اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2359
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں تم میں سے جب کسی کو بخار آجائے تو بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے وہ اس کو
(ٹھنڈے) پانی سے بجھا دے (ٹھنڈے پانی سے بخار کو کس طرح بجھانا چاہئے اس کا طریقہ اس
طرح ارشاد ہو رہا ہے) کہ نہر جاری میں اس کی آمد یعنی بہاؤ کی طرف رُخ کر کے کھڑا ہو، (شاید کسی
وہمی کو اس علاج سے شبہ ہو اس کا وہم دور کرنے کے لئے یہ دعاء سکھائی گئی ہے کہ) پھر یہ دعاء پڑھے:
اللہ کے نام سے میں یہ علاج شروع کرتا ہوں، الٰہی آپ مجھے بخار سے شفاء دیجئے آپ کے
رسول جو فرمائے ہیں اس کو سچ کر دکھلائیے (اور وہمیوں کے وہم کو باطل کر دیجئے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2084 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(علاج کی تفصیل یہ ہے کہ) (1) یہ عمل صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے قبل کرے اور نہر میں 3 غوطے لگائے اور تین دن تک اسی طرح عمل جاری رکھے اگر تین دن کے اس عمل سے بخار دور نہ ہو تو پانچ دن تک ایسے ہی نہر میں غوطے لگاتا جائے اگر پانچ دن کے اس عمل سے بخار دور نہ ہو تو سات دن تک اسی طرح عمل کرتا رہے اور اگر سات دن کے غسل سے بھی بخار کم نہ ہو تو نو دن تک اسی طرح عمل کرتا رہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالباً بخار نو دن تک یہ عمل کرنے سے رک جائے گا اور پھر نہ آئے گا (اگر ڈاکٹری علاج نکلنے سے پہلے یونانی طبیبوں کے عہد میں سخت بخار کے وقت یہ کہا جاتا تھا کہ سر پر پانی کی پٹی یا برف کی پٹی رکھو تو اس وقت حدیث میں جو گفتگو ہو رہی ہے ویسی ہی اس وقت بھی چہ میگوئیاں ہوتیں مگر اب ڈاکٹری تجربہ سے معلوم ہوا کہ ہر قسم کے بخار کے شدت کے وقت پانی کی یا برف کی پٹی رکھی جائے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ بیحد فائدہ ہوتا ہے ایسا ہی نور نبوت سے مذکورہ جو علاج بتایا گیا ہے اس میں نا تجربہ کار طرح طرح کے شک پیدا کرتے ہیں اگر کوئی یہ عمل کرے اس کا فائدہ خود اس کو معلوم ہو جائے گا۔) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ (مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے عنایات اور سرفرازیاں جو تم پر ہیں ان کا اس سے اندازہ کرو۔)