Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1112

(یہ باب اس شئے کے بیان میں ہے جو تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جاتی ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب اس شئے کے بیان میں ہے جو تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جاتی ہے)

Zujajat al-Masabih 1112Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1261
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے چند لوگ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حضرات آپ کی خدمت میں صرف اسی لئے حاضر ہوئے تھے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد شروع نماز میں ثناء کے متعلق دریافت کریں (کہ کن الفاظ میں پڑھی جائے) ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا (بیان کر) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور نماز شروع فرمائی اور یہ سب لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرکے آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (تعلیم کے لئے) جہر سے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ“ پڑھ کر (بتلایا کہ ثناء میں یہ الفاظ سنت ہیں)۔

Arabic quotation in the English source

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے اور دارقطنی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور امام محمد نے کہا ہے کہ ہم نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کے انہی مذکورہ الفاظ کے پڑھنے کو (اختیار کئے ہیں) لیکن امام اور مقتدی دونوں کو چاہئے کہ وہ ثناء کے ان الفاظ کو جہر سے نہ پڑھیں، اب رہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس وقت ثناء کے ان الفاظ کو جہر سے پڑھنا محض سوال کرنے والوں کی تعلیم کی غرض سے تھا، امام ابن الہمام نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے عمل سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ سب حضرات تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کو ثناء کے انہی الفاظ سے شروع کرتے تھے اور حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام کا لوگوں کی تعلیم کے لئے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“، تا آخر کو جہر کے ساتھ پڑھنا کہ لوگ اس ثناء کو اختیار کریں اور اس سے مانوس ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ثناء کے انہی مذکورہ الفاظ کو پڑھنا تھا۔