اردو
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ (نماز میں) چار
چیزیں امام کو آہستہ کہنی چاہئے ایک ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ
دوسرے ”اَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“
تیسرے ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“
اور چوتھے ”آمین“۔ اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔
اور عبدالرزاق اور ابومعمر نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت
کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ آہستہ پڑھا کرتے تھے جہر سے نہیں پڑھتے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ نہ تو سورہ فاتحہ کا اور نہ قرآن کے کسی سورہ کا ابتدائی جزو ہے اگر ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ یا قرآن کے کسی سورت کا ابتدائی جزو ہوتا تو اس کو بھی قرآن کی اور آیتوں کی طرح ضرور جہر سے پڑھا کرتے۔ سورہ نمل میں جو ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ مذکور ہے اس کو اس وجہ سے جہر سے پڑھا جاتا ہے کہ وہ دیگر آیتوں کی طرح اس سورہ میں قرآن کا جزو ہے، علاوہ ازیں نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء اور تعوذ کو اسی وجہ سے آہستہ پڑھا جاتا ہے کہ یہ دونوں قرآن کے جزو نہیں ہیں، اس طرح جب ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ کا آہستہ پڑھا جانا حدیثوں سے ثابت ہوا تو معلوم ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ بھی ثناء اور تعوذ کی طرح قرآن کا جزو نہیں ہے۔