اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1734
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز میں (مثلاً رکوع یا سجدے سے) امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا کیا
اس بات سے بے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو مسخ کر کے گدھے کا سر بنا دیں (اس حدیث
شریف میں اس طرف اشارہ ہے کہ افعال نماز میں جو امام سے سبقت کرتا ہے وہ حماقت اور بلاوت
میں گدھے کا جیسا ہے کیونکہ امام اس لئے بنایا تھا کہ متابعت کی جائے لیکن متابعت چھوڑ کر امام سے
سبقت کرنا امام بنانے کے منشاء کے خلاف ہے اس لئے یہ گدھے کے جیسا احمق ہے)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 691 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 427a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مسخ کا ذکر ہے کہ امام سے سبقت کرنے والے کا سر مسخ ہوکر گدھے کا سر ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ یہ مسخ ہونا اس حدیث کے خلاف نہیں ہے جس میں ارشاد ہے کہ اس امت مرحومہ میں مسخ نہیں ہوگا، اس لئے کہ اس حدیث شریف کا منشاء یہ ہے کہ عام مسخ نہ ہوگا یعنی اور امتوں کی طرح یہ تمام امت مسخ میں مبتلا نہ ہوگی، اگر بعضوں کو سزائے مسخ کردیا جائے تو اس حدیث شریف کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ دمشق کے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ وہ اپنا منہ ہمیشہ ڈھانکے رہتا تھا، ایک روز جب اس کا چہرہ نظر آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کا سر گدھے کا سر ہے، دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ اس نے حدیث کو سن کر یہ خیال کیا تھا کہ انسان کا سر گدھے کا سر کیسے ہوسکتا ہے اور عمداً امام سے پہلے سر اٹھایا تو اس کا سر مسخ ہوکر گدھے کا سر ہوگیا اور اس کو معلوم کرا دیا گیا کہ مسخ ایسے ہوسکتا ہے ”نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْهُ“ حدیث شریف سے بے ادبی کرنے اور حدیث شریف کا انکار کرنے کی یہی سزا ہے دنیا میں، اور آخرت میں جدا عذاب ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث شریف کے انکار سے بچائے۔ (ماخوذ از مرقات)12