اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1936
عاصم احول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ (دعاء یا تو نماز کے آخری قعدہ میں کی جاتی ہے یا
نماز کے بعد) کیا عین نماز کی رکعتوں میں بھی دعاء کی جاتی ہے؟ حضرت انس نے فرمایا: ہاں وتر کی
تیسری رکعت میں بھی دعاء پڑھی جاتی ہے تو میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا
رکوع کے بعد؟ حضرت انس نے فرمایا کہ دعائے قنوت (وتر میں ہمیشہ) رکوع سے پہلے پڑھی جاتی
ہے (عاصم نے کہا کہ مجھ سے تو فلاں شخص نے بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع
کے بعد دعاء پڑھی ہے تو حضرت انس نے فرمایا: ایسا نہیں، اصل واقعہ کو انہوں نے ظاہر نہیں کیا، صحیح
بات یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صرف ایک ماہ تک (نماز صبح میں) رکوع کے
بعد دعائے قنوت پڑھی ہے۔ ایک ماہ تک (نماز فجر میں رکوع کے بعد) دعاء پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ صحابہ کو جنہیں قراء کہا جاتا تھا اور وہ ستر کے قریب تھے، مشرکین کی
ایک جماعت کی طرف (اسلام کی تبلیغ کرکے علم دین سکھانے کے لئے) بھیجا (اس قوم میں اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں معاہدہ تھا۔ لیکن مشرکین نے عہد شکنی کی) اور سب قراء کو قتل کردیا
(صرف کعب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کہ ان کو بھی مشرکین نے زخمی کردیا اور سمجھ لیا تھا کہ شہید
ہوگئے ہیں مگر ان کی کچھ جان باقی تھی وہ بچ کر واپس آگئے اس واقعہ سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر غم ہوا کہ ایسا غم کبھی نہیں دیکھا گیا اس لئے) ایک ماہ تک نماز صبح میں رکوع کے
بعد قاتلوں کو بددعا دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعائے قنوت پڑھی ہے (پھر
اس کے بعد نماز صبح میں یا کسی اور نماز میں رکوع کے بعد دعائے قنوت کبھی نہیں پڑھی)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1002 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month" means that Qunut is only performed outside of Witr during times of calamity. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. In Rad Al-Muhtar, it is stated: "If a calamity occurs, the Imam performs Qunut in the audible prayers." However, in Al-Ashbah, it is mentioned that Qunut is performed in Fajr prayer. This is supported by Sharh Al-Munyah, which states that the permissibility of Qunut during calamities is continuous. This is the view of our school and the majority. Hafiz Abu Ja'far At-Tahawi said: "We do not perform Qunut in Fajr prayer unless there is a calamity. If a calamity occurs, there is no harm in doing so, as the Prophet (ﷺ) did it. As for Qunut in all prayers during calamities, Ash-Shafi'i did not hold this view. It seems they considered the narrations about Qunut in Dhuhr and Isha prayers, as in Muslim, and in Maghrib prayer, as in Bukhari, to be abrogated due to the lack of consistent practice compared to Fajr prayer." This clearly indicates that Qunut during calamities in our school is specific to Fajr prayer and not other audible or silent prayers. It is also clear that the follower (ma'mum) follows the Imam, except when the Imam recites aloud, in which case the follower says "Ameen." Qunut is performed after bowing, not before, as evidenced by the narrations used by Ash-Shafi'i to support Qunut in Fajr, which explicitly mention Qunut after bowing. Our scholars interpreted this as Qunut during calamities. Later, Ash-Sharnuballi in Maraqi Al-Falah explicitly stated that it is performed after bowing, while Al-Hamawi suggested it is before bowing. The more apparent view is what we have stated.
Note 1
(۱) قوله: قنت رسول الله ﷺ بعد الركوع شهرا إلخ يعني لا يقنت لغير الوتر إلا لنازلة. قاله في «الدر المختار»، وقال في رد المحتار» عن «البناية : إذا وقعت نازلة قَنَتَ الإمام في الصلاة الجهرية، لكن في «الأشباه» عن «الغاية»: قنت في صلاة الفجر، ويؤيده ما في شرح المنية» حيث قال بعد كلام فتكون شرعيته، أي شرعية القنوت في النوازل مستمرة، وهو محمل قنوت مَن قَنَتَ من الصحابة بعد وفاته ، وهو مذهبنا، وعليه الجمهور. قال الحافظ أبو جعفر الطحاوي: إنما لا يقنت عندنا في صلاة الفجر من غير بلية، فإن وقعت فتنة بلية فلا بأس به، فعله رسول الله ﷺ. وأما القنوت في الصلوات كلها للنوازل، فلم يقل به الشافعي، وكأنهم حملوا ما روي عنه : أنه قنت في الظهر والعشاء، كما في «مسلم»، وأنه قنت في المغرب أيضًا، - كما في البخاري - على النسخ؛ لعدم ورود المواظبة والتكرار الواردين في الفجر عنه . انتهى. وهو صريح في أن قنوت النازلة عندنا مختص بصلاة الفجر دون غيرها من الصلوات الجهرية أو السرية، وظهر تقييدهم بالإمام أنه لا يقنت المنفرد، وهل المقتدي مثله أم لا؟ وهل القنوت هنا قبل الركوع أم بعده؟ لم أره، والذي يظهر لي أن المقتدي يتابع إمامه إلا إذا جهر فيؤمن وأنه يقنت بعد الركوع لا قبله، بدليل أن ما استدل به الشافعي على قنوت الفجر، وفيه التصريح بالقنوت بعد الركوع حمله علماؤنا علي القنوت للنازلة، ثم رأيت الشرنبلالي في مراقي الفلاح صرح بأنه بعده واستظهر الحموي أنه قبله، والأظهر ما قلناه.
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک ماہ تک (نماز صبح میں) رکوع کے بعد (عام مسلمانوں پر مصیبت آنے کی وجہ سے) دعائے قنوت پڑھی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وتر کے سوا کسی اور نماز میں بجز قنوت نازلہ کے دعائے قنوت نہ پڑھی جائے۔ قنوت نازلہ یہ ہے کہ کفار کی طرف سے جب کوئی سخت مصیبت عام مسلمانوں پر آن پڑے تو امام نماز فجر میں رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرے اور اس کا حکم دائمی ہے یعنی ہر زمانہ میں کفار کی طرف سے مسلمانوں پر عام مصیبت آن پڑے تو قنوت نازلہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد پڑھی جائے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی ایسے موقعوں پر قنوت نازلہ پڑھی ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ نے یہی فرمایا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی پر جمہور کا عمل درآمد ہے۔ قنوت نازلہ کو نماز فجر کے سوا اور نمازوں میں پڑھنے کا جو ذکر بعض احادیث میں مروی ہے ایسی حدیثوں کو ائمہ احناف نے منسوخ قرار دیا ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے سواء دیگر نمازوں میں قنوت نازلہ پر کبھی مواظبت اور تکرار نہیں فرمائی بلکہ قنوت نازلہ کی تکرار اور مواظبت صرف نماز فجر ہی میں ثابت ہے اور اسی وجہ سے احناف نے قنوت نازلہ کو نماز فجر سے مختص کیا ہے، فقہاء نے اس کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ منفرد قنوت نازلہ نہ پڑھے، اگر امام قنوت نازلہ آہستہ پڑھ رہا ہو تو مقتدی بھی قنوت کو آہستہ پڑھے۔ اور اگر امام قنوت نازلہ جہر سے پڑھ رہا ہو تو مقتدی خود قنوت نہ پڑھے بلکہ آمین کہتا جائے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار سے ماخوذ ہے۔)