اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1465
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھ
سے کعب ابن عجرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے کیا میں تمہیں ایک ایسا تحفہ نہ دوں جو
مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے؟ میں نے ان سے کہا جی ہاں ضرور دیجئے تو حضرت کعب رضی اللہ
عنہ نے کہا کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اللہ تعالیٰ نے (نماز میں التحیات کے ذریعہ) آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں سکھا دیا ہے، اب فرمائیے کہ ہم
آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر (نماز میں) درود کس طرح بھیجا کریں؟ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح کہا کرو: ”اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ سَيِّدِنَا
اے اللہ! رحمت بھیج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر (جس کا یہ اثر ہو کہ دنیا میں آپ کی
عظمت کا ذکر ہر جگہ ہوتا رہے آپ کی دعوت اسلام ہر جگہ پہنچ جائے اور آپ کی شریعت ہمیشہ باقی رہے
اور آخرت میں اس رحمت کا اثر اس طرح ہو کہ آپ کی شفاعت عامہ آپ کی تمام امت کو پہنچے اور اجر و
ثواب دس مرتبہ کے برابر ہو کر ملتا رہے۔ رحمت کے معنی مرقات سے ماخوذ ہے۔12)
اور ایسی ہی رحمت آپ کے آل پر بھیجئے یہ ایسی رحمت کی طرح ہو جیسی کہ آپ نے حضرت
ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر رحمت کی ہے اور ان کے ساتھ ہم پر بھی رحمت فرمائیے، بے شک
آپ ہی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔
اے اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر ایسی برکت نازل فرمائیے (جس کا یہ اثر
ہو کہ جو نعمتیں آپ کو عطا ہوئی ہیں وہ ہمیشہ باقی رہیں اور ان میں زیادتی ہوتی رہے یہ) ایسی ہی برکت ہو جو
حضرت ابراہیم اور ان کی آل کو آپ نے عطا کی ہے اور ان کے ساتھ ہم پر بھی برکت نازل کیجئے، بے
شک آپ ہی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3371 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 406a (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 919 (unverified) 85% confidence
Mishkat (candidate) 919
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی روایت کئے ہوئے تشہد کے الفاظ پر ایک حرف کے بھی بڑھانے اور گھٹانے کو پسند نہیں فرماتے تھے اسی وجہ سے صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ التحیات میں ”اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ کے پڑھتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے پہلے لفظ ”سَيِّدَنَا“ نہیں بڑھانا چاہئے، البتہ درود ابراہیمی میں جو تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے پہلے لفظ ”سَيِّدِنَا“ بڑھانا چاہئے اور اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام مبارک کے پہلے بھی لفظ ”سَيِّدِنَا“، بڑھانا چاہئے ردالمحتار میں ایسا ہی مذکور ہے۔ ف(2): واضح رہے کہ درود ابراہیمی میں ”كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ“ کے بعد ”اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ سے پہلے ”وَصَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ“ اور اسی طرح ”كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ“ کے بعد ”اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ سے پہلے ”وَبَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ“ کا جو اضافہ کیا گیا ہے وہ ترمذی کی ایک روایت سے ماخوذ ہے جس کے راوی عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ملاحظہ ہو ترمذی کے ابواب الوتر میں ”مَاجَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلٰوةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“۔)