Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1886

(یہ باب قربانی کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب قربانی کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1886Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2192Noor grouped label
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (عید اضحی تھی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو مینڈھے قربانی دئے جن کے جسم پر کثرت سے بال تھے اور یہ دونوں ابلق یعنی چتکبرے تھے ان دونوں مینڈھوں میں سے ایک مینڈھا تو اپنے اپنے طرف سے قربانی دئے اور دوسرا مینڈھا اپنی تمام امت کی طرف سے (آپ کی امت دو قسم کی ہے، ایک امت دعوت ہے جن میں کفار بھی شامل ہیں تو آپ یہ قربانی امت دعوت کی طرف سے نہیں دئے بلکہ امت اجابت کی طرف سے یہ قربانی دئے ہیں۔ یعنی اس قربانی کا ثواب امت اجابت کو پہنچائے ہیں، جو توحید کے اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے قائل ہیں جن کو مسلمان کہتے ہیں)۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے اور امام محمد نے بھی کتاب الآثار میں اس کی روایت کی ہے اور حاکم، ابن ماجہ اور امام احمد نے بھی اسی طرح اس کی روایت کی ہے اور حاکم 5/2193-2194۔ اس کی تائید ابن ماجہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ ایک شخص حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھ کو سات شخصوں کی طرف سے قربانی کرنا ہے، میں ایک اونٹ قربانی کرنا چاہتا ہوں، اور اس وقت اونٹ نہیں مل رہا ہے کیا کیا جائے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے (اگر اونٹ نہ مل رہا ہو تو) سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کردے (ایک ایک
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3136 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.660

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 3

The other was for those among his Ummah who testified that there is no god but Allah.

(3) The statement: "The other was for those among his Ummah who testified that there is no god but Allah." Some hadiths indicate that a single sheep suffices for a man and his household. Muhammad (may Allah be pleased with him) explained in Al-Muwatta: "A needy person would sacrifice a single sheep for himself, eat from it, and feed his family. However, a single sheep cannot be sacrificed for two or three people as an Udhiyah. This is the view of Abu Hanifah and the majority of our scholars." In Al-Ta’liq al-Mumajjad, it is said: "Muhammad (may Allah be pleased with him) explained that it applies when a person is in need of meat or is poor and not obligated to sacrifice. He may sacrifice a single sheep for himself and feed his family or share the reward with them. However, sharing a single sheep for an obligatory Udhiyah is not permissible." Al-Tahawi said: "It is either abrogated or specific. The evidence is that while a ram suffices for multiple people without restriction, a cow or camel is more appropriate for multiple people. However, the Prophet (ﷺ) limited a camel to seven people and a cow to seven people. This indicates that a sheep cannot suffice for more than seven people. Therefore, a sheep cannot suffice for more than one person, as agreed upon by Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad (may Allah have mercy on them)."

Note 3

قوله

(۳) قوله : والآخر عمن شهد أن لا إله إلا الله من أمته : لما كان بعض الأحاديث دالا على أن الشاة الواحدة تجزئ عن الرجل وأهل بيته أوله محمد في الموطأ»، وقال: كان الرجل يكون محتاجا فيذبح الشاة الواحدة، يُضحي بها عن نفسه فيأكل ويُطعم أهله، فأما شاة واحدة تذبح عن اثنين أو ثلاثة أضحية، فهذه لا يجزئ، ولا يجوز شاة إلا عن الواحد، وهو قول أبي حنيفة والعامة من فقهائنا. وقال في التعليق الممجد»: أوله محمد إلى أنه محمول على ما ذا كان الرجل محتاجا إلى اللحم، أو فقيرا لا يجب عليه الأضحية، فيذبح الشاة الواحدة عن نفسه ويُطعم اللحم أهل بيته، أو يشركهم في الثواب، فذلك جائز. فأما الاشتراك في الشاة الواحدة في الأضحية الواجبة فلا . وقال الطحاوي : إنه منسوخ أو مخصوص، فما دل على ذلك أن الكبش لما كان يجزئ عن غير واحد، لا وقت في ذلك ولا عدد، كانت البقرة والبدنة أحرى أن تكون تجزئتان عن غير واحد، لا وقت في ذلك ولا عدد ثم قد روينا عن النبي ﷺ ما قد دل على خلاف ذلك مما قد ذكرناه في الباب الذي قبل هذا من نحر أصحابه معه الجزور عن سبعة، والبقرة عن سبعة، وكان ذلك عند أصحابه على التوقف منه لهم على أن البقرة والبدنة لا تجزئ واحدة منهما عن أكثر مما ذبحت يومئذ، وتواترت عنهم الروايات بذلك. فلما جعلت البقرة عن سبعة، وكان ذلك مما قد وقف عليه، ولم يجعل لنا أن نعدو ذلك إلى ما هو أكثر منه، كانت الشاة أحرى أن لا تجزئ عن أكثر مما تجزئ عنه البقرة من ذلك. فلما ثبت أن الشاة لا تجزئ عن أكثر من سبعة انتفى بذلك قول من قال: إنها تجزئ عن جميع من ذبحت عنه ممن لا وقت لهم ولا عدد، ولا يجاوز إلى غيره، وثبت ضده، وهو قول من قال: إن الشاة لا تجزئ إلا عن واحد، وقد ذكرنا عن رسول الله له في الباب الذي قبل هذا أن رجل قال له: إن على ناقةً وقد غربت عني، فأمره أن يجعل مكانه سبعا من الغنم. فَدَلَّ ذلك على ما ذكرنا أيضا. فلما كانت البدنة أعظم ما يهدى ثبت أنها أعظم ما يضحى به، ولما كانت باتفاقهم لا تجزئ في الأضحية عما فوق السبعة كانت الشاة أحرى أن لا تجزئ عن ذلك. ولما انتفى أن تجزئ الشاة عما فوق السبعة ثبت أنها لا تجزئ إلا عن خاص من الناس. وقد أجمعوا على أنها مجزئة عن الواحد، واختلفوا فيما هو أكثر منه، فلا يدخل فيما قد ثبت له حكم الخصوصية، إلا ما قد أجمعوا على دخوله فيه. فثبت بما ذكرنا أنه لا يجوز أن يُضحى بالشاة الواحدة عن اثنين، ولا عن أكثر من ذلك، وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين.

Note 1

نے اس حدیث کو مسلم کی شرط کے موافق صحیح قرار دیا ہے۔) ف: واضح ہو کہ بکری کی قربانی کے متعلق مختلف روایتیں آئی ہیں۔ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو بکریوں کی قربانی کئے تھے ایک بکری اپنی طرف سے قربانی کئے اور دوسری بکری تمام امت کی طرف سے ایک اور روایت میں اس طرح مروی ہے کہ ایک بکری آپ قربانی کئے اپنی طرف سے اور تمام گھر والوں کی طرف سے اور عبدالرزاق کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بکری کی قربانی ایک ہی شخص کی طرف سے ہونا چاہئے۔

Note 2

بکری ایک ایک کی طرف سے قربانی کے لئے کافی ہوگی، اگر ایک بکری سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوتی تو حضور فرماتے اگر اونٹ نہ ملے تو ایک بکری خرید لو، ساتوں کی طرف سے ایک بکری کافی ہو جائے گی ایسا نہ فرما کر سات بکریاں خریدنے کا جو حکم دئے اس سے معلوم ہوا کہ ایک بکری ایک ہی شخص کی طرف سے قربانی دی جانی چاہئے ایک سے زیادہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی جائز نہیں)۔ ان مختلف روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ قربانی دو قسم کی ہوتی ہے: ایک نفل جو محض ثواب کے لئے کی جاتی ہے اور جو قربانی کرنے والے پر واجب نہیں ہوتی، اور دوسری قربانی وہ ہے جو قربانی کرنے والے پر صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔ وہ احادیث جن میں ایک بکری کا سارے گھر والوں کی طرف سے قربانی دیا جانا منقول ہے وہ نفل قربانی سے متعلق ہیں جو محض ثواب کے لئے کی گئی ہے، واجب کے طور پر نہیں کی گئی۔ بخلاف اس کے جو قربانی واجب ہو اس میں ایک بکرا ایک ہی شخص کی طرف سے قربانی میں دیا جائے گا، ایک سے زیادہ کی طرف سے نہیں دیا جائے گا۔ اس لئے کہ جس طرح واجب زکات کا نصاب مقرر ہے۔ مثلاً اگر کسی کے پاس دو سو(200) درہم ہوں تو اس پر ہر چالیس (40) درہم پر ایک درہم زکات واجب ہوتی ہے بخلاف نفل خیرات کے اس کے لئے کوئی نصاب مقرر نہیں کہ جس قدر چاہے اور جب چاہے نفل خیرات دے سکتا ہے، ایسا ہی نفل قربانی کے لئے انسانوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں جتنے انسانوں کی طرف سے چاہیں، ایک بکرا قربانی دے کر اس کے ثواب میں سب کو شریک کر لے سکتے ہیں، بخلاف واجب قربانی کے کہ اس کے لئے بھی تعداد مقرر ہے کہ اونٹ اور گائے سات سات شخصوں کی طرف سے، اور بکرا ایک شخص کی طرف سے واجب قربانی میں دیا جائے، اس سے معلوم ہو کہ جن حدیثوں سے ایک بکرا سارے گھر والوں کی طرف سے دیا جانا ثابت ہے وہ نفل قربانی تھی جو محض ثواب کے لئے کی گئی اور سب کو ثواب میں شریک کیا گیا۔ جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک بکرے کی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے ہونا اس وقت پر محمول ہے کہ کوئی شخص محتاج ہوتا اور اس پر قربانی واجب نہیں ہوتی تھی تو وہ اپنی جانب سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکرا قربانی کرتا اور سب کو ثواب میں شریک کر لیتا، اور جن حدیثوں سے ایک بکرا ایک کی طرف سے دیا جانا معلوم ہوتا ہے وہ واجب قربانی ہے، اس لئے ایک سے زیادہ کی طرف سے ایک بکرا قربانی میں نہیں دیا جا سکتا۔ جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ ایک بکری واجب قربانی میں پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے تو ان کا یہ قول اس لئے صحیح نہیں ہے جبکہ سب کا اتفاق اس بات پر ہے کہ ایک اونٹ یا ایک گائے تو سات شخصوں سے زائد کے لئے کافی نہ ہو، اور ایک بکری پورے گھر والوں کی طرف سے مثلاً اگر گھر میں بیس آدمی ہوں تو ان کے لئے واجب قربانی میں کافی ہو جائے یہ خلاف عقل اور نقل ہے (تعلیق مجد)۔ (جب کوئی شخص قربانی میں جانور ذبح کرنا چاہے اور ابھی جانور کو ذبح کے لئے لٹایا نہیں ہے تو جو دعاء چاہے پڑھ سکتا ہے، ایسا ہی لٹانے کے بعد ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ کہنے سے پہلے بھی جو دعاء چاہے پڑھ سکتا ہے اور اسی طرح ذبح کے بعد بھی جو دعاء چاہے کر سکتا ہے، جانور کو زمین پر لٹا کر عین ذبح کرنے کے وقت صرف اللہ ہی کا نام ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ لینا چاہئے۔ عین ذبح کے وقت) کسی انسان کا نام کسی حیثیت سے بھی لینے کو چاہے ”بِسْمِ اللّٰهِ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَانٍ“ (اللہ کے نام سے قربانی شروع کر رہا ہوں، اس کو فلاں کی طرف سے قبول فرما) ہی کیوں نہ کہے۔