Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1635

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

Zujajat al-Masabih 1635Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1880
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہ رمضان میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تہجد کی کیفیت اور تعداد رکعات کے بارے میں دریافت کیا، ام المؤمنین ارشاد فرمائیں: حضور اقدس تہجد میں گیارہ رکعتوں سے زائد نہ پڑھتے تھے، خواہ رمضان ہو یا نہ ہو۔ چار رکعتیں تو ایسی پڑھتے کہ تم ان کی خوبی اور ان کا طول قرأت تو دریافت ہی نہ کرو، اس کے بعد چار رکعتیں اور پڑھتے تھے ان کی خوبی اور درازی بھی ناقابل دریافت ہے (دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی) پھر اخیر میں آپ تین رکعتیں (وتر) کے پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "Guard strictly the prayers, and the middle prayer." (Al-Baqarah, 2:238)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1147 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 738a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

then he prayed four rak'ahs

(1) The phrase "then he prayed four rak'ahs" indicates that the night prayer is performed in sets of four rak'ahs. Otherwise, she would have said, "eight rak'ahs—do not ask about their beauty and length." This is mentioned in Fath al-Qadir.

Note 1

قوله

(۱) قوله : ثم يصلي أربعا فهذا الفصل يفيد أن صلاة الليل أربعا أربعا، وإلا لقالت: ثمانيا، فلا تسأل عن حسنهن وطولهن». كذا في فتح القدير».

Note 1

ف: اس حدیث میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تہجد کی رکعتوں کی تفصیل بتلا رہی ہیں جس کے آخر میں وتر کا ذکر ہے، اگر وتر ایک رکعت علیحدہ سلام سے ہوتی تو ام المؤمنین یوں ارشاد فرماتیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعتیں دو رکعت ایک سلام سے اور ایک رکعت ایک سلام سے ادا فرماتے تھے، ایسا نہ کہہ کر یہ فرمانا کہ وتر کے تین رکعتیں ادا فرماتے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ وتر کی تین رکعتیں ایک سلام سے ادا کرنا چاہئے۔