Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1939

(اس باب میں استسقاء کا بیان ہے یعنی بارش رک گئی ہو تو بارش ہونے کے لئے

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں استسقاء کا بیان ہے یعنی بارش رک گئی ہو تو بارش ہونے کے لئے

Zujajat al-Masabih 1939Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2263
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنے ہیں، انس بن مالک فرماتے ہیں کہ (بارش نہ ہونے سے لوگ بہت پریشان تھے ایسے موقع پر) جمعہ کے دن ایک صاحب منبر کے سامنے والے دروازے سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے اس وقت حضور منبر پر کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، یہ آنے والے صاحب حضور کے طرف رخ کر کے کھڑے ہوگئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ (بارش نہ آنے سے جو قحط پڑا ہے اس کی وجہ سے) مویشی ہلاک ہوگئے (اور اونٹوں کے مرنے کی وجہ سے) آمد و رفت کے ذرائع کم ہوگئے اس لئے راستے بند پڑے ہیں آپ دعاء کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر بارش برسائے (یہ سنتے ہی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھا کر دعاء کئے:۔ اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا الٰہی ہم پر بارش برسائیے۔ اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا الٰہی ہم پر بارش برسائیے۔ اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا الٰہی ہم پر بارش برسائیے انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم (حضور کے دعاء فرمانے سے پہلے) بارش کے کوئی آثار ظاہر نہ تھے، نہ تو ابر گھرا ہوا تھا نہ ابر کے ٹکڑے اِدھر اُدھر پھر رہے تھے بلکہ آسمان بالکل صاف تھا، کوہ سلع تک ہماری نظر پہنچ رہی تھی، ہمارے اور کوہ سلع کے درمیان میں نہ کوئی مکان تھا اور نہ کوئی عمارت، کوہ سلع اور اس کے پیچھے کا حصہ ہم کو صاف نظر آ رہا تھا اور کہیں ابر کا پتہ نہیں تھا (حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے ہیں) کو سلع کے پیچھے سے ابر کا چھوٹا ٹکڑا مثل ڈھال کے اٹھا (اور ہم کو دکھائی دیا، دیکھتے ہی دیکھتے تمام آسمان پر پھیل گیا اور برسنا شروع کیا اور خوب بارش ہونے لگی اور اتنی بارش ہوتی رہی کہ بخدا ایک ہفتہ تک سورج نظر نہ آیا (اسی طرح پورا ہفتہ گزر گیا اور دوبارہ جمعہ کا دن آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایسے میں ایک صاحب اسی دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ (کثرت بارش سے) مویشی تباہ ہوگئے اور راستے بھی بند ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اب ہم پر بارش نہ ہو (جہاں ضرورت ہو وہاں بارش ہو) حضرت انس فرمائے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھائے پھر دعا فرمانے لگے: الٰہی ہمارے آس پاس بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ الٰہی ٹیلوں، پہاڑوں، پہاڑیوں اور نالوں پر اور جہاں درخت پیدا ہوتے ہیں ان مقامات پر پانی برسائیے۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا فرمانا ہی تھا کہ ابر چھٹ گیا (بارش ختم ہوگئی) اور جب ہم (مسجد سے واپس ہوئے) ہم دھوپ میں چلتے ہوئے واپس ہوئے۔ شریک جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے دریافت کیا کہ یہ بعد میں آنے والے صاحب جو بارش کے بند ہونے کی دعا کو کروائے کیا وہی صاحب تھے جو بارش ہونے کی دعا کو کروائے تھے؟ تو انس رضی اللہ عنہ فرمائے کہ: مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "Ask forgiveness of your Lord. Indeed, He is ever a Perpetual Forgiver. He will send [rain from] the sky upon you in [continuing] showers." (1) (Qur’an 71:10-11)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1013 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 897a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Chapter-heading commentary

He will send [rain].

(1) The statement: "He will send [rain]." The descent of rain is linked to seeking forgiveness, not to the prayer for rain. Therefore, the original practice is supplication and humility, not a specific prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.

(2) These hadiths and narrations all testify to Abu Hanifah’s view that the prayer for rain (Istisqa) is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer.

Note 3

He raised his hands.

(3) The statement: "He raised his hands." This indicates that there was no turning of the cloak or facing a specific direction. It is clear evidence for Abu Hanifah that the prayer for rain is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer. This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: يرسل: علق نزول الغيث بالاستغفار لا بالصلاة، فكان الأصل فيه الدعاء والتضرع دون الصلاة. قاله في عمدة القاري».

قوله

(۲) قوله: فصل إلخ : فهذه الأحاديث والآثار كلها تشهد لأبي حنيفة أن الاستسقاء استغفار ودعاء.

Note 3

قوله

(۳) قوله: فرفع فيه: لا تحويل ولا استقبال، وفيه حجة واضحة لأبي حنيفة أن الاستسقاء دعاء واستغفار، ولا صلاة فيه. قاله العلامة العيني في عمدة القاري.