اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2358
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: بندہ کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی نہ کسی گناہ کی وجہ
سے پہنچتی ہے (اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس مصیبت کی وجہ سے بندہ کے گناہوں کو مٹا دیں،
مصیبت گو تم کو ناگوار معلوم ہوتی ہے مگر وہ تمہارے فائدہ کے لئے تم کو دی جاتی ہے تاکہ تم گناہوں
سے پاک و صاف ہو جاؤ، یوں نہ سمجھنا کہ تمہارے گناہوں کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ مصیبت بھیج
رہے ہیں بلکہ کچھ گناہ تو مصیبت کی وجہ سے مٹاتے ہیں اور باقی) اکثر گناہ اپنے فضل و کرم سے
معاف کر دیتے ہیں (اگر سب گناہوں کے لحاظ سے مصیبت بھیجتے تو تم اس کی برداشت نہیں کر سکتے
تھے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ کچھ گناہ مصیبت سے مٹاتے ہیں باقی اپنے فضل و کرم سے معاف
فرما دیتے ہیں، اس طرح بندہ کو پاک و صاف کر کے دنیا سے لے جاتے ہیں، اس کی تائید میں) حضور
صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت تلاوت فرمائے: ”وَمَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ
وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ“. (سورہ شوریٰ، پ:25، ع:4، آیت نمبر:30)
لوگو! جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے وہ تمہاری ہی گناہوں کی وجہ سے پہنچتی ہے۔
(اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو مصیبتوں کی وجہ سے گناہوں سے پاک و صاف کر دیں) باقی
بہت سے گناہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے معاف کر دیتے ہیں (اگر سب گناہوں کی وجہ
سے مصیبت اتارتے تو تم اس کی تاب نہ لا سکتے اس لئے)، بہت سے گناہ (اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم
سے معاف فرما دیتے ہیں۔) اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3252 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.