اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 20
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عید اضحیٰ یا فطر میں
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کی طرف نکلے اور عورتوں پر سے گزرے، پس فرمایا کہ اے
عورتوں کی جماعت! خیرات کیا کرو! کیونکہ دوزخیوں میں میں نے تمہارا ہی حصہ زیادہ دیکھا ہے، پس
عورتوں نے کہا: کس لئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ فرمایا کہ تم لعنت زیادہ کرتی ہو، اور شوہر کی
ناشکری کرتی ہو، ناقص العقل اور ناقص الدین ہونے کے باوجود عقل مند کی عقل پر غالب آنے والے
تم سے زیادہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا، عورتوں نے کہا: یا رسول اللہ ہماری عقل اور ہمارے دین کا
نقصان کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ایک عورت کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے
نصف نہیں ہے؟ عورتوں نے کہا کہ: کیوں نہیں (یعنی ہاں ہاں)، آپ نے فرمایا کہ یہ ان کے نقصان
عقل کی وجہ سے ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو وہ
نماز نہیں پڑھتی اور روزہ بھی نہیں رکھتی، عورتوں نے کہا کہ کیوں نہیں (یعنی ہاں ہاں)، آپ نے
فرمایا کہ یہ اس کے دین کے نقصان کی وجہ سے ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 304 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 19 (unverified) 91% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 80 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 19
Confidence and text similarity are not editorial verification.