اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2313
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:
اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تھا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی، بندہ عرض کرے گا: پروردگار!
میں کیسے آپ کی عیادت کرتا آپ رب العالمین ہیں (ایک لحظہ آپ عالم سے غافل نہیں ہوسکتے ہیں
،اگر آپ بیمار ہو جائیں تو عالم کی نگرانی نہیں ہوسکتی اس لئے نہ آپ بیمار ہوسکتے اور نہ میں آپ کی
بیمار پرسی کرسکتا) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اور تو نے
اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے ضرور اس کے پاس پاتا (اور میں تجھ پر رحمت
کرتا اور تجھ سے راضی ہو جاتا) ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، بندہ
عرض کرے گا: پروردگار! میں آپ کو کیسے کھانا کھلا سکتا تھا، حالانکہ آپ سارے عالم کے پرورش
کرنے والے ہیں (سب کو آپ ہی کھلاتے ہیں اور آپ نہیں کھاتے ہیں) اللہ تعالیٰ فرمائیں
گے: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تو نے اس کو کھانا نہیں
کھلایا، اگر تو اس کو کھانا کھلا دیا ہوتا تو ضرور اس کھلانے کا ثواب میرے پاس پاتا، ابن آدم! میں نے
تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، بندہ عرض کرے گا پروردگار! میں آپ کو کیسے پانی پلاتا
حالانکہ آپ رب العالمین ہیں (کسی چیز کے آپ محتاج نہیں ہیں، سب آپ ہی کے محتاج ہیں) اللہ
تعالیٰ فرمائیں گے: میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تو نے اس کو پانی نہیں پلایا سن! اگر تو اس
کو پانی پلایا ہوتا تو اس پانی پلانے کا ثواب میرے پاس پاتا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2569 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.