اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2264
شرحبیل بن السمط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرّہ رضی
اللہ عنہ سے کہا: اے کعب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہم کو کوئی حدیث سنائیے (آج کل
لوگ موضوع حدیثیں سنا رہے ہیں) آپ بہت احتیاط سے وہی الفاظ سنائیے جو حضرت سے آپ
سنے ہیں، حضرت کعب فرمائے (میں وہی الفاظ سناتا ہوں جو میں نے حضور سے سنے ہیں، ایک دفعہ
کا واقعہ ہے کہ بارش رک گئی تھی لوگ بہت پریشان تھے ایسے موقع میں) ایک صاحب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ بارش نہ ہونے سے لوگ
بہت پریشان ہیں) آپ بارش آنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاء فرمائیے! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم دعاء کے لئے اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کو اٹھائے اور یہ دعاء فرمانے لگے: اَللّٰهُمَّ
اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسائیے جس سے ہم کو فائدہ ہی فائدہ ہو، کوئی ضرر نہ ہو، الٰہی ایسی
بارش برسائیے جس سے ہر طرف سرسبزی ہی سرسبزی ہو جائے اور ایسی بارش ہو (جو حسب ضرورت
ہوتی رہے ایسا نہ ہو کہ ضرورت پر پھر رک جائے) اب دیر نہ کیجئے جلدی سے بارش برسائیے اس سے
زیادہ انتظار نہ کروائیے۔
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (یہ جمعہ کا واقعہ ہے) حضور دعاء کرنے کے بعد لوگ
ابھی جمعہ کی نماز سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ کثرت سے بارش ہونے لگی (اور دوسرے جمعہ تک
بارش ہوتی رہی) پھر لوگ حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے اور کثرت بارش کی شکایت کرتے
ہوئے عرض کئے: حضور (اس کثرت سے بارش ہوئی ہے کہ) مکانات گرنے لگے ہیں پھر حضور دعاء
کرنے لگے: اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا۔
الٰہی! ہمارے آس پاس (جہاں ضرورت ہو وہاں) بارش ہو (ہم کو اب ضرورت نہیں رہی ہے
اس لئے اب) ہم پر بارش نہ ہو۔
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور یہ دعا فرماتے ہی ہم دیکھ رہے تھے کہ ابر چھٹ گیا ہے اور
آبادی کے سیدھے جانب یا بائیں جانب چلا جا رہا ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1269 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.