”: This qualifies “Muslim” to exclude when he does not hear, as the obligation does not apply then, similar to the ruling for greeting, visiting the sick, preparing the deceased, funeral prayer, and other communal obligations. In Sharh as-Sunnah: “This indicates he should raise his voice when praising to be heard by those present and earn the supplication.” As stated in Al-Mirqat. It is said in Ad-Durr al-Mukhtar: “The condition for responding to the greeting and sneeze is hearing it.”

Note 3

let him suppress it as much as he can

(3) His statement: “let him suppress it as much as he can”: It is said in Ad-Durr al-Mukhtar: “Among the etiquettes is covering the mouth during yawning, even by holding the lips with the teeth. If unable, cover with the back of the left hand.” It is said: “With the right if standing, otherwise the left or sleeve, as covering without necessity is disliked.” In Radd al-Muhtar, citing Hadiyyat as-Sa‘luk from Tuhfat al-Muluk: Al-Zahidi said: “The way to suppress yawning is to recall that the Prophets never yawned.” Al-Qaduri said: “We tried it repeatedly and found it so.” I say: I also tried it and found it so.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كان حقا على كل مسلم إلخ فيه إيذان بأن التشميت فرض عين، وإليه ذهب بعض الظاهرية، وقواه ابن القيم في حواشي السنن. وقال ابن دقيق العيد ظاهر الأمر الوجوب، وقد أخذ بظاهرها ابن مزين من المالكية. وقال به جمهور أهل الظاهر، وذهب جماعة من المالكية إلى أنه مستحب، ويجزئ الواحد عن الجماعة، وهو قول الشافعية وحملوا الحديث على الندب، وذهب الأكثرون إلى أنه فرض كفاية إذا قام به البعض سقط عن الباقين، ورجحه ابن رشد وابن العربي. وقال به الحنفية وجمهور الحنابلة، والراجح من حيث الدليل فرض الكفاية، والأحاديث الصحيحة الدالة على الوجوب لا تنافي كونه على الكفاية، فإن الأمر وإن ورد في عموم المكلفين ففرض الكفاية يخاطب به الجميع على الأصح، والمراد به أنه يجب على كل أحد، لكن يسقط بفعل البعض لدليل آخر أو بالقياس على رد السلام. التقطته من المرقاة» وقول الحافظ.

Note 2

قوله

(۲) قوله : سمعه إلخ : صفة لمسلم احترازا من حال عدم سماعه؛ فإنه حينئذ لا يتوجه عليه، وكذلك حكم السلام وسائر فروض الكفاية من عيادة المريض وتجهيز الميت وصلاة الجنازة ونحوها. وفي شرح السنة: فيه دليل على أنه ينبغي أن يرفع صوته بالتحميد حتى يسمع من عنده ويستحق التشميت. قاله في المرقاة». وقال في «الدر المختار»: وشرط في رد السلام وجواب العطاس إسماعه.

Note 3

قوله

(۳) قوله: فليرد ما استطاع: قال في الدر المختار: ومن الآداب إمساك فمه عند التثاؤب، ولو بأخذ شفتيه بسنه، فإن لم يقدر غطاه بظهر يده اليسرى. وقيل: باليمنى لو قائما، وإلا فيسراه أوكمه؛ لأن التغطية بلا ضرورة مكروهة. وقال في رد المحتار»: رأيت في شرح تحفة الملوك المسمى بهدية الصعلوك ما نصه : قال الزاهدي: الطريق في دفع التثاؤب أن يخطر بباله أن الأنبياء ما تثاءبواقط قال القدوري: جربناه مرارا فوجدناه كذلك. قلت: وقد جربته أيضًا فوجدته كذلك.

Note 1

1 قولہ: كان حقا على كل مسلم الخ (ہر اس مسلمان حق ہے) اس میں اس بات سے باخبر کرنا ہے کہ چھینک کا جواب دینا فرض عین ہے۔ اور یہ بعض اہل ظاہر کا مذہب ہے۔ ابن قیم نے ”السنن“ کے حواشی میں اس کو قوی قرار دیا ہے اور ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: بظاہر امر وجوب کے لئے ہے، اور مالکیہ میں سے ابن مزین نے اس کے ظاہر کو اختیار کیا ہے اور جمہور اہل ظاہر کا بھی یہی قول ہے، مالکیہ کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کیا ہے کہ چھینک کا جواب دینا مستحب ہے اور کسی ایک شخص کا جواب دینا جماعت کی طرف سے کافی ہو جائے گا یہ شافعیہ کا قول ہے اور انہوں نے حدیث کو آداب پر محمول کیا ہے اکثر (فقہاء) اس کے فرض کفایہ ہونے کی طرف گئے ہیں اور جب کوئی ایک چھینک کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے ساقط ہو جائے گا۔ ابن رشد اور ابن عربی نے اس کو ترجیح دی ہے حنفیہ اور جمہور حنابلہ کا بھی یہی قول ہے اور از روئے دلیل فرض کفایہ کا قول راجح ہے اور جو صحیح احادیث شریفہ وجوب پر دلالت کر رہی ہیں وہ فرض کفایہ ہونے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ امر اگرچہ عام مکلفین کے بارے میں وارد ہوا اور فرض کفایہ ہے تو اس میں خطاب تمام لوگوں سے ہی کیا جاتا ہے راجح قول کے مطابق تمام لوگوں سے ہی خطاب کیا جاتا ہے لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ چھینک کا جواب تو ہر ایک پر واجب ہے لیکن وجوب کی دوسری دلیل کی بناء پر یا سلام کے جواب دینے پر قیاس کرتے ہوئے بعض کے عمل پیرا ہونے سے ہر ایک سے ساقط ہو جاتا ہے (ماخوذ از مرقات، وقول حافظ فی الباری) 2 قولہ: سمع (جو اس کو سنا ہو) یہ لفظ مسلم کی صفت ہے جس سے غرض اس کے نہ سننے کی حالت سے احتراز کرنا ہے کیونکہ ایسے وقت اس کی طرف امر متوجہ نہیں ہوتا اسی طرح سلام اور دیگر فرض کفایہ جیسے مریض کی عیادت، میت کی تجہیز و تکفین، نماز جنازہ وغیرہ کا وہی حکم ہے۔ اور شرح السنہ میں ہے اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو الحمدللہ کہتے میں اپنی آواز کو بلند کرنا چاہئے یہاں تک کہ جو اس کے قریب ہے اس کو سن لے اور اس کے لئے چھینک کا جواب دینا ضروری ہو جائے یہ بات صاحب مرقات نے کہی۔ اور صاحب رد مختار نے کہا سلام اور چھینک کا جواب دینے کے لئے اس کو سننا شرط ہے۔ 3 قولہ: فليرده ما استطاع (پس اس کو جس قدر ہو سکے روکے) صاحب رد مختار نے کہا: جمائی کے وقت اپنے منہ کو بند کرنا آداب میں سے ہے اگرچہ کہ اپنے ہونٹوں کو دانت سے دبا کر ہو، اگر اس سے نہ ہو سکے تو اپنے بائیں ہاتھ کی پشت سے اس کو ڈھانک لے اور کہا گیا کہ اگر وہ کھڑا ہوا ہو تو سیدھے ہاتھ سے ورنہ بائیں ہاتھ سے یا اپنی آستین سے، اس کے بغیر کسی ضرورت کے ڈھانکنا مکروہ ہے۔ صاحب رد المحتار نے کہا: میں نے ⟦?⟧ الصعلکی شرح تحفۃ الملوک میں دیکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے۔ امام زاہدی نے کہا: جمائی کو دفع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دل میں یہ خیال کرے کہ انبیاء کرام کو کبھی جمائی نہیں آئی۔ امام قدوری نے کہا: ہم نے اس کا بار بار تجربہ کیا تو اس کو ایسا ہی پایا، میں کہتا ہوں میں نے بھی اس کو آزمایا ہے اور ایسا ہی پایا ہے۔ 1قولہ: یہ چون ان یقول لہم یرحمکم اللہ الخ (یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ ان کے لئے یرحمکم اللہ فرمائیں گے) بعض اہل فضل علماء نے کہا: کیا ان میں سے کسی چھینکنے والے کا جواب دیا جائے گا؟ میں کہتا ہوں قول راجح یہ ہے کہ جواب نہیں دیا جائے گا کیونکہ اس میں ان کا اکرام اور تعظیم ہے جب کہ تم کو ان کی اہانت کا حکم دیا گیا ہے، جامع صغیر کی شرح میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ذمی کو سلام کرنے کی ممانعت مروی ہے کیوں کہ اس میں اس کی تعظیم ہے۔ یہی بات موسیٰ قشی نے شرح الاشباہ والنظائر میں فرمائی ہے اور اس کے حاشیہ میں ہے کہ اس میں ایک بحث ہے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کی یہ علت بیان کی جائے کہ اس میں رحمت کی دعا کرنا اور مغفرت طلب کرنا ہے جب کہ ذمی ان دونوں کا اہل نہیں ہے۔ اور سنن کی حدیث میں وارد ہے کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بتکلف چھینکا کرتے اس امید پر کہ آپ ﷺ ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور یرحمکم اللہ کہیں آپ ﷺ ان کے لئے طلب ہدایت کے سوا کچھ ارشاد نہ فرماتے حدیث کی روشنی میں جو ہم نے بیان کی ہے اب تم غور کرو۔ 1 قوله: فليقل الحمدلله (تو چاہئے کہ وہ الحمدللہ کہے) یعنی بطور استحباب ہے (مرقات)۔ اور فتاوی عالمگیری میں ہے جب آدمی بیرون نماز چھینکے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا چاہئے اس طرح کہ الحمدلله رب العالمين یا الحمدلله على كل حال کہے اور اس کے سوانے کے اس کے پاس موجود شخص کو چاہئے کہ وہ يرحمك الله کہے اور چھینکنے والا اس کو يغفر الله لنا ولكم کہے یا يهديكم الله ويصلح بالكم کہے اور اس کے سوانے کہے (محیط)۔ 2 قوله: وليقل هو يهديكم الله، الخ (اور وہ يهديكم الله کہے) یعنی بطور استحباب ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: فقال الرجل مزکوم (تو آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہے) حدیث شریف کا حاصل یہ ہے کہ چھینک کا جواب دینا واجب یا سنت مؤکدہ ہے اور تین مرتبہ کے بارے میں اختلاف ہے اور تین سے زیادہ ہو جائے تو اس کو اختیار ہے چاہے خاموش رہے اور یہ بطور رخصت ہے اور چاہے تو جواب دے اور یہ مستحب ہے یعنی تین مرتبہ کے بعد جواب دینا واجب نہیں ہے، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینا ناجائز ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ اور فتاوی عالمگیری میں ہے اگر چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو یہ اس کا تین مرتبہ تک جواب دے اس کے بعد اس کو اختیار ہے (سراجیہ) اور چھینکنے والے کے پاس موجود شخص کو چھینکنے والے کا جواب دینا چاہئے جب اس کی چھینک ایک مجلس میں تین مرتبہ تک مکرر ہو اگر وہ تین سے زائد مرتبہ چھینکے تو چھینکنے والا ہر مرتبہ الحمد للہ کہے اور اس کے پاس موجود شخص اگر ہر مرتبہ جواب دے تو اچھا ہے اور اگر وہ تین مرتبہ کے بعد جواب نہ دے تب بھی ٹھیک ہے۔ (فتاوی قاضی خان)۔ امام محمد رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے جو بار بار چھینکے تو اس کا ہر مرتبہ جواب دے اور اگر اخیر کا جواب دیا تو یہ ایک مرتبہ اس کے لئے کافی ہے۔ اہ (تاتارخانیہ)۔ امام طحطاوی نے شرح المراقی میں ملا علی قاری کی شرح موطا کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ چھینکنے والے کا ایک مرتبہ جواب دینا واجب ہے اور اس سے زائد ہو تو مستحب ہے، اگر وہ پہلے جواب نہ دے تو اس کے لئے سجدہ تلاوت کی طرح ایک مرتبہ ہی کافی ہو جائے گا۔ 1 قولہ: انما كان يتبسم (آپ تو صرف مسکراتے تھے) یعنی اکثر اوقات آپ تبسم فرماتے تھے اور کبھی ہنستے بھی تھے لیکن آپ کی ہنسی مذکورہ حد تک نہیں پہنچتی تھی (مرقات)۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے: فقیہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آدمی کے لئے مستحب ہے کہ لوگوں کی خاطر داری کرے اور یہ کہ بغیر کسی مداہنت کے نیک، بد، سنی اور بدعتی سب کے ساتھ آدمی کی گفتگو نرم ہو اور کشادہ رو رہے اور ایسی گفتگو بھی نہ ہو جس سے یہ گمان ہو کہ وہ اس کے مذہب سے راضی ہے۔ (مراحیہ)۔ 2 قولہ: لا يقوم من مصلاه الخ (اپنے مصلے سے نہیں اٹھتے تھے) امام نووی فرماتے ہیں: اس حدیث میں نماز فجر کے بعد ذکر کرنے اور جب تک عذر نہ ہو نمازی جگہ بیٹھے رہنے کے استحباب کا ثبوت ہے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ سلف صالحین اس سنت پر کاربند تھے اور وہ اس سلسلہ میں سورج طلوع ہونے تک صرف ذکر اور دعاء میں مشغول رہتے تھے (مرقات)۔ 3 قولہ: فاذا طلعت الشمس قام (جب سورج نکل آتا تو اٹھتے) یعنی نماز اشراق کے لئے قیام فرماتے اور یہ صلوۃ ضحیٰ کا ابتدائی وقت ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: يتناشدون الشعر (وہ اشعار پڑھتے) صاحب مرقات نے کہا یہ تو سب جانتے ہیں کہ آپ کی مجلس شریف میں توحید اور ترغیب و ترہیب پر ہی مشتمل بلند پایہ اشعار پڑھے جاتے تھے۔ 2 قوله: قال نعم والإيمان فى قلوبهم اعظم من الجبل (فرمایا: ہاں! جب کہ ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بڑھ کر عظیم تھا) پس وہ حضرات انتہائی باوقار اور آداب شریعت کے اصول پر نہایت ثابت قدم اور پسندیدہ مکارم اخلاق کا حد درجہ پاس و لحاظ رکھنے والے تھے اس طور پر کہ ہنسی وغیرہ کی حالت میں احکام شرعیہ کے دائرے سے کبھی تجاوز نہیں کئے۔ طیبی نے کہا: یہ رجوع اور قول بالموجب کے قبیل سے ہے یعنی ہاں وہ ہنستے تو تھے لیکن وہ اس حد تک تجاوز نہیں کرتے تھے جو ان کے دلوں کو مردہ کر دے اور زیادہ ہنسی کی وجہ سے ان کا ایمان متزلزل ہوجائے جیسا کہ روایات میں ہے کہ زیادہ ہنسی دلوں کو مردہ کردیتی ہے (مرقات)۔ 3 قوله: فاذا كان الليل كانوا رهبانا (جب رات آجاتی تو وہ اللہ کے حضور یکسو ہوجاتے تھے) حاصل کلام یہ ہے کہ ان حضرات کی یہ حالت دن میں اور اپنے نیک ساتھیوں کی مجالس میں ہوا کرتی جب رات ہوجاتی تو وہ اللہ کی طرف یکسو ہوجاتے یعنی بظاہر وہ ہنسی کی حالت میں ہوتے اور باطن ان کی چشم رو رہی ہوتی کیونکہ وہ اپنے جسموں کے ساتھ فرش زمین پر اور اپنی ارواح قدسیہ کے ساتھ عرش بریں پر ہوتے اپنے بدن سے مخلوق کے ہمراہ اور اپنے قلب و باطن سے حق کی معیت میں ہو کر ان سے جدا رہتے اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ بظاہر قربت رکھتے ہیں اور ارباب باطن علائق سے پاک اور وحدت و فنائیت کی منزل پر فائز ہو کر مخلوق سے بیگانہ رہتے ہیں یہ بوسیدہ چادروں میں ملبوس بادشاہ ہوتے ہیں اور اس دنیا میں اپنے کمال فقر کے باوجود غنی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ہم کو ان سے ظاہر ہونے والے احوال کی برکت سے نفع پہنچائے (مرقات)۔ 1 قولہ: قال نعم (آپﷺ نے فرمایا: ہاں) یہ بھی حضورﷺ کے زمانہ تک کے لئے محدود ہے۔ آپﷺ کے بعد ان دونوں کو جمع کرنا جائز ہے کیونکہ اب التباس ختم ہوگیا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: قولہ من کان اسمہ ۔ (جس کا نام محمد ہو) یہ ہمارے پاس ہے اور امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ اور اکثر سلف اور فقہاء زمانہ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اب ہر ایک کے لئے ابوالقاسم کنیت رکھنا جائز ہے خواہ اس کا نام محمد ہو یا نہ ہو۔ اس ممانعت کی علت یہی تھی کہ اس میں حضور ﷺ اور آپ کو پکارنے کے وقت کسی دوسرے سے بھی خطاب کا التباس تھا۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو اس کی ممانعت آئی ہے، اس میں اس علت پر دلالت ہے۔ جب ایک شخص کو رسول اللہﷺ نے یا ابا القاسم کہتے ہوئے سنا تو آپﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس شخص نے کہا: میں صرف اس آدمی کو بلایا تھا۔ اس کی مناسبت توجہ یہ ہے کہ علت کے ختم ہونے سے حکم ختم ہوجاتا ہے۔ اور اشتباہ اس کی علت ہے اور یہ اشتباہ صرف حیات طیبہ میں ہی ہے۔ اور حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابوالقاسم کی کنیت مطلقاً ناجائز ہے خواہ اس شخص کا نام محمد ہو یا احمد ہو یا آپ کے ناموں میں سے کوئی نام ہی نہ ہو (ماخوذ از مرقات)۔ 3 قولہ: فقال ما الذی احل اسمی وحرم کنیتی ۔ (کیا چیز ہے جس نے میرے نام کو حلال کیا اور کنیت کو حرام کیا) جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ میرا نام اور میری کنیت رکھنا حرام نہیں ہے اور یہ واقعہ اگر ثابت ہے تو یہ آپﷺ کی کنیت رکھنے یا کنیت اور نام دونوں کو جمع کرنے کی ممانعت کے بعد کا ہے اور آپﷺ کے نام اور کنیت کے جواز اور اس کی ممانعت کی احادیث کے درمیان جمع کرنے کا ظاہر طریقہ یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرنے کی ممانعت تحریمی نہیں تھی بلکہ وہ صرف التباس کی بنا پر مکروہ تھی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قصہ حضورﷺ کے آخر زمانہ کا ہو اور آپﷺ نے اسی اجازت دے دی ہو کیونکہ ظاہراً ہونے تک حضورﷺ کا وصال ہو جائے گا اور التباس باقی نہیں رہے گا (بذل المجہود)۔ 1 قولہ: واحب الاسماء الى الله عبدالله عبدالرحمن (اور اللہ تعالیٰ کے پاس سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں) یعنی انبیاء علیہم السلام کے ناموں کے بعد چنانچہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں نام اسم محمد سے زیادہ پسندیدہ نہیں اسلئے کہ یا تو وہ دونوں نام اسکے ساتھ برابری کے درجہ میں ہیں یا اسم محمد مطلقاً یا ایک اعتبار سے دونوں سے زیادہ پسندیدہ ہے (مرقات) اور صاحب ودمختار نے کہا: اللہ تعالیٰ کے پاس سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔ علی اور رشید وغیرہ جیسے مشترک نام رکھنا جائز ہے، اور ان ناموں سے اللہ کے حق میں معنی مراد لئے جاتے ہیں ہمارے حق میں اس کے سوا معنی مراد لئے جائیں گے لیکن ہمارے زمانے میں اسکے علاوہ نام رکھنا زیادہ درست و اولیٰ ہے اس لئے کہ عوام پکارتے وقت ان ناموں کی تصغیر کردیتے ہیں۔ اھ۔ (مراقیہ) اور صاحب ردالمحتار نے کہا کہ فقیہ ابواللیث نے کہا ہے کہ میں عجمیوں کیلئے پسند نہیں کرتا کہ عبدالرحمن اور عبدالرحیم نام رکھیں اس لئے کہ وہ اس کی تفصیل نہیں جانتے اور اسکو تصغیر کے ساتھ ذکر کرتے ہیں (تاتارخانیہ) اور یہ ہمارے زمانہ میں مشہور ہے اس طرح کہ وہ اس شخص کو پکارتے ہیں جسکا نام مثلاً عبدالرحیم، عبدالکریم یا عبدالعزیز ہو تو وہ کہتے ہیں: رحم، کریم، عزیز بغیر یاء تو تشدید کے ساتھ اور جسکا نام عبدالقادر ہو اسکو قویدر پکارتے ہیں اور یہ قصداً کہا جائے تو کفر ہے جیسا کہ خانیہ میں ہے جو شخص عبدالعزیز یا ان جیسے اسمائے حسنیٰ میں سے جس کسی کی طرف بھی عبد کی اضافت کی گئی ہو اسکے آخر میں حرف تصغیر لگا دے۔ اگر یہ عمداً کہتا ہے تو کفر ہے اور اگر نہ جان کے وہ کیا کہہ رہا ہے اور اسکا یہ ارادہ نہ ہو تو اسکے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ اور جو شخص اس سے ایسا سنے اس پر واجب ہے کہ اسکو بتائے۔ اھ۔ اور بعض لوگ جسکا نام عبدالرحمن ہے اسکو رحمون کہتے ہیں اور بعض جیسے ترکمان ہیں وہ جسکا نام محمد اور حسن ہے انکو حمو اور حسو کہتے ہیں۔ تم غور کرو کہ کیا اس وجہ سے ان لوگوں کا محمد اور حسن نام رکھنا چھوڑ دینا بہتر ہے۔ 2 قولہ: احب اسماءكم الى الله عبدالله وعبدالرحمن (اللہ تعالیٰ کے پاس تمہارے ناموں میں سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں) اسی طرح جس نام میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت ہو پسندیدہ ہے جیسے عبدالرحیم، عبدالکریم اور اس جیسے نام (ماخوذ از مرقات، بذل المجہود)

Hadith 4555

Volume 4

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that when the Prophet (ﷺ) sneezed, he would cover his face with his hand or garment and lower his voice with it. [Narrated by At-Tirmidhi and Abu Dawud] At-Tirmidhi said: “This Hadith is good and authentic.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2745 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5029 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4556

Volume 4

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: “Two men sneezed in the presence of the Prophet (ﷺ). He supplicated for one but not the other. The man said, ‘O Messenger of Allah, you supplicated for him but not for me.’ He said, ‘He praised Allah, but you did not praise Allah.’”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6221 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2991a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4557

Volume 4

English

Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, ‘When one of you sneezes and praises Allah, supplicate for him, but if he does not praise Allah, do not supplicate for him.’”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2992 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4558

Volume 4

English

Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: “The Jews would sneeze in the presence of the Prophet (ﷺ), hoping 1 he would say to them, ‘May Allah have mercy on you,’ but he would say, ‘May Allah guide you and rectify your condition.’”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2739 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5038 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.729

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

hoping he would say to them, ‘May Allah have mercy on you,’ etc.

(1) His statement: “hoping he would say to them, ‘May Allah have mercy on you,’ etc.”: Some scholars said: Should their sneezer be supplicated for? I say: It appears he should not, as it honors and exalts them, and we are commanded to humble them. In Sharh al-Jami‘ as-Saghir, citing Umar’s prohibition of greeting a dhimmi due to the honor it entails, as stated by Al-Hamawi al-Hanafi in Sharh al-Ashbah wa an-Naza’ir. Its margin notes: There is discussion, and it is better to explain that it involves supplication and forgiveness, which a dhimmi is not entitled to. The Hadith in the Sunnah collections states that the Jews would deliberately sneeze among themselves in the Prophet’s (ﷺ) presence, hoping for his supplication and mercy, but he only sought their guidance. This Hadith supports what we said, so reflect.

Note 1

قوله

(۱) قوله: يرجعون أن يقول لهم: يرحمك الله إلخ : قال بعض الفضلاء: وهل يشمت عاطسهم؟ أقول: الظاهر أنه لا يشمت؛ لأن فيه إكراما لهم وتعظيما، ونحن مأمورون بإهانتهم. وفي شرح الجامع الصغير»: عن عمر النهي عن السلام على الذمي؛ لما فيه من التعظيم، قاله الحموي الحنفي في شرح الأشباه والنظائر». وقال في هامشه: فيه بحث، والأولى أن يعلل بأن فيه الترحم والاستغفار، وليس الذمي بأهل لهما، وقد جاء في حديث السنن: أن اليهود كانوا يتكلفون التعاطس فيما بينهم في مجلس النبي ، رجاء أن يستغفر لهم ويترحمهم، وكان لا يزيد على طلب الهداية، فالحديث يستأنس به على ما قلنا، فتفكر.

Hadith 4559

Volume 4

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you sneezes, let him say, 1 ‘Praise be to Allah,’ and let his brother or companion say to him, ‘May Allah have mercy on you.’ When he says, ‘May Allah have mercy on you,’ let him say, ‘May Allah guide you and rectify your condition.’”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6224 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4739 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 4739

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

let him say, ‘Praise be to Allah’

(1) His statement: “let him say, ‘Praise be to Allah’”: That is, it is recommended. As stated in Al-Mirqat. In Al-Alamgiriyyah: “If a man sneezes outside of prayer, he should praise Allah, saying, ‘Praise be to Allah, Lord of the worlds,’ or ‘Praise be to Allah, may Allah forgive us and you,’ or ‘May Allah guide you and rectify your condition,’ and not say other than that.” As stated in Al-Muhit.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فليقل الحمد لله : أي استحبابا. قاله في المرقاة». وقال في العالمكيرية»: إذا عطس الرجل خارج الصلاة فينبغي أن يحمد الله تعالى، فيقول: الحمد لله رب العالمين، أو يقول: الحمد الله يغفر الله لنا ولكم، أو يقول: يهديكم الله ويصلح بالكم، ولا يقول غير ذلك. كذا في المحيط».

Hadith 4560

Volume 4

English

Abu Ayyub (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you sneezes, let him say, 1 ‘Praise be to Allah in every condition,’ and let the one responding to him say, ‘May Allah have mercy on you,’ and let him say, ‘May Allah guide you and rectify your condition.’”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2740 (unverified) 87% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

let him say, ‘May Allah guide you,’ etc.

(1) His statement: “let him say, ‘May Allah guide you,’ etc.”: That is, it is recommended. As stated in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وليقل هو يهديكم الله إلخ : أي ندبا. قاله في المرقاة».

Hadith 4561

Volume 4

English

Hilal ibn Yasaf narrated: “We were with Salim ibn Ubaid when a man from the group sneezed and said, ‘Peace be upon you.’ Salim said to him, ‘Upon you and your mother.’ The man seemed upset and said, ‘I only said what the Prophet (ﷺ) said. A man sneezed in his presence and said, ‘Peace be upon you,’ and the Prophet (ﷺ) said, ‘Upon you and your mother. When one of you sneezes, let him say, “Praise be to Allah, Lord of the worlds,” and let the one responding say, “May Allah have mercy on you,” and let him say, “May Allah forgive us and you.”’”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2740 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5031 (unverified) 82% confidence · Validation similarity: 0.633

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4562

Volume 4

English

Nafi‘ narrated that a man sneezed beside Ibn Umar and said, “Praise be to Allah and peace be upon the Messenger of Allah.” Ibn Umar said, “I also say, ‘Praise be to Allah and peace be upon the Messenger of Allah,’ but it is not like that. The Messenger of Allah (ﷺ) taught us to say, ‘Praise be to Allah in every condition.’”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2738 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4563

Volume 4

English

Salamah ibn al-Akwa‘ (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Prophet (ﷺ) when a man sneezed in his presence, and he said to him, “May Allah have mercy on you.” Then he sneezed again, and he said, 1 “The man has a cold.” [Narrated by Muslim] In a narration by At-Tirmidhi: He said on the third time, “He has a cold.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2993a (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2743 (unverified) 75% confidence · Validation similarity: 0.562

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

he said, ‘The man has a cold’

(1) His statement: “he said, ‘The man has a cold’”: The Hadith indicates that supplicating for the sneezer is obligatory or a confirmed Sunnah, as disputed, up to three times. Beyond that, one may remain silent, which is permissible, or supplicate, which is recommended, meaning it is not obligatory to supplicate after three times, not that it is impermissible. As cited from Al-Mirqat. In Al-Alamgiriyyah: “If he praises Allah, supplicate for him up to three times, and beyond that, he has a choice.” As in As-Sirajiyyah. Those present should supplicate for the sneezer if he repeats sneezing in a gathering up to three times. If he sneezes more, he should praise Allah each time. If those present supplicate each time, it is good; if they do not supplicate after three, it is also good. As in Fatawa Qadi. From Muhammad: “If one sneezes multiple times, supplicate each time, but if delayed, one time suffices.” As in At-Tatarkhaniyyah. Al-Tahtawi cited from Al-Qari’s commentary on Al-Muwatta’: “Supplicating for the sneezer once is obligatory, and beyond that is recommended. If not supplicated initially, one time suffices, like the prostration for recitation.”

Note 1

قوله

(۱) قوله : فقال الرجل مزكوم حاصل الحديث: أن التشميت واجب أو سنة مؤكدة على الخلاف في ثلاث مرات، وما زاد فهو مخير بين السكوت وهو رخصة، وبين التشميت وهو مستحب أي لا يجب تشميته بعد ثلاث، لا أنه غير جائز التقطته من المرقاة». وقال في العالمكيرية»: إن حمد العاطس فيشمته إلى ثلاث مرات وبعد ذلك هو مخير. كذا في «السراجية». وينبغي لمن يحضر العاطس أن يشمت العاطس إذا تكرر عطاسه في مجلس إلى ثلاث مرات، فإن عطس أكثر من ثلاث مرات فالعاطين يحمد الله تعالى في كل مرة، فمن كان بحضرته إن شمته في كل مرة فحسن، وإن لم يشمت بعد الثلاث فحسن أيضًا. كذا في فتاوى قاضي. وعن محمد الله: أن من عطس مرارًا يشمت في كل مرة، فإن أخر كفاه مرة واحدة. كذا في التاتارخانية». وذكر في الطحطاوي على المراقي من شرح الموطأ» للقاري: أنه يجب تشميت العاطس مرة واحدة، وما زاد فمندوب، ولو لم يشمت أولا كفاه واحدة كسجدة التلاوة.

Hadith 4564

Volume 4

English

Ubaid ibn Rifa‘ah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Supplicate for the sneezer three times. If he exceeds that, supplicate if you wish or do not.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5036 (unverified) 92% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2744 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4565

Volume 4

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: “Supplicate for your brother three times; what exceeds that is a cold.”

[Narrated by Abu Dawud, who said: “I do not know it except that he raised the Hadith to the Prophet (ﷺ).”]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5034 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.