اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1644
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر شام کا کھانا (یا کسی اور وقت کا کھانا ہو) سامنے لا کر رکھ دیا گیا ہو، اور ادھر
نماز کی اقامت ہو رہی ہو تو (چونکہ نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب باقی ہے مگر شدید بھوک
کی وجہ سے حضور قلب نہیں رہتا اس لئے) پہلے کھانا کھا لو، اور کھانے سے فارغ ہونے تک نماز کے
لئے جلدی نہ کرو (تاکہ حضور قلب کے ساتھ نماز ادا ہو، بشرطیکہ ایسا طویل کھانا نہ ہو جس سے
جماعت ہی فوت ہو جائے) اسی پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل درآمد تھا کہ آپ کے سامنے
کھانا آ جاتا تھا اور نماز کی تکبیر ہوتی رہتی تھی اور آپ امام کی قرأت سنتے تو جب تک کھانے سے فارغ
نہ ہوتے نماز کو نہ آتے اور کھانے سے فارغ ہو کر جماعت میں شریک ہو جاتے، اگر کوئی کھانا نہ کھا کر
جماعت میں شریک ہو جائے تو یہ اس کے لئے عزیمت ہے۔ اور بڑے ثواب کی بات ہے، چنانچہ
بخاری میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”لَا
تُؤَخِّرُوا الصَّلَاةَ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَيْرِهِ“ (کھانے کی وجہ سے یا کسی اور ضرورت سے نماز کی جماعت
کو مؤخر نہ کرو (اسی عزیمت پر عمل کرتے ہوئے ایک روز (جیسا کہ بخاری میں عمرو بن امیہ رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے۔12) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دست کا گوشت تناول فرما رہے تھے اتنے میں
آپ کو نماز کے لئے بلایا گیا تو آپ نے چھری پھینک دی اور نماز کے لئے تشریف لے گئے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 673 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 559a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.