اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1755
قبیلہ اسد بن خزیمہ کے ایک صاحب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب
انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے مکان میں تنہا نماز پڑھ لے، پھر وہ مسجد
آئے اور دیکھے کہ نماز کے لئے اقامت ہو رہی ہے تو کیا وہ ایسی صورت میں (نفل کی نیت سے)
جماعت میں شریک ہو سکتا ہے؟ مجھے تو اس میں شک ہے (کیا جو صورت بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہے؟)
تو ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: (شک کی ضرورت نہیں) ہم نے اس مسئلہ میں حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے تحقیق کر لی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو بھی
جماعت کا پورا ثواب ملتا ہے۔ (بشرطیکہ فجر، عصر اور مغرب نہ ہوں اس لئے کہ ان نمازوں کو تنہا پڑھ
لینے کے بعد دوبارہ ان نمازوں کی جماعتوں میں شریک نہ ہونا چاہئے اس کی صراحت دارقطنی کی
حدیث سے آگے آ رہی ہے)۔ (اس کی روایت امام مالک اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 578 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.