اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2248
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ قبیصہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ قبیصہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ
میں (ایک دفعہ) سورج گہن ہوا (اس وقت سورج طلوع کر کے (جیسا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث
سے معلوم ہوتا ہے جو آگے آ رہی ہے (فتح القدیر)12۔) دو نیزہ برابر بلند ہوا تھا) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سورج گہن سے بیحد خوف زدہ تھے (خوف کی وجہ سے چادر اوڑھنے کی سدھ نہ تھی) چادر
گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف چلے، میں بھی اس وقت حضور کے ساتھ تھا اور یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے،
حضور دو رکعت نماز سورج گہن کی پڑھائے اس دونوں رکعتوں میں آپ بہت طویل قرأت کئے، پھر
جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کسوف ختم ہو کر آفتاب روشن ہو گیا تھا (نماز کے بعد) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (صاحبو سنو!) شمس و قمر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں (ان
کی روشنی سلب کر کے) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرایا کرتے ہیں (کہ اتنی بڑی روشن مخلوق کو ہم یوں
تاریک کر دیتے ہیں تو تم کس گنتی میں ہیں، ہم چاہیں تو تم پر بھی ایسا ہی عذاب اتار سکتے ہیں) جب تم
سورج یا چاند کو گہن لگتا ہوا دیکھو تو تم قریب میں جو ابھی ابھی فجر کے فرض کی دو رکعتیں (ہر رکعت ایک
رکوع سے پڑھ چکے ہو ایسا ہی گہن کی نماز کو بھی دو رکعت (ہر رکعت ایک رکوع سے) پڑھا کرو۔ اس
کی روایت ابو داؤد، طحاوی اور نسائی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1185 (unverified) 93% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1486 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "As you would pray the most recent obligatory prayer." In Jami’ al-Athar, it is said: "This refers to the Fajr prayer, as the eclipse occurred when the sun was two spear-lengths above the horizon." This is mentioned in Fath al-Qadir, which adds "two spear-lengths" based on the hadith of Samurah.
Note 1
(۱) قوله: كأحدث وفي جامع الآثار»: بأحدث صلاة صلاة الفجر؛ فإن الكسوف كان عند ارتفاع الشمس قيد رمحين. كذا في فتح القدير»، وزاد فيه قدر رمحين على ما في حديث سمرة.