اردو
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی کے برابر
کسی چیز کو (سترہ بنا کر) کھڑا کرلے تو اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھے اور جو بھی اس کے پرے
سے گزرے تو اس کی کوئی پروا نہ کرے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے
سامنے (اس کی سجدہ کی جگہ سے) تین ہاتھ پرے سے گزریں تو یہ سترہ کا قائم مقام ہوگا۔ (یہ حکم مسجد
اور صحراء دونوں کو شامل ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 499a (unverified) 95% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 782 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 782
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "At a distance of a stone's throw" – In An-Nihayah: The correct view is that if one prays with full humility, keeping their gaze fixed on the place of prostration during the standing position and not looking at those passing by, it is not disliked. This is the preferred opinion of Fakhr al-Islam. Ibn al-Humam favored what is mentioned in An-Nihayah without distinguishing between the mosque and an open space, as stated in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: على قذفة بحجر وفي النهاية»: الأصح أنه لوصلى صلاة الخاشعين بأن يكون بصره حال قيامه إلى موضع سجوده لا يقع بصره على المار: لا يكره، وهو مختار فخر الإسلام. ورجح ابن الهمام ما ذكره في النهاية» من غير تفصيل بين المسجد والصحراء، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابوداؤد کی اس حدیث میں ”قذف حجر“ کے الفاظ ہیں اور علماء نے قذف حجر سے مراد ”رمی جمار“ لیا ہے۔ حج کے موقع پر منٰی میں جو کنکریاں ماری جاتی ہیں اس کو ”رمی جمار“ کہا جاتا ہے، اور یہ کنکریاں تین ہاتھ کے فاصلے سے ماری جاتی ہیں اس لئے حدیث کے الفاظ ”قذف حجر“ کا ترجمہ تین ہاتھ پر سے گزرنا کیا گیا ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)